0
Tuesday 28 May 2019 11:34

سینچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(3)

سینچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(3)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
سینچری ڈیل کو بعض تجزیہ نگار بالفور معاہدہ کی طرح انتہائی اہم اور دورس نتائج کا حامل قرار دے رہے ہیں اور بعض ماہرین تو اسے بالفور ڈیکلریشن کی تکمیل قرار دے رہے ہیں۔ اس میں جس انداز سے اسرائیل کو مضبوط بنانے کے لیے فلسطین کے حصے بخرے کیے جائیں گے، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس منصوبے میں فلسطینی ریاست، غزہ پٹی، غرب اردن کے بعض حصوں، مشرقی بیت المقدس کے چند محلوں اور ابودیس نامی شہر پر مشتمل ہوگی اور اس کا دارالحکومت بھی ابو دیس شہر ہوگا۔ نئی تشکیل پانے والی یہ فلسیطنی ریاست اور اردن اس علاقے میں موجود مساجد کا نظام سنبھالیں گے۔ سینچری ڈیل میں اسرائیل بھی مقبوضہ فلسطینی یہودیوں کا ملک ہوگا اور اسرائیل غرب اردن کے بڑے حصے کی سکیورٹی کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے علاوہ سرحدی گرزگاہیں اور بائی پاس بھی اسرائیلی فورسز کے کنٹرول میں ہوں گے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ نئی فلسطینی ریاست غزہ پٹی اور ویسٹ بینک کے کچھ حصوں نیز مشرقی بیت المقدس کے چند محلوں پر مشتمل ہوگی، لیکن کسی بھی فلسطینی کو ان علاقوں میں واپسی کا حق نہیں دیا جائے گا۔ سینچری ڈیل میں فلسطینی مہاجرین اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کا کوئی باب ہی موجود نہیں ہے۔

اس معاملے کے بارے میں فلسطین کے سینیئر مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا ہے کہ اس میں
1۔ قدس شریف کو صہیونی حکومت کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔
2۔ اسرائیل کو ایک مکمل یہودی ملک قرار دیا گیا ہے "حالانکہ اس وقت اقوام متحدہ اس کو غیر یہودی ڈیمو کریٹک ملک کی حیثیت سے قبول کرتی ہے۔"
3۔ ایسا فلسطین تشکیل پائے گا، جس کی نہ کوئی فوج ہوگی، نہ فلسطینیوں کے پاس کسی قسم کا اسلحہ ہوگا۔
4۔ اہم شراہیں اور بائی پاسز پر بھی اسرائیلی سکیورٹی ہوگی۔
5۔ غرب اردن کا بھِی دس فیصد علاقہ اسرائیلی ریاست میں شامل کر دیا جائے گا۔
6۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان باقاعدہ سرحدی لائن اور طے شدہ بارڈر بنایا جائے گا، جس میں صہیونی بستیوں کو اسرائیلی سرحد میں شامل کیا جائے گا۔
7۔ اسرائیل کے حصے میں آنے والی سرزمینوں میں بسنے والے فلسطینیوں کو صحرائے سینا منتقل کر دیا جائے گا، تاکہ اسرائیل ایک خالص یہودی نشین ریاست بن سکے۔
8۔ کسی بھی فلسطینی مہاجر یا پناہ گزین کو واپسی کا حق نہیں ہوگا۔
9۔ علاقے میں موجود آبی ذخائر، فضائی حدود، الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ، اسرائیل کی سکیورٹی اور نگرانی میں ہوگا۔

سینچری ڈیل میں داخلی اور بیرونی عوامل کا اگر ذکر کیا جائے تو نیتن یاہو اور دائیں بازو کے انتہاء پسند دھڑے اس مقابلے کے اہم عناصر ہیں۔ بائیں بازو کے دھڑے اس پر خاموش ہیں۔ تل ابیب کی ایک یونیورسٹی کے سروے کے مطابق اسرائیلی آبادی کا 74 فیصد اس منصوبے کی کامیابی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ وہ اسے شکست خوردہ معاملہ سمجھتے ہیں۔ خارجی عناصر میں امریکہ، برطانیہ پیش پیش ہیں، جبکہ ڈونالڈ ٹرامپ کے داماد کوشنر بن سلمان سمیت کئی عرب حکمرانوں کو اس ڈیل پر راضی کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ علاقائی ممالک میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بہت نمایاں اور شفاف ہے اور وہ فلسطین میں تمام جارح اور قابض قوتوں کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتے اور فلسطین میں ریفرنڈم پر یقین رکھتے ہیں، تاکہ فلسطین کے اصلی باشندے اپنی سرزمین کے بارے حتمی فیصلہ کریں، لہذا ایران سینچری ڈیل سمیت کسی بھی صہیونی یا امریکی منصوبے حتیٰ فلسطین کی سرزمین کے بارے میں کسی قسم کے مذاکرات کو بھی فلسطینی حقوق کی پامالی تصور کرتا ہے۔

خطے کا ایک اور ملک شام جو گذشتہ سات آٹھ برسوں میں بیرونی دہشت گردی کا شکار رہا، اب دوبارہ خطے کی سیاست میں اپنے کردار کو زندہ کر رہا ہے، شام اس سے پہلے بھی فلسطینی مجاہدین اور پناہ گزینوں کا مرکز تھا، حالیہ بحران کے بعد تو بشار الاسد پر استقامتی بلاک کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے اور وہ استقامتی بلاک کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔ ایسے میں شام کی طرف سے سینچری ڈیل کی مخالفت لازمی امر ہے۔ شام نے گولان ہائیٹس کی واپسی کے مطالبہ میں بھی شدت پیدا کر دی ہے۔ ٹرامپ کی طرف سے گولان ہائٹس کو اسرائیل کی ملکیت قرار دینے پر بشار حکومت میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شامی حکومت امریکی اور صہیونی منصوبوں کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 796479
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب