0
Wednesday 26 Jun 2019 07:29

ٹرمپ کی بے ہودگیاں اور منامہ کانفرنس

ٹرمپ کی بے ہودگیاں اور منامہ کانفرنس
اداریہ
دور حاضر کی عالمی سیاست میں بیک وقت کئی اہم ایشوز کو چھیڑنے کا بنیادی ہدف کسی اہم اسٹریٹجک مسئلے سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہوتا ہے۔ عالمی میڈیا پر مسلط صہیونی لابی اس فارمولے کو کئی بار آزما چکی ہے۔ اس آزمودہ نسخے کے نتیجے میں کئی بار ایسا ہوا کہ رائے عامہ لکیر کو پیٹ رہی ہوتی ہے اور عالمی صہیونی لابی اپنے اصل ایشو سے لوگوں کی توجہ کو منحرف کرکے اپنا الو سیدھا کر لیتی ہے۔ عالمی سطح پر بعض اوقات ایسے اسکینڈل شروع کیے جاتے ہیں کہ دنیا کا میڈیا اور رائے عامہ پوری طرح اس کی طرف منہمک ہو جاتی ہے اور متعلقہ افراد یا ادارے پیچھے سے اپنا ہاتھ دکھا دیتے ہیں، اس حوالے سے کھیل، فلم، دہشت گردی سمیت کئی غیر اہم موضوعات پر عالمی قائدین کے بیانات سے بھی استفادہ کیا جاتا رہا ہے۔ آج ایک بار پھر عالمی سیاست میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں، لیکن صہیونی لابی امت مسلمہ اور فلسطین کاز سے دلچسپی رکھنے والوں کو سنچری ڈیل جیسے شیطانی منصوبے سے لاتعلق رکھے ہوئے ہے۔

آج مسلمان ممالک اور انسانی حقوق کا دم بھرنے والا عالمی میڈیا سنچری ڈیل اور منامہ کانفرنس سے مکمل لاتعلق نظر آرہا ہے۔ مسلمان ممالک کے بڑے بڑے میڈیا سینٹر سنچری ڈیل اور منامہ کانفرنس سے متعلق خبریں اور تجزیئے سامنے نہیں لا رہے۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمتی بلاک کو بھی ڈونالڈ ٹرامپ نے پوری طرح اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے، ٹرامپ کے گذشتہ دنوں کے بے ہودہ ٹیوٹر پیغامات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ یوں تو ڈونالڈ ٹرامپ کی شخصیت عالمی برادری سے زیادہ امریکیوں میں بدنام ہے اوپر سے اس کے الٹے سیدھے اور غیر سفارتی ٹیوٹر پیغام ٹرامپ کی حقیقی شخصیت کو مزید بے نقاب کر رہے ہیں۔ خطے میں اگرچہ ایران کے خلاف ماحول بنایا جا رہا ہے، لیکن اس وقت مسلمانوں کے سب سے اہم مسئلے فلسطین کے بارے میں جو کانفرنس منامہ میں ہو رہی ہے، اس کے نتائج انتہائی خطرناک برآمد ہوسکتے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرامپ نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف جو بے ہودہ پیغامات جاری کیے ہیں، ان میں ایک مقصد یہ ہے کہ سب کی توجہ ان بیانات کی طرف چلی جائے اور مزاحمتی بلاک منامہ کانفرنس سے لاتعلق ہو کر اس میں رچائی جانے والی سازش سے بے خبر رہے۔ امریکہ کی رہبر معظم اور اسلامی انقلاب سے دشمنی کی اصل وجہ ایران کے اسلامی نظام کا اسرائیل کے خلاف اصولی، دوٹوک اور قانونی موقف نیز سنچری ڈیل کی بھرپور مخالفت ہے۔ امریکی صدر کے بے ہودہ پیغامات کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ سنچری ڈیل پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ امت مسلمہ اور فلسطینی کاز کے لیے متحرک افراد متوجہ ہوں کہ بیت المقدس اور قبلہ اول کے مسئلے بھی توجہ ہٹانے کے لیے امریکہ اور صہیونی لابی کوئی بھی قدم اٹھا سکتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بقول فلسطین اور بیت المقدس کا مسئلہ ماضی میں بھی مسلمانوں کا پہلا مسئلہ تھا اور آج بھی پہلی ترجیح ہے۔
خبر کا کوڈ : 801561
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے