9
Wednesday 14 Aug 2019 22:58

شیخ ابراہیم زکزاکی، تازہ ترین صورتحال

شیخ ابراہیم زکزاکی، تازہ ترین صورتحال
تحریر: محمد سلمان مہدی

اسلامی تحریک نائیجیریا کے قائد شیخ ابراہیم زکزاکی نے جن مصائب و مشکلات بلکہ جن سانحات کو جھیلا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کوئی انہیں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دور کے حضرت بلالؓ کی مانند بلال زمان قرار دیتا ہے تو کوئی انہیں امام حسین (ع) کے لشکر میں شامل حضرت جونؓ کی طرح مھدی آخرالزمان (عج) کے عہد کی نائیجیریائی کربلا کے لشکر کا جون سمجھتا ہے۔ چونکہ ان سانحات میں انکی اہلیہ بھی انکے ساتھ برابر کی شریک رہی ہیں، اسلئے انہیں بھی بی بی فضہؓ کی مانند لائق تعظیم قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لئے لازم ہے کہ ماضی پر ایک نگاہ ڈالی جائے کہ جبل استقامت زکزاکی و اہلیہ کو کیوں اس درجہ محترم و مقدس سمجھا جا رہا ہے۔

زکزاکی صاحب کی عظمت کے لئے اتنا کافی ہے کہ دشمن میڈیا بی بی سی بھی ان کے خلاف تحریر میں بھی ایک حقیقت بیان کر گیا کہ ان سے پہلے نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کی کوئی خاص قابل ذکر آبادی نہیں تھی اور آج کئی گناہ زیادہ شیعہ مسلمان ہیں۔ ولایت امیرالمومنین کا شیدائی یہ افریقی حق سیدہ فاطمہ زھرا س کا مبلغ، نائیجیریا میں عزاداری سیدالشہداء کے سلسلے میں عاشورائے حسینی اور اربعین حسینی پر تاریخی ریکارڈ ساز شرکت پر مشتمل جلوسوں کا بانی کوئی معمولی ہستی نہیں ہے جناب! انہوں نے صرف حضرت بلالؓ و جونؓ یا بی بی فضہؓ کی ہی کی یاد تازہ نہیں کی ہے بلکہ شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ نے تو عشق علیؑ میں تو حضرت ابوذرؓ و میثمؓ کی یاد بھی نائیجیریا میں تازہ کر دی ہے۔ جنہیں نہیں معلوم وہ اس تحریر کو ضرور پڑھیں اور ہم سبھی عزاداران حسینی موازنہ کریں کہ ہم کہاں اور وہ کہاں؟؟؟!!
 
چونکہ نائیجیریا میں حسینیت کا فروغ ہونے لگا تو یزیدیت کے ایوانوں میں لرزہ تو ہونا ہی تھا، اسی لئے یزیدیت اور اس کے منافق سرپرستوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے نائیجیریا کی امام بارگاہ پر حملہ کر دیا۔ ہوا یوں تھا کہ صوبہ کادونا کے شہر زاریا میں حسینیہ بقیۃ اللہ پر نائیجیریا کی فوج نے 12 دسمبر 2015ء کو چڑھائی کر دی۔ نائیجیریا کی بری فوج کے سربراہ اور بوہاری حکومت اس سازش میں ملوث تھی اور ان کو ایسا کرنے کے لئے امریکی، سعودی و اسرائیلی حکومت نے اکسایا تھا۔ ان کے حکم پر نائیجیریا کے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ 12 تا 15 دسمبر 2015ء وہاں شیعہ مسلمانوں پر ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھا گیا۔ حسینیہ بقیۃ اللہ کو تاراج کیا گیا۔

یوں تو وہاں ایک ہزار سے زائد شیعہ مسلمان شہید ہوئے، لیکن جو تعداد تسلیم شدہ ہے، وہ تین سو اڑتالیس شہداء ہیں، جسے وہاں کے سرکاری ریکارڈ میں بھی مانا گیا اور ان میں سے بھی سوائے ایک کے سبھی شہداء کو ایک گڑھا کھود کر غیر اعلانیہ دفنا دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے شہداء کے اجساد کی بے حرمتی بھی کی گئی، بہت سوں کو جلایا بھی گیا۔ حسن اتفاق تھا کہ اس وقت وہاں آیت اللہ شیخ زکزاکی موجود نہیں تھے۔ البتہ ان کے معاون، ان کے معالج اور اسلامی تحریک نائیجیریا کے کئی رہنما، کارکن و ہمدردوں نے اس سانحے میں جام شہادت نوش کیا۔
 
چونکہ وہاں شیخ زکزاکی موجود نہیں تھے اور نائیجیریا کی یزیدی حکومت کا ہدف نہ صرف ان کی اسلامی تحریک تھی بلکہ وہاں لوگوں کا خیال یہ ہے کہ امریکی، اسرائیلی و سعودی ڈکٹیشن یہی تھی کہ نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کی نمائندہ پرامن تحریک کو قیادت سمیت مٹا کر رکھ دیا جائے، اسی لئے فوجی دستوں نے شیخ زکزاکی کے گھر پر بھی چڑھائی کی گئی۔ ان پر، ان کی اہلیہ اور بچوں پر براہ راست فائرنگ کرکے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے تین بیٹوں کو شہید کیا گیا۔ ان کے گھر کو مسمار کر دیا گیا اور انہیں اور ان کی اہلیہ کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ تب سے جھوٹے الزامات کے تحت انہیں قید میں رکھا گیا۔ نائیجیریا کے عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ عدالت خود بوہاری حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں بے بس ہے اور انصاف کرنے کی بھاری قیمت کو ادا کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔
 
دوسری جانب یہ بھی ایک ناقابل نظرانداز حقیقت ہے کہ تحریک اسلامی نائیجیریا اس ملک کی سیاست اور معاشرے میں اپنا ایک مقام، ایک حیثیت بنا چکی ہے اور یہ تحریک اور اس کی قیادت عوام میں مقبول ہیں۔ نائیجیریا کے غیر شیعہ خواص حتیٰ کہ بعض مسیحی بزرگان بھی بوہاری حکومت کی شیعہ دشمن پالیسی پر تنقید اور شیخ زکزاکی اور ان کی بیوی کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ نائیجیریا کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرکے مطالبہ کیا تھا کہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو فوری طور رہا کر دیا جائے، لیکن صدر محمدو بوہاری پارلیمانی رائے کو بھی قدموں تلے روند کر فرعونیت کا مظاہرہ کرتے رہے۔
 
قانونی پہلوئوں کو بھی دیکھا جائے تو شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کی اہلیہ اور شیعہ مسلمانوں کا مقدمہ مضبوط ہے۔ نائیجیریا کے مشہور سیاستدان، قانون دان اور حقوق انسانی کے فعال کارکن و دانشور فیمی فالانہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس متفقہ قرارداد پر عمل کرتے ہوئے شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔ انہوں نے نائیجیریا کی بوہاری حکومت اور فوجی سربراہ کا زکزاکی مخالف بیانیہ بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کادونا صوبے کی حکومت نے اس سارے قضیے کی عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کروائیں۔ باجود یہ کہ شیخ زکزاکی کو اس کمیشن کے سامنے الزامات کا جواب دینے سے بھی روک دیا گیا تھا، اس عدالتی کمیشن نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ شیعہ مسلمانوں نے فوجی سربراہ کو قتل کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا ہی نہیں تھا، یعنی ایک جھوٹا الزام لگا کر سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں یاد دلایا کہ عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے سامنے یہ بھی آشکار ہوا کہ نائیجیریا کی فوج نے آرمی رولز آف انگیجمنٹ اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 347 شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا۔

عدالتی کمیشن نے نہ صرف قتل عام کی مذمت کی بلکہ شیعوں کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے کی سفارش بھی کی تھی۔ فیمی فالانہ کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جاتا، کادونا صوبائی حکومت نے مزید تین سو شیعوں پر ایک فوجی کے قتل کا جھوٹا الزام لگ ادیا، حالانکہ وہ اس دن اپنے ہی ساتھیوں کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوا تھا۔ بالآخر کادونا کی ہائیکورٹ میں وکلاء نے اسے چیلنج کیا اور عدم شواہد کی وجہ سے عدالت نے شیعہ مسلمانوں کو باعزت بری کر دیا تھا۔ اسی طرح وفاقی اعلیٰ عدالت نے 2 دسمبر 2016ء کو فیصلہ شیخ زکزاکی اور انکی اہلیہ کے حق میں سنایا اور مرکزی حکومت کو حکم جاری کیا کہ ان دونوں کو  غیر قانونی تحویل سے فوری رہا کر دے، ان کو پانچ کروڑ نیرا جرمانے یا معاوضے کے طور پر ادا کرے اور انہیں عارضی گھر بھی فراہم کرے کیونکہ ان کے گھروں کو تو نائیجیریا کی فوج نے جلا ڈالا تھا۔ یہ پانچ کروڑ نیرا پاکستانی دو کروڑ اکیس لاکھ سے بھی زائد رقم بنتی ہے۔ بجائے انہیں رہا کرنے کے بوہاری حکومت نے توہین عدالت کرتے ہوئے انہیں نائیجیریا کی سکیورٹی سروس کی قید میں رکھا اور کورٹ آف اپیل نے سکیورٹی سروس کے سربراہ پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت سے انکار کر دیا۔

شیعہ مسلمانوں نے وکلاء کے مشورے پر تین صوبائی ہائیکورٹس میں الگ الگ درخواست جمع کرا دی کہ ان کے اظہار رائے اور پرامن احتجاج کے حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، عدالتوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے انکے پرامن احتجاج اور اجتماع پر پابندی کو مسترد کرکے شیعہ مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اس کے باوجود نائیجیریا کی فوج نے شیخ زکزاکی کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ پرامن مظاہرہ کرنے والے پچاس شیعہ مسلمانوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ چونکہ عوام و خواص کو بوہاری حکومت کی مکاریوں کا علم تھا، اسی لئے شدید دبائو کے باوجود عدالت نے کسی حد تک ریلیف دینے کی کوشش کی۔

جب ایک محاذ پر بوہاری حکومت کو عدالتی جنگ میں شکست ہوئی تو اس نے دوسرا محاذ کھول دیا۔ اس نے کادونا کی صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ اسی ہلاک فوجی کے قتل کا کیس شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ پر چلایا جائے، جس جھوٹے مقدمے میں پہلے ہی شیعہ مسلمان بے قصور ثابت ہوچکے تھے، اس جھوٹے الزام پر کادونا کی ہائیکورٹ میں مقدمے کی سماعت  29 جولائی کو ہوئی اور سماعت کیا ہوئی، بلکہ اگلی سماعت کے لئے پانچ اگست کا اعلان کر دیا گیا۔ انتہائی افسوسناک و شرمناک پہلو یہ ہے کہ مقامی اور غیر ملکی ڈاکٹروں کی ٹیم نے عدالت کے حکم پر شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کے معائنے کے بعد تصدیق کر دی تھی کہ ان کی صحت اس حد تک خراب ہے کہ انہیں فوری طور پر بیرون ملک علاج کے لئے جانے کی اجازت دی جائے۔ فائرنگ اور تشدد کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ تو ضایع ہو چکی تھی، اب دوسری آنکھ بھی بینائی سے محروم ہوسکتی ہے۔ ان کی بیوی پر بھی فائرنگ کی گئی تھی اور وہ بھی اب چل پھر نہیں سکتیں، اب وہ وہیل چیئر کے بغیر حرکت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
 
اس عمر رسیدہ جوڑے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی آزاد کیا جاسکتا تھا، لیکن بوہاری حکومت نے ڈاکٹروں کے مشورے اور سفارش کو نظر انداز کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف نائیجیریا بلکہ پاکستان، ایران، برطانیہ و امریکا سمیت دنیا بھر میں شیخ زکزاکی اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کے مطالبے کے ساتھ احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جاتی رہیں۔ نائیجیریا کے بین الاقوامی شہرت یافتہ قانون دان فیمی فالانہ نے نائیجیریا کے اس مرد مجاہد کا مقدمہ لڑا۔ انہوں نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی غیر قانونی قید نائیجیریا میں ایک نئی جنگ یا بغاوت کو جنم دے سکتی ہے، اس لئے انہیں فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔ لیکن امریکی، سعودی، اسرائیلی ہمنوا بوہاری حکومت نے عدالت پر دباؤ برقرار رکھا اور وفاقی عدالت سے شیخ زکزاکی کی تحریک اسلامی کو کالعدم قرار دلوانے کی سفارش کروائی اور اسلامی تحریک نائیجیریا پر باقاعدہ پابندی لگا دی گئی۔ البتہ شیخ زکزاکی کے ساتھی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ اس ضمن میں قانونی مشاورت کر رہے ہیں کہ غیر ملکی ڈکٹیشن پر لگائی جانے والی اس پابندی کو چیلنج کریں۔
 
نائیجیریا کی بوہاری حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ شیخ ابراہیم زکزاکی اور ان کی بیوی کو غیر قانونی قید میں رکھ کر زہر دے کر مارنے کی سازش پر عمل پیرا رہی اور قید میں ان کے ساتھ غیر انسانی رویہ رکھا جاتا رہا۔ سات ملکوں سے تعلق رکھنے والے ایک سو چھیاسی ڈاکٹروں نے صدر بوہاری کو خط لکھ کر ان کے بیرون ملک علاج کا مطالبہ کیا۔ بالآخر عدالت نے انہیں بیرون ملک علاج معالجے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد انہیں بھارت کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہاں بھی ان کی جان 
 بدستور خطرے میں ہے، کیونکہ وہ آزاد نہیں ہیں بلکہ نائیجریا کی سکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں کی تحویل میں ہی زیر علاج ہیں اور یہ ایجنٹ وہاں بھی مطلوبہ ہنگامی طبی امداد کی فراہمی سے ڈاکٹرز کو روک رہے ہیں۔ تحریک اسلامی نائیجریا کا کہنا ہے کہ دیگر غیر ملکی اداروں کے ایجنٹس بھی نائیجریا کے سکیورٹی ایجنسی اہلکاروں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں اور امریکا بھی ان کی اس سازش میں شریک ہے۔
 
نائیجیریا کی یہ اسلامی تحریک اور ان کے قائد کسی صورت تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستان سے لے کر ایران، عراق، شام و لبنان و یمن ہی نہیں بلکہ برطانیہ و امریکا سمیت دنیا بھر میں فری زکزاکی موومنٹ چل رہی ہے۔ دنیا بھر میں ان سے یکجہتی کے اظہار کے لئے مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ ان پر مظالم کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں حق و آزادی و عدالت کے شیدائی نائیجیریا کے صدر بوہاری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف اپنے ملک کو نیم فوجی و نیم پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے والی اس غیر انسانی پالیسی کو فوری ترک کر دیں،  پرامن مظاہرے کرنے والے ان سیاسی کارکنان کو فوری رہا کریں، زخمیوں کے علاج معالجے کا انتظام کریں اور خاص طور شدید زخمی شیخ زکزاکی اور انکی زخمی اہلیہ کے بیرون ملک علاج کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں۔ بصورت دیگر فری زکزاکی موومنٹ دنیا بھر میں بوہاری حکومت کے انسانیت دشمن اقدامات کو بے نقاب کرنے کے لئے احتجاج کرتی رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 810575
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب