0
Wednesday 29 May 2019 03:20

یومِ تکبیر سے یوم القدس تک۔۔۔۔ اسلامی وحدت کی زنجیر

یومِ تکبیر سے یوم القدس تک۔۔۔۔ اسلامی وحدت کی زنجیر
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

ایاّم منانے میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں، جب کسی دن کو منایا جاتا ہے تو نئی نسل کو اس دن کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ ہمارے ہاں یوم عید قربان، یوم عید فطر، یوم عید میلاد النبیﷺ، یوم عاشور، یوم آزادی، یوم اقبال، یوم قائداعظم، یوم کشمیر، یوم تکبیر اور یومِ قدس سمیت متعدد ایّام منائے جاتے ہیں۔ بعض احباب ایّام منانے پر یہ تنقید بھی کرتے ہیں کہ ایّام منانے سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے، مریض بروقت ہسپتال نہیں پہنچ سکتے، مختلف جھنڈیاں اور پرچم زمین پر گرتے ہیں کہ جن پر مقدس عبارتیں تحریر ہوتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ تنقید اپنی جگہ درست ہے اور ایّام منانے والوں کو ایسے امور کا خیال رکھنا چاہیئے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایّام کو منعقد ہی نہ کیا جائے۔ یہ ایّام ہمیں ہماری تاریخ، ہمارے رول ماڈلز، ہمارے ہیروز  اور ہمارے اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ہمیں یاد دلاتے ہیں بلکہ یہ ایّام ہماری تاریخ، عقیدت اور عقیدے کے مطابق ہماری تربیت بھی کرتے ہیں۔

اس مرتبہ حسنِ اتفاق سے یومِ تکبیر بھی رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آیا ہے۔ یومِ تکبیر کے منعقد کرنے سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے، یہ ریاست اپنے دشمنوں سے نمٹنے کے لئے دفاع کا مکمل حق رکھتی ہے، دنیا والے یہ جان لیں کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت اس کے پاس ایک الٰہی امانت ہے۔ پاکستان اس طاقت کو کسی قسم کے غیر الٰہی اور غیر انسانی مقصد کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔ ہر سال کو اٹھائیس مئی کا یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک ذمہ دار اور خود دار قوم ہیں، ہم نے انتہائی مشکل حالات میں اپنے وطن کے  دفاع، سلامتی اور استقلال کے لئے اللہ کی عطا کردہ جرات اور ہمت کے ساتھ چاغی میں ایٹمی دھماکے کئے۔ یہ دن ہمیں ہمارے دوستوں کی مہربانیوں اور دشمنوں کی چیرہ دستیوں کی یاد بھی دلاتا ہے۔

اسی طرح رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک یعنی جمعۃ الوداع کو یوم قدس کے نام سے منایا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں یوم القدس منانے سے فلسطین کے مسلمانوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم آپ کی مظلومیت اور بھوک و پیاس کو نہیں بھولے۔ اسی طرح اس امر کی بھی تجدید ہوتی ہے کہ سارے مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں، مسلمانوں کے درمیان، عربی اور عجمی، کالے اور گورے، قریشی اور حبشی، ہاشمی اور افریقی کا کوئی فرق نہیں ہے اور پاکستانی دوسرے ممالک میں بسنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کے حالات سے غافل نہیں ہیں۔ اسی طرح ایک طرف تو اسرائیل کو یہ پیغام ملتا ہے کہ فلسطین صرف عرب دنیا کا کوئی مقامی مسئلہ نہیں ہے بلکہ عالمِ اسلام کا دل ہے اور دوسری طرف ہندوستان کو بھی یہ سندیسہ ملتا ہے کہ جب پاکستانی اتنے دور فلسطین کو نہیں بھولے تو وہ اپنے قریب اور اپنی شہ رگ کشمیر کو کیسے بھول سکتے ہیں۔

یہ یوم القدس ہے جس میں لگنے والے نعرے اقوامِ عالم کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ پاکستان کے باشندے، عرب دنیا کے عیاش بادشاہوں کے بجائے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ یوم القدس منانے سے یورپ، امریکہ و اسرائیل کو پتہ چلتا ہے کہ وہ چند عرب بادشاہوں کو خرید کر دنیا کے نقشے سے فلسطین کو نہیں مٹا سکتے۔ اس دن سڑکوں پر آنے، ریلیاں نکالنے اور احتجاج کرنے سے ہمارے بچوں کو علم ہوتا ہے کہ ہم ظالم امریکہ و اسرائیل اور ہندوستان کے خلاف جبکہ مظلوم فلسطینیوں و کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ اس دن ہمارے بچے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ کشمیر اور قدس ہمارا ہے اور ہم نے اپنے کشمیری و  فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ملکر کشمیر اور قدس کو آزاد کروانا ہے۔

اس دن دنیا بھر کے مظلوم وہ خواہ کشمیری ہوں، فلسطینی ہوں، بحرینی ہوں یا یمنی، انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ پاکستانی ان کے ساتھ ہیں جبکہ دنیا بھر کے ظالم حکمران اور طاغوتی ممالک یوم القدس کی ریلیاں دیکھ کر  پریشان اور ناامید ہو جاتے ہیں۔ اس دن عالمی میڈیا، عالمی طاغوت کو کرہ ارض کی ایسی تصویر دکھاتا ہے، جس میں سارے مسلمان، مظلوموں کی حمایت اور مدد کے لئے صف بستہ نظر آتے ہیں۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس سال یومِ تکبیر سے لے کر یومِ قدس تک وحدتِ اسلامی، اخوتِ اسلامی اور دینی بھائی چارے کی جو زنجیر بن رہی ہے، اس کی تشکیل میں ہمارا کتنا کردار ہے!؟
خبر کا کوڈ : 796817
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب