1
Friday 15 Mar 2019 13:56

ایران عراق تعلقات کے نئے باب کا آغاز

ایران عراق تعلقات کے نئے باب کا آغاز
تحریر: امیر مسروری

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے حال ہی میں عراق کا تین روزہ دورہ انجام دیا ہے جس میں انہوں نے عراق کے صدر، وزیراعظم، پارلیمنٹ کے چیئرمین اور ملک کی اہم سیاسی اور مذہبی شخصیات سے ملاقات بھی کی ہے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت انجام پایا ہے جب خطہ انتہائی حساس مرحلے سے عبور کر رہا ہے جس کے باعث یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور خطے کی سیاسی صورتحال کیلئے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی صدر کے دورہ عراق کے مختلف شعبوں میں نتائج برآمد ہوں گے جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
 
1)۔ سکیورٹی شعبہ
اگرچہ ایران اور عراق ماضی میں آٹھ سال تک ایکدوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہو چکے ہیں لیکن جس چیز نے ایرانی اور عراقی عوام کے درمیان قربتیں بڑھائیں اور ان کے درمیان نہ ٹوٹنے والا تعلق قائم کیا وہ ایمان اور مذہبی اعتقادات ہیں۔ ایمان اور مذہبی اعتقادات کی بدولت عراق نے ایران کی مدد سے امریکی اتحاد کی شکل میں بیرونی دشمن اور داعش اور بعث پارٹی کی شکل میں اندرونی دشمن کا مل کر کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ عراقی حکام بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ جب عراق کو دہشت گردی کا بحران پیش آیا تو صرف ایران ایسا ملک تھا جو بغداد کے شانہ بشانہ کھڑا تھا اور ایرانی قوم نے عراقی قوم کے ہمراہ دشمن سے لڑتے ہوئے اپنے جوانوں کی قربانی دی۔ دوسری طرف امریکہ نے عراق سے سکیورٹی معاہدے اور عراقی فوج کیلئے ضروری اسلحہ کی فراہمی کے بدلے نقد پیسے دریافت کرنے کے باوجود دہشت گردوں کے مقابلے میں عراق کو اکیلا چھوڑ دیا۔ ایران نے اس مشکل وقت میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا مقابلہ کرنے کیلئے عراق کی مدد کی اور عوامی رضاکار فورس "حشد الشعبی" تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس وقت یہ رضاکار فورس سو سے زائد بٹالینز اور بریگیڈز پر مشتمل ہے اور ملک کا دفاع کرنے کیلئے تیار نظر آتی ہے۔
 
لہذا تہران اور بغداد کے درمیان سکیورٹی تعلقات خاص اہمیت کے حامل ہیں اور انہی تعلقات کے باعث آج دونوں ممالک تمام تر مشکلات اور جیوپولیٹیکل اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکہ کو خطے سے نکال باہر کرنے کیلئے آپس میں متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا دورہ عراق دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کی حوصلہ افزائی اور اسے مزید بڑھاوا دینے کا باعث بنے گا۔ ایران اور عراق میں دفاعی معاہدے طے پا جانے کے نتیجے میں عراقی فوج ایران سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی سازوسامان حاصل کرنے کے علاوہ فوجی مشیروں سے بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے اور ایران بھی زیادہ بہتر انداز میں مختلف سکیورٹی خطروں کے مقابلے میں عراق کا دفاع کر سکتا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ عراق میں ایک مستحکم دفاعی نظام اور مسلح افواج نہیں چاہتا کیونکہ اس طرح عراق میں باقی رہنے کا بہانہ امریکہ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ عراق کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مضبوط نہیں دیکھنا چاہتا تاکہ بغداد ہمیشہ اس جنگ میں واشنگٹن پر انحصار کرتا رہے اور امریکہ بھی اس بہانے اپنے سیاسی مفادات یقینی بناتا رہے۔
 
2)۔ سیاسی شعبہ
عراق عرب دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ملک ہے۔ عرب دنیا میں ایک محاورہ رائج ہے جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ "مصری لکھتے ہیں، لبنانی اسے شائع کرتے ہیں اور عراقی اس کا مطالعہ کرتے ہیں"۔ اس محاورے پر غور کرنے سے عرب دنیا کا ثقافتی پہلو نمایاں ہو جاتا ہے۔ جس دور میں بھی یہ تین عرب ملک مستحکم رہے ہیں اور کامیاب پالیسیوں کے حامل رہے ہیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسی حکومتوں کو سر اٹھانے کی جرات نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے عراق کی ترقی اور خودمختاری ایران کیلئے انتہائی درجہ اہمیت رکھتی ہے۔ عراق ایک طرف عرب دنیا میں جاری تنازعات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ دوسری طرف علاقائی تنظیموں جیسے عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل میں بھی موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اب تک عراق نے بحرین مسئلے میں انتہائی اہم کردار ادا بھی کیا ہے۔ لہذا ایران اور عراق کے درمیان سیاسی شعبے میں تعاون اور اتحاد دونوں ممالک کیلئے انتہائی مفید ثابت ہو گا۔
 
3)۔ اقتصادی شعبہ
اس وقت ایران اور عراق میں انجام پانے والی تجارت 8 ارب ڈالر کی حد بھی عبور کر چکی ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آئندہ دو برس میں یہ مقدار 20 ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کے پیش نظر ایران کیلئے بھی عراق سے اقتصادی تعلقات بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ایران عراق کے ذریعے اپنے تجارتی خطوط دمشق اور بیروت تک پھیلا سکتا ہے جو امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے حامی ممالک نے گذشتہ چند سالوں کے دوران کئی طریقوں سے عراق کو ایران سے دور کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کی یہ کوششیں مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔ دوسری طرف امریکہ بھی عراق اور ایران کے درمیان اقتصادی تعلقات کو ختم کرنے کی بھرپور کوششیں انجام دے رہا ہے۔ ایران کے صدر کی جانب سے عراق کا دورہ اور آئندہ چند ماہ میں عراق کے صدر کا متوقع دورہ ایران ان سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 783429
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب