2
0
Friday 29 Mar 2019 10:35

ایران کی مستحسن خارجہ پالیسی

ایران کی مستحسن خارجہ پالیسی
تحریر: نصرت علی شہانی
nusrat235@gmail.com


’’اللہ کی زمین پر اللہ کا حکم‘‘ کی الہامی فکر کے تحت رسول اکرم ؐ نے حکمِ خدا سے مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی حکومت قائم فرمائی ۔شریعت و نظامِ محمدی تا قیامت ہے ۔ منشا ء الٰہی بھی یہی ہے کہ اس کی پوری کائنات میں اُسی کا نظام چلتا رہے مگر مختلف علل و اسباب اس میں مانع رہے۔ عادلانہ حکومت کا قیام انبیاء و رسلؑ کے جانشینوں یعنی آئمہ ،صحابہ کرام اور ذمہ دار علماء نے اپنی دینی ذمہ داری سمجھالیکن اعوان و انصار کی کمی و دیگر عوامل آڑے رہے۔21مارچ کے روزنامہ دنیا میں ایک معروف دانشور و کالم نگار نے ’’ایران کی متنازعہ خارجہ پالیسی‘‘ کے عنوان سے اظہارِ خیال کیا ہے۔اگر وہ اِس بارے فقط مخالفین کا ہی نکتہ نظر پیش کرنے کی بجائے اصل فریق کا مؤقف بھی معلوم کر لیتے تو یقیناًان کا اظہار خیال مختلف ہوتا۔فاضل کالم نگار نے ایران کی خارجہ پالیسی کے ’’متنازعہ‘‘ ہونے کے دعویٰ کے درج ذیل دلائل دیے ہیں:

1۔ انقلاب کے فروغ اور شرقِ اوسط کو تبدیل کرنے کی پالیسی
2۔ جارحانہ طریقے اپنانے کے سبب امریکہ سے جنگ آزمائی 
3۔ اسرائیل و عرب دنیا سے محاذ آرائی
4 ۔ توسیع پسندانہ عزائم
5۔ ایرانی عوام کی نظام کے خلاف بغاوت
6۔ عوام کے شعور و تبدیلی کے خواب کا نتیجہ
7۔ تباہ حال ایران

آخر میں انہوں نے انقلابی نظریہ سے دستبرداری کے ثمرات، فوائد و اثرات کی نوید بھی سنائی ہے۔ ان کے اٹھائے گئے نکات کے بارے نہایت احترام سے چند معروضات پیش کی جاتی ہیں: 1979ء میں علم و عمل کے پیکر جلیل القدر ہستی، آیت اللہ روح اللہ خمینی کی پاکیزہ فکر، شجاعت و اخلاص سے معمور قیادت کے نتیجہ میں ایرانی عوام نے اڑھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کو پاش پاش کر کے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی، جس کے انداز، طرزِ فکر و عمل اور پالیسیوں سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے مگر اس حقیقت سے نہیں کہ اس کی بنیاد قرآن و سنت کی الہامی تعلیمات ہیں جس کی بنا پر دنیا بھر کی مخالفتوں کے باوجود 40سال سے یہ نظام نہ صرف قائم ہے، بلکہ ہر میدان میں کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑکر تائید و نصرت الٰہی شاملِ حال ہونے کا ثبوت پیش کر رہا ہے۔

جہاں تک کالم نگار کی پہلی دلیل کا تعلق ہے اول روز سے ہی خطے کی غیر اسلامی بادشاہتوں اور ان کی سرپرست عالمی طاقتوں کا یہی بے بنیاد واویلا ہے کیونکہ رضا پہلوی کے زوال سے سب سے زیادہ کاری ضرب امریکی مفادات پر لگی اور اسے خدشہ لاحق ہوا کہ اس کی غلام خلیجی بادشاہتوں کو بھی کسی زوال کا سامنا نہ کرنا پڑے لہٰذا ایران پر یہی الزام تراشی ایک عرصہ سے کی جا رہی ہے جس کے دروغ محض ہونے کا ثبوت دنیا کے سامنے ہے کہ انقلاب کے اگلے ہی سال 1980ء میں صدام کے ذریعہ اس نو زائیدہ اسلامی حکومت کا خاتمہ کرنے کیلئے جنگ مسلط کر دی گئی جس میں خلیجی بادشاہتوں نے بھاری سرمایہ صرف کیا۔ 8سالہ طویل جنگ میں ایران تنہا تھا۔ اس جنگ میں امریکی سرپرستی کا اعتراف ان دنوں بغداد میں امریکی سفیر نے بھی کیا تھا اور چند سال بعد اقوامِ متحدہ نے بھی تسلیم کیا کہ ایران جارح نہیں بلکہ مدافع تھا۔

لہٰذا انقلابی حکومت جوکہ ابھی قدم جمانے نہ پائی تھی اس پر انقلاب کے فروغ اور شرقِ اوسط کو تبدیل کرنے کی پالیسی کذبِ محض ہے۔ انقلاب کے ان 40سال میں نہ تو کسی پڑوسی ملک کی ایک انچ زمین پر قبضہ کیا گیا اور نہ ہی کسی ملک میں ایران نوازوں نے کسی حکومت کا تختہ اُلٹا ۔ اسلام کے نظریہء حکومت کی ترویج اور بادشاہتوں کو غیراسلامی کہنا توسیع پسندانہ عزائم قرار نہیں دیاجاسکتا۔امام خمینی اور ان کے جانشین تو سیرت و فکر انبیاء ؑ کے پیرو ہیں، جوش جیسے رند کو بھی یہ ادراک تھا کہ اسلام کا شاہی سے تعلق کیا ہے؟۔ عراق و شام میں خونخوار داعشی دہشت گردوں کا مقابلہ، سعودی سفاکیت کے شکار مظلوم یمنی عوام کی دادرسی جہاں 85000 سے زائد معصوم بچے تڑپ تڑپ کر فریاد کرتے رہے ،فلسطینیوں کی مدد ہرگز توسیع پسندی نہیں، بلکہ اسلامی حکومت کا فریضہ ہے جس کی داد دینا چاہئے۔

امریکہ سے جنگ آزمائی میں بھی ایران کی پوزیشن دفاعی رہی ہے۔امریکہ جیسی سُپر پاور اعلانیہ طور پر کانگریس میں ایران کے خلاف بھاری بجٹ منظور کراتی رہی اور حکومت گرانے کے تمام حربے آزماتی رہی جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جارح کون ہے اور مدافع کونَ؟جمی کارٹر کے دور میں امریکی جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ فضائی دہشتگردی کرتے ہوئے تہران سے حکومتی شخصیات کے اغوا میں ناکامی کے بعد کارٹر کو بھی اعتراف کرنا پڑا کے خدا ایران کے ساتھ ہے۔ایران امریکہ محاذ آرئی کی سب سے نمایاں وجہ انقلابی حکومت کی اُن مظلوم فلسطینیوں کی واضح مدد و حمایت تھی جو اس کے ہم زبان تھے نہ ہم مسلک۔ اسرائیل دشمنی کی بھی اصل وجہ یہ ہے۔ایران کی خارجہ پالیسی قرآن و سنت کے اِس واضح حکم کی پیروی ہے کہ امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے، جس کے ایک عضو کا درد پورے بدن کو محسوس کرنا چاہیے۔

عرب ممالک نے نہ صرف اپنے ہم زبان ، ہم مسلک فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دیا بلکہ آج تک ان کے قاتل اسرائیل اور اسرائیل کے سرپرست امریکہ کی غلامی کی ذلت کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہیں اور ان شیطانی طاقتوں سے نبرد آزما ایران و حزب اللہ کے خلاف ہر مکر و حیلا میں پیش پیش ہیں۔ان تنازعات میں جہاں تک ایران کے قومی مفاد متاثر ہونے کا تعلق ہے ، یہی تو اسلامی حکومت کی داخلہ ،خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ ہے کہ حق کی حمایت کی جائے، مظلوم کا ساتھ دیا جائے چاہے مال منصب ،حکومت حتیٰ کہ جان بھی چلی جائے۔ہر صورت میں مفاد کا حصول ایک مادی انداز تفکر ہے اسلامی نہیں ۔اسلامی نظریہ کے تحت اقتدار اصل ہدف نہیں بلکہ اہداف کے حصول کا وسیلہ ہے ۔اصل ہدف اللہ کی رضا کیلئے اقتدار،طاقت ،وسائل کو اس کی راہ میں صرف کرنا، اعلائے کلمہ حق اور مظلوم کی مدد و نصرت کرنا۔درحقیقت ایران کی خارجہ پالیسی امام خمینی نے ہی ترتیب دی تھی جس کے تحت اسلامی ممالک کے ساتھ روابط بہتر بنانے کی تاکید کی تھی۔

یہ وہی خارجہ پالیسی ہے جس کا مشہور نعرہ ’’لا شرقیہ، لاغربیہ۔۔۔ جمہوریہ اسلامیہ‘‘ یعنی نہ تو امریکہ، برطانیہ جیسے مغربی استعمار کی اطاعت اور نہ ہی روس جیسے مشرقی کفر و الحاد سے وابستگی۔یہی پالیسی اب تک چل رہی ہے۔ ایران کے دونوں ہمسایہ مسلم ممالک پاکستان و افغانستان میں اس کے درجنوں سفارتکار، شہری، طلباء دہشتگردی کا شکار ہوئے لیکن ایران کی اسلامی حکومت نے کمالِ تحمل کا مظاہرہ کیا اور ان دونوں ممالک کے نہ تو ایران میں کسی شہری کو گزند پہنچائی گئی اور نہ ہی ان دونوں ممالک کی سر زمین میں جوابی اقدام کیا گیا۔ ایران نے عربوں سے محاذ آرائی نہیں بلکہ ہمیشہ دوستی کی کوشش کی۔ حرم الہٰی کعبہ میں سینکڑوں حاجیوں کے قتل عام اور تین سال قبل سعودی عرب کی طرف سے سفارتی تعلقات توڑے جانے کے بعدوزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل کی ثالثی کی پیشکش کو ایران نے قبول مگر سعودیہ نے مسترد کر دیا تھا۔

محاذ آرائی کا الزام پھر بھی ایران پر؟؟ ایرانی عوام نے نظام کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی۔عرب ممالک کے بر عکس ایران میں اختلاف رائے کے اظہار کی آذادی ہے۔ محدود افراد کے حکومت مخالف مظاہرے عوامی بغاوت نہیں کہے جا سکتے۔ لاکھوں عوام اپنی مخلص دینی قیادت سے وفاداری کے اظہار کے لئے سڑکوں پر آتے ہیں لیکن مغربی میڈیا اس کا بلیک آؤٹ کرتا ہے۔انگشت شمار قوم پرست پاکستان کی طرح ایران میں بھی ہیں جن میں عوام کا سامنا کرنے کی جرئا ت نہیں محض وال چاکنگ کر کے ’’مال‘‘ حلال کرتے ہیں۔ ایرانی عوام ہرگزکسی تبدیلی کے خواہاں نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں سے ملنے والے اس مقدس نظام کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے ہر وقت آمادہ ہیں۔

کالم نگار کی رائے کے بر عکس ایران ان پالیسیوں کی وجہ سے تباہ حال نہیں بلکہ بہت خوشحال ہے۔ علمی، صنعتی، ایٹمی، دفاعی ترقی میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ عوام کو دیگر مراعاتی پیکج کے ساتھ ہر ایرانی شہری کو چند ہزار روپے کے مساوی ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔130سے زائد ممالک کے ہزاروں دینی طلبا کی کفالت و سہولیات اس کے علاوہ ہیں۔ انقلابی نظریے سے دستبرداری کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ راہ حق سے ہٹنے کے فوائد و ثمرات کا لالچ ہر دور کے باطل نے اہل حق کو دیا مگر اہل حق نے ہمیشے اسے پائے حقارت سے ٹھکرایا۔ چند مشکلات کے ساتھ آزادی،خود مختاری سے سر اٹھا کر جینا ذلت و رسوائی کی امارت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔یہی اسلامی تعلیمات کاماحصل ہے جس سے عربوں اور ایران کی موجودہ حالت کا موازنہ کیاجا سکتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 785766
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سجاد مہدوی
Pakistan
مختصر لیکن عمدہ جواب!!!!!!!!
Iran, Islamic Republic of
احسنتم

شھانی صاحب
منتخب