0
Friday 21 Jun 2019 08:14

منامہ کانفرنس۔۔۔۔ نیا جال پرانے شکاری

منامہ کانفرنس۔۔۔۔ نیا جال پرانے شکاری
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کی "بی ٹیم" فلسطین اور فلسطینی اہداف کو جڑوں سے ختم کرنے کے لیے جس نئے منصوبے پر کام کر رہی ہے، ٹرامپ نے اسے سنچری ڈیل کا نام دیا ہے۔ تاجر پیشہ امریکی صدر عالمی سیاست میں بھی ہر ایشو کو ڈیل یا تجاری سودا سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ وہ اپنے تجارتی فائدے کے لیے ہر ماہر تاجر کی طرح تمام ممکنہ حربوں اور تمام مہیا ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں، لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ سنچری ڈیل میں ایک بنیادی غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں، وہ اسے تجاری سودا تو قرار دے رہے ہیں، لیکن وہ سنچری ڈیل میں خریدار، فروخت کندہ اور بیچی جانے والی جنس کے بارے میں غلط اندازے لگا رہے ہیں۔ سنچری ڈیل میں اگر فلسطین کا سودا کیا جا رہا ہے تو پہلے مرحلے میں دیکھنا ہوگا کہ فلسطین کا اصل مالک کون ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ فلسطین کو خریدنے والا کون ہے۔ آج بظاہر امریکہ اور عرب ٹرائیکا (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین) فلسطین کو بیچنے میں آگے ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ امریکہ اس وقت فلسطین کا خود ساختہ مالک بنا بیٹھا ہے اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین درمیان میں دلالی کا کام کر رہے ہیں۔

امریکی صدر آج کل اپنے آپ کو پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ کا بلاشرکت غیرے مالک سمجھے ہوئے ہیں۔ اسی خوش فہمی میں انہوں نے کچھ عرصہ پہلے شام کے علاقے جولان کو (جسے گولان ہائٹس بھی کہا جاتا ہے) اسرائیل کو بخش دیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ اسی سلسلے کی جاری رکھتے ہوئے اب فلسطین کو بھی اسرائیل کے سپرد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسی تجارتی سودے کی قیمت طے کرنے کے لیے 25 اور 26 جون کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اور فلسطینیوں نے اپنے کسی طرح کے نمائندہ وفد کو بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ لبنان، شام اور عراق تو پہلے ہی مخالفت کا اعلان کرچکے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق منامہ کانفرنس میں صرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مراکش اور میزبان ملک بحرین کا وفد شریک ہو رہا ہے۔ اردن کے بادشاہ سنچری ڈیل کی مخالفت کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ مراکش میں تمام بڑی جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت احتجاج کیا ہے۔

منامہ کانفرنس بنیادی طور پر سنچری ڈیل پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ لگانے اور ان اخراجات کو مختلف ممالک کے ذمہ لگانے کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سنچری ڈیل پر آنے والے اخراجات کا ستر فیصد عرب ممالک، بیس فیصد امریکہ اور دس فیصد یورپی ممالک ادا کریں گے۔ یاد رہے امریکہ اور یورپ اپنے حصے کا تیس فیصد بھی اپنے ہتھیار بیچ کر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے پورا کریں گے، گویا عربوں کے پیسوں سے فلسطین کا تیا پانچا کرکے اسرائیل کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جائے گا۔ اس ڈیل میں فلسطینیوں کو بڑا پرکشش اقتصادی پیکج دیا جائے گا اور اس اقتصادی پیکج کے ذریعے ان سے بیت المقدس سمیت فلسطین کا دیگر علاقہ خریدا جائے گا۔ فلسطینی تحریک کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ فلسطین کی تمام تنظیمیں اور شخصیات سنچری ڈیل کی مخالفت میں متحد ہیں اور اسے نیا جال اور پرانے شکاری سے تعبیر کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 800664
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے