0
Thursday 15 Aug 2019 08:51

آیت اللہ شیخ زکزکی کا ایک اور امتحان

آیت اللہ شیخ زکزکی کا ایک اور امتحان
اداریہ
بلال دوراں آیت اللہ ابراہیم زکزکی کا جو سفر دسمبر 2015ء میں نائیجیریا کے صوبہ کادونا کے شہر زاریا کے حسینیہ بقیۃ اللہ سے شروع ہوا تھا ابھی جاری ہے۔ شیخ زکزکی کے اس سفر میں کئی صعوبتیں اور قربانیاں ہیں، انسان سن کر دنگ رہ جاتا ہے۔ زاریا میں آپ کے قائم کردہ امام بارگاہ بقیۃ اللہ میں ہزاروں افراد کو خاک و خون میں نہلایا گیا، آپ کے سامنے آپ کے بیٹوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ آپ اور آپ کی عمر رسیدہ زوجہ کو قتل کرنے کی تمام ممکنہ کوشش کی گئی۔ بات یہاں پر ختم نہ ہوئی، آپ کو اور آپ کی اہلیہ کو شدید زخمی حالت میں عقوبت خانے میں ڈال دیا گیا۔ تقریباً چار برسوں سے یہ عمر رسیدہ میاں بیوی نائیجرین حکومت کے زندانوں میں بغیر کسی مناسب علاج کے زندگی کے دشوار ترین دن گزار رہے تھے کہ نائیجیریا کی حکومت نے داخلی اور بیرونی دبائو کے نتیجے میں شیخ زکزکی کو ملک سے باہر ہندوستان جا کر علاج کرانے کی اجازت دے دی۔ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں شیخ زکزکی کے چاہنے والوں اور انسانی حقوق کے حقیقی علمبرداروں نے قدرے سکھ کا سانس لیا، لیکن ابھی شیخ زکزکی ہندوستان نہیں پہنچے تھے کہ مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں۔

ایک طرف یہ بات منظر عام پر آئی کہ ہندوستان میں علاج کے دوران شیخ زکزکی نائیجریں سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی حراست میں زیرنگرانی رہیں گے اور دوسری طرف ہندوستان میں موجود امریکی سفارت خانے کی مشکوک نقل و حرکت میں اضافہ ہوگیا۔ ہندوستان میں موجود شیعہ سنی مسلمانوں نے بھی شیخ زکزکی کی بھارت آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اپنے اپنے انداز میں شیخ زکزکی اور ان کی اہلیہ سے یکجہتی کا اظہار کیا، تاہم اس میں بھی کچھ تلخیاں سامنے آئیں، جس کا اظہار مناسب نہیں، لیکن شیخ زکزکی اس ساری صورتحال سے کافی پریشان نظر آرہے ہیں۔ ان کی صحت کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے ہندوستان میں زیادہ دیر زیر علاج رہنے پر بھی عجیب و غریب قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ صورتحال اس حد تک پریشان کن ہے کہ شیخ زکزکی کی بیٹی سھیلا زکزکی نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے والد کو ہندوستان میں علاج کے حوالے سے مکمل آزادی نہیں ہے، اس کی تائید لندن کی انسانی حقوق کی تنظیم کے مرکز کے سربراہ مسعود شجرہ نے بھی کی ہے۔

مسعود شجرہ نے ہندوستان حکومت کے دو گھنٹے پر مشتمل الٹی میٹم کو عالمی اور ہندوستانی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے، جس میں بھارتی حکومت نے یہ کہا ہے کہ اگر شیخ بھارتی حکومت کی مرضی کے مطابق علاج نہیں کرا سکتے تو دو گھنٹے کے اندر نائیجیریا واپس جانے فیصلہ کریں۔ شیخ زکزکی نے اپنے ایک بیان میں موجودہ صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ہندوستان حکومت پر میرے علاج معالجے کے حوالے سے دبائو ڈال رہا ہے اور اگر صورتحال اسی طرح رہی تو وہ ہندوستان چھوڑ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا ترکی اور ملائشیا نے بھی علاج معالجے کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں آنے کی دعوت دی ہے۔ تہران کے بین المذاہب اسمبلی کے سربراہ آیت اللہ اراکی کے بقول ان کی شیخ زکزکی سے ٹیل فون پر بات ہوئی ہے اور ان کا ابھی تک باقاعدہ علاج شروع نہیں ہوا ہے۔ بھارت میں شیخ زکزکی پر کیا بیت رہی ہے، اس کے حقائق جلد سامنے آجائیں گے، لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہندوستان میں سرگرم امریکی، صہیونی اور سعودی لابی اپنی حرکتوں سے باز آنے والی نہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب نائیجیریا میں بھی شیخ زکزکی کے خلاف سرگرم رہے، وہ ہندوستان میں بھی سازشون میں مصروف رہیں گے، لہذا احتیاط لازم ہے۔
خبر کا کوڈ : 810657
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب