0
Monday 19 Aug 2019 13:22

مسئلہ کشمیر سے جڑے نیم متنازعہ خطے کا مقدمہ

مسئلہ کشمیر سے جڑے نیم متنازعہ خطے کا مقدمہ
تحریر: ایل اے انجم

مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی فارمولے کے اطلاق یعنی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور پچاس سال بعد معاملہ پھر سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہنچنے کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ایک اہم فریق نیم متنازعہ خطہ یعنی گلگت بلتستان کا مستقبل کیا ہو گا؟ اور پھر پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت یعنی سٹیٹ سبجیکٹ رول کے خاتمے کے بعد ملکی و عالمی فورم پر احتجاج کیا کوئی معنی رکھتا ہے، جب وہ خود اس مسئلے سے جڑے ایک خطہ یعنی جی بی کی خصوصی حیثیت کو نصف صدی پہلے ہی ختم کر چکا ہے اور جی بی میں خصوصی حیثیت نام کی کوئی چیز موجود نہیں؟ گلگت بلتستان کے ساتھ آزاد کشمیر سے بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ اس خطے میں سٹیٹ سبجیکٹ رول اور متنازعہ حیثیت کو بحال کیا جائے۔ نریندر مودی کے اسرائیلی ڈاکٹرائن کے بعد جہاں جی بی میں اس اقدام کیخلاف عوام سراپا احتجاج ہیں وہاں یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان جی بی کی خصوصی حیثیت بحال کر کے یعنی سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کر کے بھارت کو کرارا جواب دے۔ اس طرح ایک طرف تو عوام مطمئن ہوں گے تو دوسری طرف ریاست اور جی بی کے مابین رشتہ پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گا، آزاد کشمیر میں بھی عوامی احتجاج کے دوران جی بی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کرنے کا مطالبہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ماضی میں جی بی اور اے جے کے کے مابین قابل غور تلخیاں اور اختلافات پائے جاتے رہے ہیں جن کو دور کرنے کیلئے طرفین سے کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں، تاہم حالیہ کچھ عرصے سے حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے ہیں، اہم ایشوز پر ہم آہنگی دیکھنے میں آ رہی ہے، یہ ہم آہنگی بڑی تبدیلی تصور کی جاتی ہے، ادھر جی بی کے عوام کے مشترکہ بیانئے میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، یہ بیانیہ آزاد کشمیر سے کسی حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ پہلے مطالبہ آئینی صوبے کا تھا اور عوام پاکستان کے ساتھ غیر مشروط اور مکمل الحاق چاہتے تھے، لیکن حالیہ کچھ عرصے میں اس مطالبے میں تبدیلی آئی ہے اور عوام اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جی بی کو بھی آزاد کشمیر یا مقبوضہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے کیونکہ خود وفاق کا یہ موقف ہے کہ جی بی تنازعہ کشمیر کا ایک فریق ہے اور مسئلہ کشمیر کے تصفیہ تک صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جنوری 2019ء کے فیصلے میں بھی گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر کا ایک حصہ قرار دیتے ہوئے اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو واضح کر دیا گیا ہے، اس کے بعد حکومت پاکستان کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں، ایک یہ کہ وہ جی بی کی متنازعہ حیثیت کو مکمل طور پر بحال کرے، دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنائے تاکہ مسئلہ کشمیر کے تصفیے کے بعد مکمل آئینی صوبہ بنایا جا سکے۔ تین میں نہ تیرہ میں والا راستہ جو گذشتہ ستر سالوں سے اپناتے ہوئے آ رہا ہے اس کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، کیونکہ اداروں کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ گلگت بلتستان کے زمینی حقائق میں کس حد تک تبدیلی آئی ہے اور عوام کا مجموعی رویہ کیا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس کیلئے پی ٹی ایم کے تجربے کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

دریں اثناء جی بی اسمبلی میں پی پی کے رکن اسمبلی جاوید حسین نے اعلان کیا ہے کہ آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کیلئے اسمبلی میں قرارداد لائی جائے گی، جس کیلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ حکومتی اراکین سے بھی مشاورت ہو چکی ہے، حکمران جماعت بھی قرارداد کی حمایت کریگی، جاوید حسین کا کہنا تھا کہ خطے کے تیزی سے بدلتے حالات کے پیش نظر گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیاں ختم کرنا ضروری ہے، کیونکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے بعد اب جی بی کے عوام کو مزید کسی دھوکے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت اور ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی سازشوں کیخلاف جہاں دنیا بھر میں احتجاج ہو رہا ہے وہاں ساتھ ہی پاکستان کے اندر سے کچھ ناگوار سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں، یہ سوالات جی بی کی خصوصی حیثیت سے متعلق ہے، اس حیثیت کا تعین ابھی تک نہ ہو سکا بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑے ایک اہم  فریق کے ساتھ ٹائم پاس کرنے کی پالیسی اپنائی جاتی رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ پور ے ملک کو یک زباں ہو کر اور تمام تر ذاتی و گروہی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف احتجاج کیا جائے بلکہ ملکی و عالمی سطح پر اس burning situation کو ٹھنڈا نہ ہونے دے اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی نازک صورتحال اور بھارتی مظالم کو اجاگر کیا جائے، لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے پالیسی سازوں نے گزشتہ ادوار میں کچھ ایسے ایسے کارنامے بھی سرانجام دے رکھے ہیں کہ جس کی وجہ سے ایسے مواقع پر نہ چاہتے ہوئے بھی ناگوار سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ نازک صورتحال کے باؤجود جی بی کی آئینی حیثیت اور خصوصی حیثیت کا معاملہ پھر سے گرم ہو رہا ہے، عوامی اور سیاسی و سماجی سطح پر کھلے عام مسئلہ کشمیر کے اس اہم فریق کی حیثیت کو واضح کرنے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کے رویئے اور بیانئے میں تبدیلی کی بنیادی وجہ وفاق کا وہ غیر سنجیدہ رویہ ہے جو وہ ہر دور میں اپناتا آ رہا ہے، اس خطے کو کسی بھی دور حکومت میں سنجیدہ نہیں لیا گیا، اس غیر سنجیدگی کے پیچھے وہ عوامل ہیں جو براہ راست گلگت بلتستان کے معروضی حالات اور عوام سے جڑے ہوئے ہیں، جی بی کے عوام فطری طور پر سادہ لوح ثابت ہوئے ہیں، نوے کی دہائی تک آئین سے دور رکھنے کی وجہ سے یہاں سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں، عوام کی یہ سیاسی خاموشی آئینی حقوق سے دوری کی وجہ بنی، عوام کی سادہ لوحی کی وجہ سے  وفاق نے بھی سیاسی و آئینی حقوق دینا درخور اعتنا نہیں سمجھا، اگر ہم کشمیر اور جی بی کا سیاسی، سماجی اور عوامی سطح پر تقابلی جائزہ لیں تو ہمیں کچھ حیران کن حقائق دیکھنے کو ملیں گے۔ کشمیری عوام اور سیاسی قیادت جی بی کے مقابلے میں زیادہ سیاسی شعور رکھتی ہے۔

ساتھ ہی وہ سیاسی طور پر جی بی سے زیادہ ہوشیار مانے جاتے ہیں، آزاد کشمیر میں تقریبا سیاستدانوں سے طلباء تک اور عام لوگوں میں قوم ستانہ جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں، لیکن جی بی میں یہ چیزیں نہ ہونے کے برابر ہیں، 1974ء میں ریاست کا عبوری آئین بننے کے بعد کشمیر میں ایک مکمل ریاستی سیٹ اپ ہے، جہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی نافذ ہے، جہاں سپریم کورٹ میں کوئی غیر مقامی شخص تعینات نہیں ہو سکتا، لیکن جی بی کی سپریم اپیلیٹ کورٹ میں چیف جج سے چپڑاسی تک غیر مقامی لوگوں کو کھپایا جاتا ہے۔ یہ تفریق عوام میں شدید احساس محرومی کا باعث بن رہی ہے، اور اسی احساس محرومی کا نتیجہ اہم ترین مواقع پر ناگوار سوالات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، ابھی فی الحال صرف سوالات ہی اٹھائے جا رہے ہیں، سنجیدہ مطالبات بھی سامنے آنے کو ہیں۔
خبر کا کوڈ : 811354
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب