0
Wednesday 29 May 2019 11:19

پاکستان میں یوم القدس۔۔۔۔ مختلف زاویہ نگاہ سے

(جمعۃ الوداع، عالمی یوم القدس 25 رمضان المبارک 1440ھ کی مناسبت سے)
پاکستان میں یوم القدس۔۔۔۔ مختلف زاویہ نگاہ سے
تحریر: سید اظہار مہدی بخاری
izharbukhari5@hotmail.com

قبلہ اول بیت المقدس کی حرمت، عزت، تقدس اور مسلمہ حیثیت پر ایمان تمام الہیٰ ادیان کے پیروکاروں کے لیے بالعموم اور مذہب اسلام کے پیروکاروں کے لیے بالخصوص لازم اور واجب ہے۔ مسجد اقصیٰ اللہ کے برگزیدہ انبیاء اور مرسلین کا معبد رہا ہے اور خاتم المرسلین ﷺ سے قبل متعدد اور بے شمار انبیاء و رسل بیت المقدس کو اللہ کے گھر اور نشانی کے طور جانتے اور مانتے رہے ہیں، اس کے احترام کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا ذمہ بھی انبیاء اور ان کے نمائندگان کے پاس رہا ہے۔ صدر اسلام میں جب مکہ مکرمہ میں دست ابراہیمی ؑ سے تیار کردہ کعبۃ اللہ ابھی آخری نبی ؐ کے لیے قبلہ قرار نہیں پایا تھا، تب اسلام کے پہلے تین نمازی یعنی ام المومنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبری ؑ، امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ اور سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ اسی بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز کی ادائیگی اور خدا کی بندگی کرتے تھے، جو آج مقبوضہ فلسطین یعنی اسرائیل میں موجود ہے۔
 
یہودی نہیں بلکہ صیہونی ریاست کے ناجائز قیام کے بعد ایک سازش اور کچھ نادانستہ غفلت کے سبب قبلہ اول اسرائیلی صیہونیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ عالمی تاریخ بالخصوص عالم اسلام کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس ناجائز عمل کے خلاف سب سے پہلے موثر اور طاقتور آواز وطن ِ عزیز پاکستان سے بلند ہوئی اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے جہاں قبلہ اول اور فلسطین پر یہودیوں کے قبضے پر احتجاج اور مخالفت کی، وہاں اسرائیل کی نومولود ریاست کو ولادت کے وقت ہی ناجائز قرار دیا۔ بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ قائد اعظم اس حد تک اصولی اور شدید تھے کہ انہوں نے اسرائیل مخالفت کو پاکستان کی سرکاری اور ریاستی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ یہ پالیسی آج تک اپنی اصلی حالت میں بغیر کسی تبدیلی کے قائم ہے، جس کا سب سے محکم ثبوت اور مظہر پاکستان کا سب سے بڑا عالمی شناخت نامہ یعنی پاسپورٹ پر اسرائیل کے لیے ممنوع الورود ہونا ہے۔ محمد علی جناح کے بعد اسرائیل مخالف اور فلسطین حمایت کی عالمی تحریک اس وقت شروع ہوئی، جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ تب سے اب تک ہم دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں اسرائیل مخالفت اور بیت المقدس و فلسطین حمایت میں یوم القدس منا رہے ہیں۔ آیئے آج روایت سے ہٹ کر مخلصانہ احتسابی جائزہ لیتے ہیں۔
 
گذشتہ چالیس سال سے ملت اسلامیہ، امت مسلمہ، عالم اسلام اور قبلہ اول سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والے انسان ”یوم القدس منا رہے ہیں۔ جس کی بنیاد رہبر انقلاب ِ اسلامی حضرت امام خمینی ؒ نے رکھی اور آغاز میں اپنے ہمفکروں سے اس موقع پر صدائے احتجاج بلند کرنے کی اپیل کی جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی مکاتب اور مسالک حتیٰ کہ بعض ممالک میں مذاہب کے سرکردہ لوگ بھی اس احتجاج میں شامل ہوگئے۔ لمحہ موجود میں دیکھیں تو بہت ساری جماعتیں، گروہ، ادارے، تنظیمیں اور شخصیات انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس کار ِخیر میں شریک ہیں اور اپنے طور پر قدس کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ وطن ِعزیز پاکستان میں بھی نمائندہ ولی فقیہہ اور قائد ملت جعفریہ کے ٹائٹل تلے منایا جانے والا یوم القدس اب ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سائے میں رہتے ہوئے متحدہ مجلس عمل تک جا پہنچا ہے۔

اگرچہ یہ بات خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہے کہ یوم القدس کسی ایک مسلک، جماعت اور گروہ کے اختیار سے نکل کر امت کے اجتماعی پلیٹ فارموں یا فورمز کا عنوان حاصل کرچکا ہے اور اب ایک خاص مسلک سے ہٹ کر کئی ایک مسالک کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں اور شخصیات یوم القدس منانے میں پیش پیش نظر آرہی ہیں اور ان کی طرف سے تشہیری مہم ماضی کی نسبت زیادہ اور منفرد انداز میں چلائی جا رہی ہے۔ یوم القدس جیسے نیک عمل پر اتحاد قائم ہونا نیک شگون ہے، اسے سراہا جانا چاہیئے۔ لیکن اس اتحاد کے اندر سے اختلاف (مخالفت نہیں بلکہ مختلف ہونا) کی جھلکیاں نہیں بلکہ مظاہرے نظر آرہے ہیں۔ ملی یکجہتی کونسل کے اجتماعی فورم کے باوجود ہر تنظیم اور ہر گروہ ابھی تک اپنے سابقہ رویئے، سابقہ روٹ، سابقہ تشہیری طریقوں اور اپنا الگ تشخص دکھانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ جس سے ظاہراً یہ تاثر نظر آتا ہے کہ یوم القدس سے اظہار یمدردی کم اور یوم القدس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے وجود کا اظہار کرنے کا عمل زیادہ انجام دیا جا رہا ہے۔ قبلہ اول کی آزادی کے لیے جس اتحاد کی ضرورت گذشتہ چالیس سالوں سے بالخصوص اور گذشتہ ستر سالوں سے بالعموم محسوس کی جا رہی ہے، اس کا حقیقی مظاہرہ اب خواب بنتا جا رہا ہے۔
 
جس طرح عالم ِاسلام عیدین منانے کے عمل کو حقیقت سے دور لے جا کر ثقافتی انداز اختیار کرچکا ہے اور لوگ عیدین کے حقیقی فلسفہ کو نظر انداز کرکے عمومی، سطحی اور کلچرل اسٹائل سے منانے کے عادی ہوچکے ہیں، اسی طرح یوم القدس بھی اب ایک ثقافتی دن بنتا جا رہا ہے۔ جسے منانے کے لیے ہم نے پوسٹر، پینافلیکس، بینرز اور سوشل میڈیا پر تشہیری مقابلہ جات پر فوکس رکھنا ہوتا ہے۔ اچھے سے اچھی پریذنٹیشن دینے کے طریقے ایجاد کرنے ہوتے ہیں۔ اپنے اجتماع کو قبلہ اول کا حقیقی ہمدرد اجتماع قرار دینا اور دوسروں کے اجتماع کو محض نمائش کہنا ہوتا ہے۔ اپنی بسیں الگ لانے، اپنے اپنے لوگوں کو الگ الگ شمار کرنے، اپنے ہم فکروں کو صرف اپنے اجتماع میں شریک کرنے اور دوسروں کے اجتماع سے دور رکھنے کی بھرپور کاوش کرنا ہوتی ہے۔ اپنے اجتماع کے شرکاء کی تعداد زیادہ کرنے اور بتانے اور دوسروں کے اجتماع کے شرکاء کو کم کرنے اور کم بتانے کا ہر حیلہ استعمال کرنا ہوتا ہے۔
 
امام ِ راحل حضرت امام خمینی ؒ نے فرمایا تھا کہ”اگر دنیا کا ہر مسلمان ایک بالٹی پانی اسرائیل کی طرف پھینکے یا ڈالے تو اسرائیل غرق ہو جائے گا یا بہہ جائے گا۔“ لیکن حالات یہ ہیں کہ بالٹیاں کہیں ایک مقام پر جمع ہی نہیں ہو رہیں۔ ہر کسی نے خالی بالٹی تھامی ہوئی ہے بلکہ بالٹیوں پر نقش و نگار بنائے ہوئے ہیں۔ اپنی بالٹیوں کی میڈیا کوریج کروا کر بالٹی محفوظ ہو رہی ہے۔ بالٹیوں پر قدس اور فلسطین کی تصاویر تو ہیں، لیکن بالٹیاں اس پانی سے خالی ہیں، جس سے اسرائیل کو غرقاب کرنا ہے۔ چلیں ہم بالٹیوں کی نفی نہیں کرتے یہ ہوں گی تو ان میں پانی ڈالا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ہر سال خالی بالٹیاں دکھا کر گھر واپس چلے جائیں اور ان میں خلوص، تسلیم، وحدت، اخوت، محبت اور عمل کا پانی نہ بھریں۔ جس سے اسرائیلیوں کو ختم اور قبلہ اول کو اُجلا اور آزاد کرایا جاسکے۔

ہم ہر دفعہ عالم عرب کی بے حمیتی، فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی نہ کرنے اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کے افعال کو کوستے ہیں۔ عالم اسلام کے حکمرانوں کی نااتفاقی اور مسئلہ قدس و فلسطین کو سنجیدگی سے نہ لینے پر برہم ہوتے ہیں۔ او آئی سی، عرب لیگ، سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی طرف سے کی جانے والے دانستہ غفلتوں اور مجرم پرستیوں پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں، لیکن اپنی نااتفاقی کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ جو لوگ قبلہ اول کے لیے متفقہ، متحدہ اور ایک آواز نہیں اٹھا سکتے، وہ کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ان کی صدائے احتجاج سے اسرائیل خوفزدہ ہوگا یا امریکہ لرزہ بر اندام ہوگا یا اقوام متحدہ کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔ مقصد یہ ہرگز نہیں کہ یوم القدس منانا بند کیا جائے یا قبلہ اول کے لیے آواز بلند کرنا روک دی جائے یا مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا سلسلہ ختم کر دیا جائے، بلکہ مدعا و مقصد یہ ہے کہ قبلہ اول کی آزادی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے حقیقی اور مخلصانہ تقاضے پورے کرنے کے لیے عمل کی دنیا میں داخل ہوا جائے۔

اگر یوم القدس کو سالانہ ثقافتی تہوار کے طور پر جاری رکھنا ہے تو پھر ماشاء اللہ ہمت جاری رکھیئے اور ہر سال نئی نئی ایجادات، نئے نئے انداز، نئے نئے منفرد اسٹائل، جاذبیت پیدا کرنے کے حربے اختیار کیجیے اور اصل ہدف سے دور ہوتے جایئے۔ لیکن اگر اصل ہدف حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے مخلص ہو کر وحدت کے راستے پر آیئے پوری دنیا میں اگر ایک شخصیت یا ایک فورم پر جمع ہوکر آواز بلند کرنا ابھی ممکن نہیں تو کم از کم ملکی سطح پر اپنی آواز کو ایک شخصیت اور ایک فورم کے تحت یکجا کیجیئے، تاکہ آپ کی ریلیاں پر اثر ہوں، آپ کے سیمینار بامقصد ہوں۔ آپ کی تشہیری مہم تصنع کا مظہر نہ ہو۔ آپ کے مظاہرے متوجہ کرنے والے ہوں اور آپ کی ساری کی ساری محنتوں اور زحمات کا ثمر قبلہ اول اور فلسطین کو اس انداز سے ملے کہ اس کے بعد آزادی قدس کے لمحات قریب سے قریب تر آئیں اور امریکہ و اسرائیل و اقوام متحدہ نئے مظالم ڈھانے اور سفارت خانے منتقل کرنے اور اسرائیل کے دوستوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ہر یوم القدس کے بعد مزید بے دست و پا اور مجبور نظر آئیں اور ان کی زیادتیاں، تجاوزات، سرگرمیاں اور سازشیں محدود سے محدود ترین ہو جائیں، تب ان شاء اللہ قدس اور فلسطین صیہونی پنجوں سے نکل کر آپ کے متحد اور منظم ہاتھوں میں ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 796876
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے