0
Friday 24 May 2019 19:21

سینچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(2)

سینچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی نیم خود مختار انتظامیہ کے سربراہ اور ماضی میں امریکہ اور غاصب صہیونی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر تاکید کرنے والے فلسطینی رہنما محمود عباس بھی راضی نہیں ہیں۔ محمود عباس کی طرف سے ٘مخالفت میں اس قدر شدت دیکھنے کو مل رہی ہے کہ وہ اس منصوبے کی قبولیت کو سیاسی خودکشی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ فلسطین کے مختلف استقامتی گروہ بھی اس پر متفق نظر آرہے ہیں کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے پر ہرگز تیار نہیں ہیں۔ حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ خالد مشعل کا کہنا ہے کہ سینچری ڈیل نامی منصوبے کا چاہے اعلان ہو یا نہ ہو، یہ قابل نفاذ نہیں ہے اور جس طرح پہلے مختلف منصوبے ناکام ہوئے ہیں، یہ منصوبہ بھی ناکامی سے دوچار ہوگا۔ فلسطین کی ںیم خود مختار انتظامیہ نے بھی اس وقت سے امریکہ سے اپنے تعلقات معطل کر رکھے ہیں، جب سے اس نے بیت المقدس کو صہیونی حکومت کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ حماس کی طرح جہاد اسلامی بھی اس سینچری ڈیل کو سختی سے مسترد کرچکی ہے۔

فلسطین کی تمام تنظیمیں تو اس سینچری ڈیل کی مخالف ہیں، لیکن بعض عرب ممالک مختلف طرح کا لالچ دے کر اس منصوبے پر فلسطینی تنظیم کو راضی کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کو لالچ دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ سینچری ڈیل کو قبول کر لیں تو نہ صرف غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کر دیا جائے گا بلکہ بہت سی اقتصادی اور معاشی حمایت بھی کی جائے گی۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ محمود عباس اور ان کی جماعت کی طرف سے مخالفت کا سینچری ڈیل کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا اور امریکہ سے تعلقات کی معطلی بھی اس منصوبے کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ ثابت نہیں ہوگی۔ دوسری طرف تجزیہ نگاروں کے ایک بڑے گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطین کی وہ تنظیمیں جو استقامت و مقاومت کی راہ پر گامزن ہیں، وہ اس کے خلاف ڈٹ جائیں گی۔ فلسطینیوں کی مقاومت امریکی اور صہیونی منصوبوں کو ناکام اور برملا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گی اور خطہ میں صہیونیت نواز طاقتیں عوامی سطح پر بدنام ہو کر کمزور پڑ جائیں گی اور انہیں اپنے فیصلوں اور منصوبوں کے حوالے سے نظرثانی کرنا پڑے گی۔

سینچری ڈیل کا نفاذ ایک نئی انتفاضہ تحریک کا باعث بن سکتا ہے، جس کی ایک مثال 30 مارچ سے جاری واپسی مارچ ہے، جو شدید قربانیوں کے باوجود بدستور جاری ہے اور سینکڑوں قربانیوں کے باوجود ہزاروں فلسطینی ہر جمعے کو ایک بڑی تعداد میں ان مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں۔ ان مظاہروں کو کئی ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے، لیکن ان مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے۔ جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے اپنے خون کے آخری قطرے تک میدان میں رہنے کا عزم بالجزم کرچکی ہے۔ واپسی مارچ میں فلسطینی عوام کی مسلسل شرکت اور تمام تر قربانیوں کے باوجود میدان میں رہنے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فلسطینی اپنے وطن کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور وہ فلسطین کی آزادی اور اپنی مقبوضہ سرزمینوں کو واپس لینے کے لیے اپنی کوشش کو جاری ساری رکھیں گے۔

فلسطین کی استقامتی تحریک نے اگر سینچری ڈیل کے خلاف مقاومت و استقامت کی پالیسی اپنائی تو فلسطینی عوام کی طرف سے انہیں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوگی۔ عوام کی وسیع حمایت کی وجہ سے خطے کی سیاست پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے اور وہ عرب ممالک جو غاصب اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں، عرب عوام کی طرف سے ان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف سنچری ڈیل کے خلاف مقاومت اور مزاحمت میں مزید شدت آئے گی اور فلسطینی باشندے اس کے لئے ایک بڑی اور طویل جنگ کے لیے آمادہ و تیار ہو جائیں گے۔ فلسطینی عوام اپنی قربانیوں اور مسلسل میدان میں رہنے سے فلسطین دشمن عناصر کی ان سازشوں کو ناکام بنا دیں گے، جو فلسطین کی جغرافیائی یا مذہبی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے انجام پا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے کہنے پر جب بیت المقدس کو صہیونی حکومت کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان ہوا تھا تو مختلف اسلامی ممالک میں اس کے خلاف علامتی مظاہرے ہوتے تھے، لیکن سینچری ڈیل کے خلاف امت مسلمہ میں شدید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

دوسری طرف سینچری ڈیل کی وجہ سے تمام استقامتی گروہ ایک پیچ پر آسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے خلاف استقامت و مقاومت میں مزید شدت اور تیزی آئے گی اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ ممالک جنھوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے میں امریکہ اور صہیونی حکومت کا ساتھ دیا، ان ممالک میں مظاہروں اور احتجاجات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جائے۔ جیسا کہ 2011ء میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں احتجاج ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے داماد کوشنر اس ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے بعض عرب ممالک کے مسلسل دورہ جات پر رہتے ہیں اور اس حوالے سے محمد بن سلمان اور ان کی پے درپے ملاقاتیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امریکی صدر کوشش کر رہے ہیں کہ سینچری ڈیل نامی منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے تمام توانائیوں کو بروئے کار لائیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور اس کی ٹیم کو اس کی پیچیدگیوں کا ذرا برابر ادراک نہیں۔

صدر ٹرمپ کو مقاومت کی طاقت و قوت نیز اس کی عوامی حمایت کا صحیح اندازہ نہیں۔ بعض ممالک کو ان پیچیدگیوں کا احساس ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے صہیونی حکومت کے دارالحکومت کو بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی فیصلے کا ساتھ نہیں دیا ہے۔ سینچری ڈیل کے نفاذ کی کوشش کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں ناامنی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوگا اور ناامنی کی یہ آگ اسرائیل کے دامن تک ضرور پہنچے گی۔ سینچری ڈیل کے بارے میں ابھی تک کوئی مستند دستاویز سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی منصوبے میں باقاعدہ ترتیب سے ان اہداف کا تحریری ثبوت ملتا ہے، اس کے باوجود امریکی اور صہیونی احکام نیز بعض آگاہ ذرائع وقتاً فوقتاً بعض اہداف و مقاصد کو منظر عام پر لاتے رہتے ہیں۔ بعض ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سینچری ڈیل کے تحت فلسطین کی جو نئی ریاست قائم کی جائے گی، اس کے پاس نہ فوج ہوگی، نہ کسی قسم کے ہتھیار۔ حماس سے ہتھیار لیکر مصر کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔ غرب اردن "ویسٹ بنک" کے علاقے اور غزہ کے درمیان ایک پل بنا کر ان دونوں کو ملا دیا جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ اگر فلسطینیوں نے اس منصوبے کو نہ مانا تو ان کو دی جانے والی امداد روک دی جائے گی۔ بظاہر یہ منصوبہ 2017ء میں سامنے آیا، لیکن سوائے ٹرامپ کے داماد جراڈ کوشنر کے اس معاہدے کی تفصیلات کسی کے پاس نہیں۔ امریکہ نے شروع میں اس منصوبے کو مشرق وسطیٰ میں اپنی پہلی ترجیح قرار دیا اور فلسطینی کاز کے حامی ممالک یعنی استقامتی بلاک کو دوسرے مسائل میں الجھا کر خاموشی سے انجام دینے کا پروگرام بنایا تھا، لیکن امریکہ کو اس بات کی ہرگز امید نہ تھی کہ شام اور عراق کا مسئلہ اتنی جلدی ہو جائے گا۔ امریکی تھنک ٹینک کے اندازوں کے مطابق داعش کو مزید پندرہ بیس سالوں تک شام، عراق، لبنان وغیرہ میں اپنے عملی وجود کا اظہار کرنا ضروری تھا، تاکہ استقامتی بلاک کی توجہ ان مسائل پر رہے اور امریکہ خاموشی سے سینچری ڈیل کے مختلف مراحل کو لاگو کر دے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور استقامتی بلاک نے امریکی اور صہیونی اندازوں سے بہت جلد داعش، جبھۃ النصرہ، تحریر الشام اور اس طرح کے دیگر گروہوں کو مشرق وسطیٰ میں اس قدر کمزور کر دیا کہ اب وہ مزاحمتی بلاک کے لیے کوئی سنجیدہ ہدف نہیں رہے ہیں اور مزاحمتی بلاک ایک بار پھر پوری طرح اسرائیل کے غاصبانہ اہداف و مقاصد پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان حالات میں ایران کے خلاف جنگ کے حالیہ ماحول کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 795820
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے