1
Tuesday 28 May 2019 18:27

اقتصاد کی آڑ میں سینچری ڈیل کا پرچار

اقتصاد کی آڑ میں سینچری ڈیل کا پرچار
تحریر: محمد مرادی

وائٹ ہاوس نے سینچری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پہلا قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکہ اور بحرین نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 25 اور 26 جولائی کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کانفرنس کا مقصد مقبوضہ فلسطین میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان اور اعلی سطحی حکام اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ لیکن اس کانفرنس کے حقیقی اہداف کیا ہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں موجودہ امریکی حکومت مسئلہ فلسطین کو اپنے پیش کردہ منصوبے "سینچری ڈیل" کے تحت حل کرنا چاہتی ہے۔

فی الحال تمام فلسطینی گروہوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے جن میں اسلامی مزاحمتی گروہ بھی شامل ہیں اور اسرائیل سے مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے حامی گروپس بھی شامل ہیں۔ حتی فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے بھی سینچری ڈیل نامی منصوبے کی مخالفت کا اظہار کیا ہے جو ہمیشہ اسرائیل سے مذاکرات اور بات چیت پر زور دیتے آئے ہیں۔
 
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے صدی کی ڈیل نامی منصوبے کی بعض منظرعام پر آنے والی شقوں میں سے ایک شق یہ ہے: "مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر "جدید فلسطینی ریاست" تشکیل دی جائے گی۔ ان علاقوں میں موجود یہودی بستیاں اسرائیل کو دے دی جائیں گی اور جدید فلسطینی ریاست کو مسلح افواج رکھنے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ مزید برآں، جلاوطن فلسطینیوں کی وطن واپسی کا حق بھی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔" درحقیقت سینچری ڈیل نامی منصوبہ اسرائیل کے مفادات کے حق میں ہے اور اس کے ذریعے مقبوضہ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو مشروعیت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ منصوبہ گذشتہ سالوں میں عالمی برادری کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی، علاقائی اور مقبوضہ فلسطین کی اندرونی سطح پر اس منصوبے کی بھرپور مخالفت جاری ہے۔ مخالفت اس قدر شدید ہے کہ موجودہ حالات میں اس منصوبے کو جامہ عمل پہنانا ناممکن ہو چکا ہے۔ مخالفت کے اسی خوف کے باعث اس منصوبے کی تمام شقوں کو منظرعام پر نہیں لایا گیا اور وقتا فوقتا اس کی بعض شقیں غیرسرکاری ذرائع سے سامنے لائی گئی ہیں۔
 
امریکہ نے جب یہ دیکھا کہ سیاسی حلقوں میں سینچری ڈیل کی شدید مخالفت ہو رہی ہے تو اس نے اس کے اقتصادی پہلووں کو پہلے منظرعام پر لانے کا فیصلہ کر لیا۔ جولائی میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں مقبوضہ فلسطین میں سرمایہ کاری کے عنوان سے طے پانے والی کانفرنس کا بھی یہی مقصد ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں چار اہم موضوعات زیر بحث لائے جائیں گے: انفرااسٹرکچر، صنعت، عوام کو اوپر لانا اور حکومتی اصلاحات۔ ان تمام امور کا مقصد خطے کو بیرونی سرمایہ کاری کے قابل بنانا ہے۔ اسی طرح یہ بھی طے پایا ہے کہ منامہ کانفرنس میں کسی قسم کا سیاسی ایشو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔

اس کانفرنس میں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کی بجائے وزرائے اقتصاد شریک ہوں گے۔ اس وقت مقبوضہ فلسطین خاص طور پر غزہ کی پٹی شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ غزہ کی پٹی میں غذائی مواد کی قلت کے باعث 10 لاکھ سے زیادہ افراد کی جان خطرے میں ہے۔ مزید برآں، گذشتہ 11 برس سے جاری ظالمانہ محاصرے کے نتیجے میں فلسطینی عوام شدید مالی دباو کا شکار ہیں۔ مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینیوں کا انحصار بھی بین الاقوامی امداد پر ہے۔
 
ایسے حالات میں امریکہ اقتصادی ہتھکنڈہ بروئے کار لا کر ایک طرح سے فلسطینیوں کو لالچ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل فلسطینیوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنے مطلوبہ منصوبے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منامہ کانفرنس کا مقصد سینچری ڈیل کے اقتصادی پہلووں کو اجاگر کرتے ہوئے فلسطینیوں کو پیشے کے عوض اس ذلت آمیز معاہدے پر راضی ہونے کی ترغیب دلانا ہے۔ یوں امریکہ اور اسرائیل سیاسی طور پر کم متنازع اقتصادی مسائل پر دوطرفہ تعاون آغاز کرنا چاہتے ہیں اور دھیرے دھیرے اس تعاون کو حساس سیاسی موضوعات تک کھینچ کر لے جانا چاہتے ہیں۔

درحقیقت امریکی حکام مقبوضہ فلسطین میں سرمایہ کاری جیسے بظاہر غیر حساس موضوع کے ذریعے سینچری ڈیل کے سیاسی پہلووں کے اجرا تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ لیکن فلسطینی قوم نے ٹرمپ کے اس حربے کو بھی مسترد کر دیا ہے اور بحرین میں اس کانفرنس کے انعقاد کو فلسطین کاز سے بہت بڑی غداری قرار دیا ہے۔ سینچری ڈیل سے مربوطہ کانفرنس جس ملک میں بھی منعقد ہو گی اس ملک پر فلسطین کاز سے غداری کا الزام آئے گا۔ گذشتہ ایک برس کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے خفیہ طور پر سینچری ڈیل کی حمایت کی ہے لیکن اسلامی دنیا کی رائے عامہ کے خوف سے ابھی تک اپنا موقف اعلانیہ طور پر بیان کرنے سے گریز کرتے آئے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 796765
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب