0
Tuesday 6 Aug 2019 16:02

قبائلی اضلاع سے نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی نے باپ میں کیوں شمولیت اختیار کی؟؟

قبائلی اضلاع سے نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی نے باپ میں کیوں شمولیت اختیار کی؟؟
رپورٹ: ایس علی حیدر

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے دو ارکان صوبائی اسمبلی شفیق شیر آفریدی اور بلاول آفریدی نے الحاج کاروان گروپ کے سربراہ الحاج شاہ جی گل آفریدی کی سربراہی اور موجودگی میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں شمولیت اختیار کی ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے دونوں نومنتخب ارکان نے اسلام آباد میں وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال کی موجودگی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ شفیق شیر آفریدی پی کے 105 قبائلی ضلع خیبر اور بلاول آفریدی پی کے 106 ضلع خیبر سے 20 جولائی 2019ء کے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ بلاول آفریدی سابق رکن قومی اسمبلی اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کیلئے شروع ہونے والی تحریک کے روح رواں الحاج شاہ جی گل آفریدی کے فرزند اور شفیق شیر آفریدی ان کے بھتیجے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے شاہ کس جمرود میں الحاج شاہ گل آفریدی کی رہائشگاہ پر حاضری دی، نومنتخب ارکان اسمبلی کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے انہیں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی۔ وزیر اطلاعات نے دونوں ارکان اسمبلی میں سے ایک کو وزیر بنانے کی آفر کی، جو انہوں نے مسترد کر دی۔

2 اگست 2019ء کو جب بلوچستان کے وزیراعلٰی جام کمال پریس کانفرنس کر رہے تھے تو انہوں نے قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے تین ارکان اسمبلی کی بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جن میں شفیق شیر آفریدی، بلاول آفریدی اور عباس الرحمٰن شامل تھے، تاہم عباس الرحمٰن ایم پی اے کی جانب سے شمولیت کی تردید کی گئی۔ میڈیا کو شمولیت سے متعلق وزیراعلٰی کی جو تصویر فراہم کی گئی، اس میں بھی عباس الرحمٰن، ان کے بھائی سینیٹر ہلال الرحمٰن اور سابق رکن قومی اسمبلی بلال رحمٰن میں سے کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ عباس الرحمٰن پی کے 104 قبائلی ضلع مہمند سے رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے ارکان شفیق شیر آفریدی اور ان کے چچازاد بھائی بلاول آفریدی کی بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں شمولیت پر سیاسی جماعتوں، قبائلی عوام سمیت ہر ایک شہری کو حیرت اور حیرانگی ہوئی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی صوبہ بلوچستان تک محدود ہے، عام انتخابات سے قبل چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال اور بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر اور سابق وزیراعلٰی عبدالقدوس بزنجو نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد ڈالی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الحاج شاہ جی گل آفریدی کے صاحبزادے بلاول آفریدی اور بھتیجے شفیق شیر آفریدی کی باپ میں شمولیت کے پیچھے ایک فلسفہ کارفرما ہے، اب دونوں چچازاد بھائیوں میں سے ایک کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شپ مل جائے گی۔ علاوہ ازیں انہیں خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے ایک نشست ملنے کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ شفیق شیر آفریدی اور بلاول آفریدی نے جس جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے، وہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکز اور بلوچستان میں اتحادی ہے، ان دونوں میں سے ایک کو وزارت ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت سے انہیں نیب، ایف بی آر اور دوسرے محکموں کے ممکنہ ظلم اور زیادتی سے نجات ملنے کے قوی امکانات ہیں، جس طرح الحاج شاه گل آفریدی کے بھائی سینیٹر تاج محمد خان نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے خلاف چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا ساتھ دیا ہے، اسی نیت سے ان دونوں نے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ الحاج شاہ جی گل آفریدی ایک زیرک اور معاملہ فہم سیاست دان تصور کئے جاتے ہیں، ان کے بیٹے اور بھتیجے نے سوچ سمجھ کر باپ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

الحاج شاہ جی گل آفریدی نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باپ میں شمولیت کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کا خاطر خواہ فائدہ قبائلی ضلع خیبر کے عوام اور الحاج شاہ جی گل آفریدی کے الحاج کاروان کو پہنچے گا۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ الحاج شاہ جی گل آفریدی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے بیٹے اور بھتیجے سمیت باپ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ الحاج کاروان نے پوری قوم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ شفیق آفریدی اور بلاول آفریدی کیوں اور کیسے بلوچستان کی ایک علاقائی جماعت میں شامل ہوئے، یقیناََ ان کی شمولیت کے ثمرات آج نہیں تو کل ضرور برآمد ہونگے۔ باپ میں الحاج کاروان گروپ کی شمولیت اس کا ذاتی فیصلہ اور معاملہ ہے، یہ اس کا جمہوری حق تھا۔ نومنتخب ارکان نے باپ میں شمولیت اختیار کرکے اپنا جمہوری حق استعمال کیا، بعض ان پر ضرور تنقید کریں گے، لیکن انہوں نے اپنے ضلع اور اپنے خاندان کے مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 809065
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے