0
Monday 1 Apr 2019 12:24

یکم اپریل ایک یادگار دن

یکم اپریل ایک یادگار دن
اداریہ

تاریخ میں بعض ایام کو آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکتا، ایران میں فروری ۱۹۷۹ء میں جب انقلاب کامیاب ہوا تو سب کی نظریں ایران کے آئندہ کے سیاسی نظام پر لگی ہوئی تھیں، علماء اور خالصتا مذہبی حلقے کی سربراہی میں کامیاب ہونے والے اس انقلاب کے مستقبل کے بارے میں ہر کوئی اپنی رائے دے رہا تھا، کوئی مذہبی ڈکٹیٹرشپ، کوئی صدرِاسلام کی طرح رسالت و امامت و خلافت کی طرز کی حکومت کا عندیہ دے رہا تھا، کوئی دور کی کوڑی لاتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ایران کے علماء انقلاب برپا کر کے دوبارہ مساجد، مدرسوں اور حجروں کی طرف پلٹ جائیں گے اور ایران میں کیمونسٹ طبقہ برِسرِاقتدار آ جائے گا۔  بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے سب کے تجزیوں اور اندازوں پر پانی پھیرتے ہوئے عوامی ریفرنڈم کا اعلان کر دیا کہ جو ایرانی عوام چاہے گی، وہی نظام اس ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ ایرانی عوام نے اس ریفرنڈم کے نتیجے میں ۹۸ فیصد سے زائد آراء سے اسلامی جمہوری نظام کے حق میں ووٹ دیا۔

امام خمینی سے بھی پوچھا گیا تو آپ نے بھی تاریخی جواب دیا "اسلامی جمہوریہ ایران" نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ۔ آج کا دن بھی یکم اپریل ۱۹۷۹ء کے تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے۔ جب ایران میں نئے نظام کے طور پر "اسلامی جمہوریہ" کا انتخاب کیا گیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ہونے والے ریفرنڈم اور یکم اپریل ۱۹۷۹ء کے تاریخی فیصلے کے بعد ایران میں اسلام  کی تعلیمات کی روشنی میں جو جموری عمل شروع ہوا تھا آج بھی جاری ہے۔ گذشتہ چالیس سالوں میں سخت سے سخت تر حالات حتیٰ جنگ کے عروج میں، بلکہ صدام کی طرف سے ایران کے بڑے شہروں میں ہوائی حملوں کی دوران بھی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوئے اور آئین کے عین مطابق جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار کے مراحل طے ہوئے۔ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی طرح بلدیاتی، خبرگان یعنی ماہرین کی کونسل اور شہروں کی سطح پر ہونے والے سٹی کونسلوں کے انتخابات بھی بروقت منعقد ہوتے رہے۔

اگر ایران میں جمہوری انتخابات کی تاریخ کا سرسری مطالعہ بھی کیا جائے تو گذشتہ چالیس برسوں میں ہر سال کوئی نہ کوئی جمہوری انتخابات منعقد ہوا، لیکن اس تمام جمہوری عمل کے باوجود جمہوریت کے مغربی ٹھیکیدار ایران کے جمہوری نظام پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، ان کے اپنے ممالک میں انتخابات میں "ٹرم آِئوٹ " چالیس سے اوپر نہیں جاتا اور ایران کے انتخابات میں عوامی شرکت اسی فیصد سے نیچے نہیں آتی۔ اس کے باوجود ایران کی اسلامی جمہوریت کو سراہا نہیں جاتا۔ دوسری طرف امریکہ سمیت مغربی ممالک جن عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، بحرین وغیرہ کے ہم پیالہ و ہم نوالہ ہیں، وہاں جمہوریت کی "ج" بھی موجود نہیں۔ یکم اپریل ایران میں سرکاری سطح پر یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چالیس سال قبل بارہ فروردین بمطابق یکم اپریل ۱۹۷۹ء کے دن ایرانی عوام نے پورے شعور و آگہی کے ساتھ ریفرنڈم میں شرکت کر کے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ دیا تھا اور آج یہ نظام اسلامی و جمہوری قوتوں کے لیے رول ماڈل بن چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 786248
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے