0
Friday 22 Mar 2019 08:07

پھونکوں سے یہ چراغ

پھونکوں سے یہ چراغ
اداریہ
امریکہ کے لا ابالی، منہ پھٹ اور نیم پاگل صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے بالآخر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف عرصے سے جو تشہیراتی اور پروپیگنڈا جنگ شروع کر رکھی تھی، وہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ گویا امریکی صدر اس اعتراف سے دو باتوں کا اقرار کر رہے ہیں کہ ایک تو امریکہ نے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف باقاعدہ پروپیگنڈا مہم شروع کی تھی اور دوسری بات یہ ہے کہ وسیع سرمایہ گزاری کے باوجود اس جنگ میں بھی امریکہ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ امریکی صدر نے اس اعتراف کے بعد اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے چلائے جانے والے فارس زبان کے چینلز کو دیئے جانے والے بجٹ میں نمایاں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے ان چینلز کو چلانے والے ادارے یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کو تنبیہ کرتے ہوئے اس کو دیئے جانے والے سالانہ بجٹ میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس ادارے کے تحت معروف انقلاب مخالف فارشی چینل "صدائے امریکہ" آزاد یورپ ریڈیو اور فردا ریڈیو کا نام لیا جا سکتا ہے۔

یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا بظاہر اپنے آپ کو خود مختار کہتا ہے، لیکن امریکہ کے قومی بجٹ میں باقاعدہ اس کے لیے رقم مختص ہے اور امریکی گانگریس بھی اس کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق امریکی حکومت نے آزادی ریڈیو کے لئے 2019ء میں 120 ملین ڈالر کا بجٹ مخصوص کیا تھا، جسے 2020ء میں 81 ملین ڈالر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ "فردا ریڈیو" کا بجٹ چودہ ملین تین لاکھ تیس ہزار ڈالر تھا، اس کو کم کرکے چار ملین نو لاکھ چون ہزار کر دیا گیا ہے۔ ان دو بڑے میڈیا سینٹروں کے بجٹ میں نمایاں کٹوتی کے ساتھ امریکہ نے کئی دوسرے فارسی چینلوں کو بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ امریکی گانگریس نے بھی صدر امریکہ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ یہ چنیلز ایران کے خلاف امریکہ کے مفاد پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ بات امریکہ کی طرف سے فارسی زبان میں چلائے جانے والے چینلوں اور نشریاتی ادارون کی ہے، امریکہ اور اس کی خفیہ تنظیم سی آئی اے اس کے علاوہ دوسری زبانوں میں ایران مخالف میڈیا گروپوں سے جو بالواسط اور بلاواسط ایران مخالف پروپیگنڈا کر رہی ہے، اس کی تفصیلات کے لیے کئی کالم درکار ہیں۔

آج دنیا میں رابطوں اور کمیونیکیشن کی دنیا میں تبدیل ہوچکی ہے، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے دنیا کی ایک بڑی آبادی کو اپنے مکمل محاصرے میں لے رکھا ہے۔ آج جس کا میڈیا پر قبضہ ہے، وہ اپنی بات منوا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں میڈیا کے اندر صہیونی لابی کا عمل دخل کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن ان تمام حقائق اور اعداد و شمار کے باوجود امریکہ کا یہ اعتراف کہ کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ اپنے اہداف میں ناکام رہا ہے تو اس بات کو قبول کرنا پڑے گا کہ سچ اور حقیقت ایک روشنی کے مانند ہوتے ہیں، اس روشنی کو دبیز سے دبیز ترین پردوں میں عارضی طور پر تو چھپایا جا سکتا ہے، لیکن جب یہ روشنی ظاہر ہوتی ہے، چاہے وہ ایک معمولی شمع کی روشنی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور گرد کے گہرے اور تہہ در تہہ اندھیروں میں اپنے وجود کا اظہار کرنے میں ضرور کامیاب ہو جاتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 784637
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے