1
Monday 19 Aug 2019 23:49

واقعہ غدیر خم کے چند اہم پیغامات (حصہ اول)

واقعہ غدیر خم کے چند اہم پیغامات (حصہ اول)
تحریر: جعفر وفا

انسان تاریخی واقعات پر دو انداز میں نظر ڈال سکتا ہے۔ ایک قسم کی نگاہ انتہائی سطحی ہے جس میں تاریخ میں گزرے تلخ اور شیرین واقعات کا صرف ظاہری حد تک علم حاصل کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی نگاہ صرف ان واقعات تک محدود رہتی ہے اور ان کی پیچھے کارفرما عوامل اور اسباب کا علم حاصل کرنے یا ان میں پوشیدہ پیغامات کو کشف کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ لیکن دوسری قسم کی نگاہ انتہائی بصیرت آمیز اور گہری ہوتی ہے۔ اس انداز میں نہ صرف واقعات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے بلکہ ان کے اسباب، ان میں کارفرما موثر عوامل اور ان میں پوشیدہ پیغامات اور سبق کا علم بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ تحریر حاضر میں ہم دوسرے انداز میں واقعہ غدیر خم پر نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ غدیر خم کے واقعے میں پوشیدہ چند اہم پیغامات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ خلیفہ اور وصی پیغمبر اکرم ص منصوب من اللہ ہونا چاہئے
واقعہ غدیر خم کا ایک انتہائی واضح اور روشن پیغام یہ ہے کہ جس طرح رسول اور نبی کو خود خداوند متعال چنتا ہے اور اس کا چناو عوامی الیکشن کے ذریعے ممکن نہیں بالکل اسی طرح نبی کا خلیفہ اور وصی بھی خدا کی جانب سے چنا اور مقرر کیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ جس طرح خود نبی منصوب من اللہ ہوتا ہے اسی طرح نبی کا وصی بھی منصوب من اللہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت غدیر خم کے واقعے سے کئی سال پہلے خداوند متعال سورہ احزاب میں بیان کر چکا تھا۔ ارشاد باری تعالی ہوا:
وَمَا کـانَ لِمـُؤْمِنٍ وَلاَ مـُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَی اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَن یکونَ لَهُمُ الْخِیرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن یعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فـَقَدْ ضـَلَّ ضـَلاَلاً مُّبِیناً (سورہ احزاب، آیت 36)
ترجمہ: "کسی مومن مرد اور عورت کو خدا یا اس کے رسول کی جانب سے کوئی حکم ملنے کے بعد اختیار کا حق حاصل نہیں ہے۔ اور جو بھی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی کا شکار ہو جائے گا۔"
 
لہذا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اسلامی معاشرے کے حکمران اور ولی کے طور پر خدا کی جانب سے رسول خدا ص نے غدیر خم کے میدان میں علی علیہ السلام کا تقرر فرما دیا تھا۔ پیغمبر اکرم ص نے واقعہ غدیر کے بعد اپنی مختصر زندگی کے دوران اس مسئلے پر بارہا تاکید بھی فرمائی ہے۔ جب آنحضور ص نے قبیلہ عامر بن صعدہ کو اسلام کی دعوت دی اور انہوں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس قبیلے کا سربراہ آپ ص کے پاس آ کر کہنے لگا: "اگر ہم اسلام قبول کر لیتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں تو مستقبل میں کامیابی کی صورت میں آیا ہم میں سے کسی کو اپنا خلیفہ بنائیں گے تاکہ آپ کی وفات کے بعد حکومت ہمارے پاس آ سکے؟" رسول خدا ص نے اس کے جواب میں فرمایا: "اِنَّ الاَمْرَ اِلَی الله یَضَعَهُ حَیْثَ یَشَاءُ" (عبدالحسین امینی، الغدیر، جلد 7، صفحہ 134)۔ یعنی "(حکومت کا) امر خدا کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہے گا عطا کر دے گا۔" عقل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ کیسے ممکن ہے نبی خدا کی جانب سے منتخب ہو اور اس کے بعد خدا اسلامی معاشرے کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور معاشرے کے حکمران کا انتخاب عوام کے سپرد کر دے۔
 
2)۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
ہر قوم اور معاشرے کیلئے اہم ترین اور بنیادی ترین مسئلہ حکومت ہوتا ہے۔ ہر معاشرہ اس مسئلے کا ایک خاص راہ حل نکال چکا ہے لیکن اکثر جگہ حکومت کا ماڈل ناقص ہے۔ غدیر خم کے میدان میں خداوند متعال نے اسلامی معاشرے کو حکومت کا جو ماڈل عطا کیا وہ کسی قسم کے نقص و عیب سے پاک اور کامل ترین ماڈل ہے کیونکہ اس کی مرکزیت میں ایک ایسا انسان قرار پایا ہے جو خدا کا مقرر کردہ اور ہر قسم کی خطا سے محفوظ اور معصوم ہے۔ غدیر خم میں خدا کی جانب سے بنی نوع انسان کو عطا کئے جانے والا حکومتی ماڈل ایک عالمی الہی حکومت تشکیل دینے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کرنے سے پہلے وہاں موجود مسلمانوں کی کثیر تعداد سے پوچھا: "اَلَستُ اَوْلَی بِکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمُ" (الغدیر، جلد 1، صفحہ 35)۔ یعنی کیا میں تم پر خود تم سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ سب نے مل کر کہا: "بلی یا رسول اللہ" اس کے بعد رسول خدا ص نے فرمایا: "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ"
 
آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس اقدام سے یہ شائبہ دور ہو جاتا ہے کہ لفظ "ولی" حاکم کے معنی میں نہیں بلکہ صرف "دوست" کے معنی میں ہے۔ کیونکہ دوسروں پر خود ان سے زیادہ حقدار ہونا صرف حکومتی امور میں ہی قابل مشاہدہ ہے۔ رسول خدا ص نے گویا یہ سمجھا دیا کہ میں جس ولایت کا ذکر کر رہا ہوں وہ معاشرے کی سرپرستی، مدیریت اور حکومت کے معنی میں ہے۔ اگرچہ ان شواہد کے باوجود بہت سوں نے لفظ "ولی" سے صرف دوستی مراد لیتے ہوئے نصب الہی کا انکار کر دیا اور نظریہ انتخاب کی جانب چلے گئے۔ نبی اکرم ص کے اس جملے (اَلَستُ اَوْلَی بِکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمُ) کے علاوہ بھی ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول خدا ص کی مراد صرف یہ نہیں تھی کہ علی علیہ السلام سے محبت اور دوستی کرتے رہنا بلکہ لفظ "مولا" سے آنحضور ص کی مراد حکمران اور حکومتی اختیارات تھے۔ ایک دلیل یہ ہے کہ جب غدیر خم کے میدان میں آنحضور ص نے حاجیوں کو جمع ہونے کا حکم دیا تو اس وقت شدید گرمیوں کا موسم تھا اور حاجی بھی حج مکمل کرنے کے بعد تھکے ہوئے تھے اور گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ کیا اتنی شدید گرمی میں حاجیوں کی اتنی بڑی تعداد کو جمع کر کے ایک طویل خطبہ دینے کے بعد یہ کہنا معقول ہے کہ علی علیہ السلام سے محبت اور دوستی رکھنا یا یہ کہ اسلامی معاشرے کے آئندہ سرپرست اور حاکم شرع کا مسئلہ درکار تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
 
خبر کا کوڈ : 811498
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب