1
Wednesday 3 Jul 2019 18:31

ایک ملاقات میں مضمر پیغامات

ایک ملاقات میں مضمر پیغامات
تحریر: محمد قادری (چیف ایڈیٹر تہران ٹائمز)

اتوار کے دن شمالی کوریا اور امریکہ کے سربراہان مملکت نے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بے طرف علاقے میں ایکدوسرے سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی۔ دونوں سربراہان مملکت نے شمالی کوریا کے حصے میں ایکدوسرے سے مصافحہ کیا اور گروپ فوٹوز بنوائے جبکہ جنوبی کوریا کے علاقے میں بات چیت کی۔ اس سے پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اون سے فروری میں ملاقات کی تھی جس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ اس ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر فخر کا اظہار کرتے رہے کہ وہ شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھنے والے امریکہ کے پہلے صدر ہیں۔ انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اون کو امریکہ دورے کی بھی دعوت دی۔ اس کے باوجود امریکہ نے شمالی کوریا پر اپنی پابندیاں بدستور برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اون نے بھی امریکی صدر سے ملاقات کو تاریخی قرار دیا۔ اگر وہ امریکہ کا دورہ کرتے ہیں تو وہ ایسا اقدام کرنے والے شمالی کوریا کے پہلے رہنما ہوں گے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی کوریا کا ایشو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقات اور شمالی کوریا سے متعلق ان کی پالیسی کے بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ سیاسی ماہرین نے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک ایسے سیاست دان ہیں جو پروپیگنڈہ کی مہارتوں کو بہت زیادہ بروئے کار لاتے ہیں اور ان مہارتوں کے ذریعے ملک کے اندر اپنی سیاسی حریفوں کو بھی اور بین الاقوامی سطح پر مخالف قوتوں کو بھی فریب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی صدارتی مہم کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اس بات پر زور دے چکے تھے کہ وہ ایک اچھے فنکار ہیں اور دوسروں کو اپنے اوپر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ عرب حکمرانوں سے ان کا رویہ اور شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ لہذا یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی سرگرمیاں جن میں شمالی کوریا سے ان کی ملاقات بھی شامل ہے کسی خاص حکمت عملی کی عکاسی نہیں کرتیں بلکہ ان میں پروپیگنڈہ اور دکھاوے کا عنصر غالب ہے۔
 
2)۔ دوسرا نکتہ 2020ء میں امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات میں اس ملک کی خارجہ سیاست کے کردار کی جانب پلٹتا ہے۔ تازہ ترین سروے رپورٹس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی خارجہ سیاست ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں انتہائی موثر ہے اور یہ اہمیت چند ایسی ریاستوں جیسے پنسلوانیا، مشیگن، وسکونسن، اوہائیو اور فلوریڈا میں زیادہ ہے جن کے نتائج فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس اگلے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کمزوریوں پر خاص توجہ دیں گے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ امریکہ کی خارجہ سیاست کی موجودہ صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لہذا خارجہ امور میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سرگرمیاں محض انتخاباتی اہداف کی حامل ہیں اور ان سے زیادہ پرامید نہیں ہوا جا سکتا۔
 
3)۔ ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے خلاف ایک ہی وقت میں "دھمکی" اور "مذاکرات" کا جال بن رہے ہیں۔ یہ حکمت عملی انہوں نے ایران کے خلاف بھی اپنا رکھی ہے۔ یہ متضاد رویہ درحقیقت امریکہ کی ڈاکٹرائن میں حیرت اور سرگردانی کا نتیجہ ہے۔ یہ اسٹریٹجک حیرت اور سرگردانی جان بولٹن اور مائیک پمپئو جیسی شدت پسندانہ سوچ کی حامل شخصیات کا کابینہ سے نکل جانے سے بھی ختم نہیں ہونے والی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب سے برسراقتدار آئے ہیں امریکہ کی خارجہ پالیسی حیرت اور سرگردانی کا شکار ہے اور یہ متضاد رویے ٹرمپ حکومت کے آخری دنوں تک جاری رہیں گے۔ یہ آخری دن ممکن ہے 2020ء میں ختم ہو جائیں اور عین ممکن ہے 2024ء تک جاری رہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 802942
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے