0
Tuesday 7 May 2019 08:08

رمضان المبارک اور اقتصادی ناکہ بندی

رمضان المبارک اور اقتصادی ناکہ بندی
اداریہ
اسلام دین کامل اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ دین اسلام میں جہاں انفرادی عبادات کی اہمیت ہے، وہاں اجتماعی عبادات پر بھی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ رمضان المبارک کے روزے انفرادی اور اجتماعی دونوں عبادات میں شمار ہوتے ہیں۔ روزہ رکھنا ایک زاویئے سے ممکن ہے انفرادی عبادت ہو، لیکن حقیقی روزے کے اجتماعی اثرات معاشرے اور اجتماع کے لیے بہت زیادہ موثر ہیں۔ روزے کے اجتماعی اثرات میں غریبوں، فقیروں اور بے نوائوں کی مدد اور ان سے عملی اظہار ہمدردی ہے، لیکن کیا روزے رکھنے اور اپنے بدن کو بھوک، پیاس اور سختیوں کا عادی بنانے کا صرف یہی فلسفہ ہوسکتا ہے کہ انسان کا نطام ہضم صحیح ہو جائے اور بعض جسمانی بیماریاں دور ہو جائیں۔ اسلام جیسے کامل دین میں اتنی بڑی عبادت کا اتنا محدود فلسفہ اور کم تر علت نہیں ہوسکتی۔

ایک ماہ تک بھوک پیاس اور سختیوں کو برداشت کرنے کے کئی فلسفے ہوسکتے ہیں، اس میں ایک اپنے دین اور نظریئے کے دفاع کے لیے اپنے آپ کو سخت ترین حالات یعنی بھوک اور پیاس کی حالت میں دشمن سے مقابلہ کے لیے تیار کرنا بھی ہے۔ جنگ کے دوران ایسے حالات بھی آسکتے ہیں کہ جب بھوک، پیاس اور مشکلات میں دشمن کا مقابلہ کرنا پڑے۔ ایسی صورت میں جو شخص روزے کی تمرین کیوجہ سے سختیوں نیز بھوک اور پیاس کا عادی ہوگا، وہ دشمن کے خلاف بھوک اور پیاس کی حالت میں بھی اپنی جنگ کو جاری رکھ سکتا ہے۔ اسی مفہوم کو اگر وسیع مفہوم میں لیا جائے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر دشمن اقتصادی لحاظ سے بہت زیادہ قوی ہو تو روزہ کی عادت اور پریکٹس دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کی قوت و صلاحیت پیدا کرسکتی ہے۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی زندگی میں جب امریکہ نے اقتصادی ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی تھی تو امام خمینی نے فرمایا تھا کہ دشمن نہیں جانتا کہ "ما فرزند رمضان ایم" یعنی ہم رمضان کے فرزند ہیں، یعنی روزے نے ہمیں بھوک اور پیاس کی تمرین کرا دی ہے، ہمارے خلاف کتنی پابندیان عائد کرسکتے ہو، ہم تو بھوک اور پیاس کی حالت میں بھی ظلم و ستم کے خلاف اپنے جہاد کو جاری رکھ سکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رمضان المبارک کی ایک اور برکت قرآن پاک جیسی انسان ساز کتاب کا اس ماہ مبارک میں نزول ہے۔ اس کتاب میں بھی کفر و شرک کی طاقتوں کے خلاف قیام پر تاکید ہے اور اس میں "ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون" خوف اور حزن سے دوری اختیار کرنے کی بات کی گئی ہے۔ جس قوم میں خدا کے راستے میں خوف اور حزن ختم ہو جاتا ہے تو اس کو نہ امریکی دھمکیاں جھکا سکتی ہیں اور نہ ہی امریکی جنگی بحری بیڑہ اہراہم لنکن خوفزدہ کرسکتا ہے۔ اسی فلسفے کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں اشارہ فرمایا ہے کہ شیاطین اور کفار پر غلبہ پانے کا واحد راستہ قرآن پر عمل اور استقامت ہے۔
خبر کا کوڈ : 792686
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے