1
Monday 6 May 2019 16:46

غزہ کی دو روزہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا ضعف عیاں

غزہ کی دو روزہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا ضعف عیاں
تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)

غزہ کی پٹی فلسطین کی تاریخی سرزمین کا صرف دو فیصد حصہ ہے لیکن اس کے باوجود وہاں بسنے والے غیور فلسطینیوں نے اسرائیل اور امریکہ کی ناک زمین پر رگڑ دی ہے۔ وہ انتہائی شجاعت اور مردانگی سے 400 ملین عرب باشندوں اور 1.5 ارب مسلمانوں کے مقدس مقامات اور سرزمین کے دفاع میں مصروف ہیں جبکہ انہیں کسی سے حوصلہ افزائی کرنے اور تعریف و تمجید کی توقع بھی نہیں۔ یہ مبارک راکٹ اور میزائل جو غزہ کی پٹی سے فائر کئے گئے اور اسرائیلی فوجیوں سمیت کئی فوجی گاڑیوں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے دو اہم پیغامات کے حامل تھے۔ ان کا ایک پیغام امریکی صہیونی بلاک کے اس "سینچری ڈیل" نامی نام نہاد امن منصوبے کیلئے تھا جس کے ذریعے نیل سے فرات تک وسیع اسرائیل تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان راکٹس اور میزائلوں کا دوسرا پیغام ان عرب حکمرانوں کیلئے تھا جو اسرائیل سے سازباز کی دوڑ میں ایکدوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے بنجمن نیتن یاہو کو اپنا لیڈر اور محافظ بنا رکھا ہے۔
 
میں گذشتہ چند دنوں کے دوران غزہ کی پٹی میں اپنے دوستوں سے مسلسل رابطے میں تھا اور اس دوران انہوں نے جو کچھ مجھ سے کہا اس کا نچوڑ یہ بنتا ہے کہ "آپ ہمارے بارے میں پریشان نہ ہوں، ہمیں آپ لوگوں کی حالت پر افسوس ہو رہا ہے، آپ اپنے بارے میں کچھ سوچیں، ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں اور ہم میں سے کوئی نہ تو خوفزدہ ہے اور نہ ہی وحشت کا شکار ہے۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آخر تک استقامت اور مزاحمت کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ دشمن جنگ بندی کا خواہاں ہے نہ ہم۔ ہم استقامت کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر شہید ہونے کی آرزو رکھتے ہیں۔ استقامت اور مزاحمت کی حالت میں زندہ رہنا عزت مندانہ ہے۔" فلسطین کے سابق وزیر انصاف فریح ابومدین اس بارے میں کہتے ہیں: "غزہ کی پٹی میں معمول کے مطابق روزمرہ زندگی جاری ہے۔ بچے آسمان پر دشمن کے جنگی طیاروں کا نظارہ کرنے، مجاہدین کی جانب سے فائر کئے گئے میزائلوں کی شناخت کرنے اور اسرائیلیوں کا جانی نقصان گننے اور ان کی فولادی ڈھال میں سوراخ ہونے کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہیں۔
 
غزہ کی عوام کا اصلی مسئلہ اسرائیل نہیں بلکہ رام اللہ میں حکمفرما فلسطین اتھارٹی ہے جو مغربی انداز میں بات کرتی ہے۔ وہ ایک طرف بین الاقوامی اداروں سے مدد کی اپیل کرتی ہے جبکہ دوسری طرف غزہ کے محاصرے میں غاصب صہیونی رژیم اور اس کی اتحادی عرب حکومتوں کے شانہ بشانہ سرگرم عمل ہے۔ جو عرب حکمران جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہیں وہ بھی فلسطینی عوام سے مخلص نہیں ہیں بلکہ اسرائیل اور اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کیلئے پریشان ہوتے ہیں۔ یہ اہم نہیں کہ کون جنگ شروع کرنے والا ہے بلکہ فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں کو اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے انتہاپسندانہ اقدامات، غزہ کی پٹی میں پرامن احتجاج کرنے والے بیگناہ افراد کے قتل، جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزیوں، غزہ میں بسنے والے دو کروڑ مسلمان عوام کے خلاف شدید محاصرے اور اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فائرنگ کر کے بیگناہ فلسطینیوں کا خون بہانے کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔
 
غزہ کی پٹی میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کے سربراہان خطے کی عوام کی طرح اس حقیقت کو محسوس کر چکے ہیں کہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور وہ اس زبان میں بات کرنے کے استاد بن چکے ہیں۔ اس زبان کا پہلا لفظ "جہاد"، دوسرا "کامیابی" اور تیسرا "شہادت" ہے جبکہ چوتھا لفظ "عزت مندی" ہے۔ فلسطینیوں کی عزت اور خوداعتمادی کی فہرست طولانی ہے۔ گذشتہ چند دن کے دوران اسرائیل اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کے درمیان جاری جنگ میں اسلامی مزاحمت کو چار بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ پہلی کامیابی یہ ملی ہے کہ اگر ہم نہ کہیں کہ دشمن کی دفاعی طاقت ختم ہو چکی ہے تو بہت کمزور ضرور ہو گئی ہے۔ اسلامی مزاحمت اسرائیل پر اپنی مرضی تھونپنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور جنگ اس کے اشارے پر آگے بڑھ رہی ہے۔ دوسری کامیابی یہ ہے کہ اس وقت لاکھوں اسرائیلی اپنی جان کے خوف سے مقبوضہ فلسطین کے جنوبی حصے خالی کر کے شمال کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جیسا کہ اسلامی مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ وہ تل ابیب کو بھی نشانہ بنائیں گے تو ایسی صورت میں صہیونیوں کی نقل مکانی کا سلسلہ مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے۔
 
حالیہ جنگ میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی تیسری کامیابی قریب الوقوع دو عالمی سطح کے پروگرامز کو متاثر کرنا ہے۔ ایک یورو ویژن ہے جو تل ابیب میں منعقد ہونے والا ہے اور اس میں دنیا بھر سے ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ یہ پروگرام گانے بجانے اور موسیقی سے متعلق ہے۔ دوسرا اہم پروگرام غاصب صہیونی رژیم کی سالگرہ کی تقریب ہے۔ اگر حالیہ جنگ مزید دو ہفتے تک جاری رہتی تو یہ پروگرام کینسل ہو جانے تھے اور عالمی سطح پر اسرائیل کو ایک فاشسٹ اور امن کی دشمن رژیم کے طور پر متعارف کروایا جاتا۔ ایسی رژیم جو جنگی جرائم کے ارتکاب کے ذریعے خطے اور دنیا میں عدم استحکام اور تناو کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اسلامی مزاحمت کو نصیب ہونے والی چوتھی کامیابی یہ ہے کہ ایسی عرب حکومتیں جو اسرائیل سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کا خواب دیکھ رہی ہیں اپنی عوام کی جانب سے شدید مخالفت سے روبرو ہوں گی اور عوامی دباو کا شکار ہو جائیں گی۔ خاص طور پر اگر اسلامی مزاحمتی گروہوں کے مقابلے میں اسرائیل کی کمزوری سب پر عیاں ہو جاتی ہے تو عوام کو مزید حوصلہ ملے گا۔ بالکل ایسے جیسے ایران کے مقابلے میں امریکہ کی کمزوری سب پر عیاں ہو چکی ہے اور سب دیکھ چکے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تیل کی برآمدات کو زیرو کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ لہذا اب ان عرب حکومتوں کی سیاسی اور اخلاقی حماقت واضح ہو جائے گی جو یہ سوچ بیٹھی تھیں کہ عرب قوم اور اسلامی مزاحمتی ثقافت کمزور ہو چکی ہے۔
 
ہم نہیں جانتے کہ اسرائیل کے شہروں اور بستیوں پر اسلامی مزاحمت کے 600 راکٹ گرنے کے بعد رابطۃ العالم الاسلامی کے سربراہ اور آل سعود رژیم کیا محسوس کر رہے ہوں گے۔ دوسری طرف اسرائیلی جنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شیرخوار بچے اور حاملہ خواتین شہید ہو چکی ہیں۔ یہ سب کچھ آل سعود رژیم کی جانب سے ایک یہودی اسرائیلی وفد کو آئندہ برس مکہ مکرمہ میں اس اسلامی انجمن کی جانب سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دیے جانے پر مبنی خبر شائع ہونے کے صرف دو روز بعد انجام پایا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ اس انجمن کا سربراہ اور اکثر سعودی حکمران ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ان کا ملک اسرائیل سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے والا آخری ملک ہو گا۔ ملت فلسطین خون، شہدا اور اسرائیل کے فولادی گنبد کی تحقیر کرنے والے میزائلوں سے جواب دے چکی ہے اور اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گی۔ حال ہی میں فلسطینی مجاہدین نے اسرائیل کی ایک فوجی گاڑی کو کورنٹ میزائل سے نشانہ بنایا ہے جبکہ دوسری طرف تہذیب یافتہ اسرائیلی فلسطینی بچوں اور حاملہ خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
 
میں مصر کو حالیہ جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دیکھ کر دو وجوہات کی بنا پر متاثر ہوا ہوں۔ ایک تو یہ کہ اس کی جانب سے ایسا کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ غزہ کی پٹی اس وقت اسرائیلی قبضے میں گئی جب وہ مصر کے زیر کنٹرول تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب اسرائیل گذشتہ جنگ بندی کے معاہدوں کا پابند نہیں رہا اور اس نے الٹا غزہ کا محاصرہ پہلے سے زیادہ شدید کر دیا ہے اور حق واپسی مظاہروں میں شامل ہونے والے دسیوں فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسرائیل نے مصر اور غزہ کی پٹی کی توہین کی ہے۔ ہم غزہ میں مقیم فلسطینی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہمارے دلوں میں امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ بعد اپنی معجزہ نما استقامت اور مزاحمت کے ذریعے ہم سب کو حیران کر دیتے ہیں۔ وہ ماہ مبارک رمضان کے آغاز پر ظلم کے مقابلے میں اپنی وحدت اور ایثار کا جشن مناتے ہیں۔ کیا ان پر فخر محسوس کرنا اور ان کی شجاعت کی خاطر سر اٹھا کر چلنا ہمارا حق نہیں بنتا۔ انہوں نے ایسے وقت غاصب صہیونی رژیم کی ناک زمین پر رگڑی ہے جب بہت سے ان کے پاوں پر بوسے کر کے ان سے اپنی حفاظت کی بھیک مانگ رہے تھے۔
 
خبر کا کوڈ : 792566
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے