2
Sunday 16 Jun 2019 20:24

آئل ٹینکرز ڈپلومیسی

آئل ٹینکرز ڈپلومیسی
تحریر: دیاکو حسینی

متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب فجیرہ بندرگاہ پر دو آئل ٹینکرز پر دہشت گردانہ حملوں کے صرف چند ہفتے بعد بحیرہ اومان میں آئل ٹینکرز پر اسی جیسے دو مشکوک حملوں سے ان کے پیچھے کارفرما پس پردہ عوامل کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ امریکی حکام نے غیر متوقع طور پر کافی حد تک ثبوت پیش کئے بغیر ان حملوں میں ایران کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ اس سے پہلے بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکہ گذشتہ ماہ فجیرہ بندرگاہ میں انجام پانے والی تخریب کاری کی ذمہ داری ثبوت پیش کئے بغیر ایران پر ڈال چکے تھے۔ ان ممالک کے حکام کا موقف ہے کہ ایران ان دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے دنیا والوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ جب تک ایران اپنے خلاف عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کے باعث خام تیل فروخت کرنے سے محروم رہے گا اس وقت تک اس کے مخالف ممالک بھی خلیج فارس میں تیل کی تجارت سے محروم کر دیے جائیں گے۔
 
دوسری طرف ایران کے پاس ایسے ٹھوس اور قابل قبول دلائل موجود ہیں جن کی بنیاد پر وہ ان دہشت گردانہ اقدامات کو امریکہ میں جنگ طلب لابی اور خطے کے بعض ممالک کی مشترکہ سازش قرار دیتا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد پر ایران کے خلاف جنگ کے حامی ممالک اور گروہ ایسی تخریب کارانہ کاروائیوں کے ذریعے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ پر اکسانے کیلئے مناسب بہانے فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ بحیرہ اومان میں انجام پانے والے حالیہ آئل ٹینکرز پر حملوں کی ایک وجہ جاپانی وزیراعظم شینزو آبے کی ثالثی کی کوششوں کو ناکام بنانا یا حتی اس کے برعکس ایران پر دباو ڈال کر اسے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے پر مجبور کرنا ہو سکتی ہے۔ لہذا آئل ٹینکرز پر حملے فوجی مقاصد کی غرض سے انجام نہیں پائے بلکہ پیغام پہنچانے کیلئے ایک قسم کی ڈپلومیسی شمار ہوتے ہیں۔
 
یہ چہ میگوئیاں ایک طرف لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی جانب سے ایران سے جوہری معاہدہ توڑ کر اس کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کرنے کے نتیجے میں خطہ شدید تناو کا شکار ہوا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خلیج فارس میں جعلی تخریبی کاروائیاں خطے کے ممالک کو ایک ہولناک اور ناقابل کنٹرول جنگ میں دھکیل سکتی ہیں۔ اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران خلیج فارس میں تجارتی کشتیوں کی آمدورفت میں خلل پیدا کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ اس کی دلیل انتہائی سادہ ہے اور وہ یہ کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباو کے باوجود خود کو نئی صورتحال سے ایڈجسٹ کیا ہے۔ جب تک امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی اقتصادی جنگ ایران کے وجود کیلئے خطرہ ثابت نہیں ہوتی تہران امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے صبر و تحمل سے کام لے گا چاہے اسے اپنی اقتصاد اور سیاست کو محفوظ بنانے کیلئے دفاعی اقدامات انجام دینے کا حق بھی حاصل کیوں نہ ہو۔
 
ساتھ ہی اس نکتے کی جانب توجہ بھی ضروری ہے کہ "اقتصادی جنگ" کی تعبیر صرف ایک لفافہ ہے اور اس حقیقت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جنگ کے مختلف پہلوو چاہے وہ اقتصادی ہو یا فوجی یا سیاسی ایکدوسرے سے علیحدہ نہیں کئے جا سکتے۔ ہر قسم کی جنگ میں ہتھیار کا فرق محض ایک تکنیکی مسئلہ ہے جو وقت، جگہ اور حالات پر منحصر ہے۔ لہذا اگر اپنے خلاف شروع کی گئی اقتصادی جنگ میں ایران اپنے وجود کیلئے خطرہ محسوس کرتا ہے تو اسے ہر دفاعی حربے کے ذریعے یہ خطرہ خود سے دور کرنے اور دشمن ممالک کو نشانہ بنانے کا فطری حق حاصل ہو گا۔ وہ دن ابھی بہت دور ہے اور شاید وہاں تک نوبت نہ پہنچے۔ لیکن اگر کسی دن ایران نے خود کو ایرانی قوم کے خلاف اقتصادی جنگ میں امریکہ کی گستاخیوں کا منہ توڑ جواب دینے پر مجبور پایا تو جوابی کاروائی انجام دینے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا اور مبہم اور جعلی دستاویزات کے پیچھے نہیں چھپے گا۔
 
حالیہ واقعات اگرچہ ایران کے خلاف سازش کا حصہ تھے لیکن اس کے باوجود دنیا والوں کیلئے خلیج فارس میں ممکنہ تباہی کی وارننگ بھی تھے۔ یہ حادثات ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کیلئے کافی ہیں تاکہ وہ اس حقیقت سے واقف ہو جائے کہ اس کے اتحادی اسے بے فائدہ، سنگین نقصانات کی حامل اور نہ ختم ہونے والی جنگ کی جانب دھکیلنے کیلئے شرارت آمیز اقدامات انجام دے رہے ہیں۔ ان تخریب کارانہ اقدامات کے پس پردہ کارفرما قوتیں اس قدر ڈرپوک اور محتاط ہیں کہ ان کے عمل کو جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ خود کو دھوکہ دینے اور بغیر دلیل کے ایران پر الزامات عائد کرنے کی بجائے اپنے اردگرد موجود ایسے افراد سے ہوشیار رہیں جو تنازعات کے پرامن حل کے مواقع ختم کرنے کیلئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتے۔
خبر کا کوڈ : 799844
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے