0
Tuesday 20 Aug 2019 08:42

دین کی تکمیل اور دینداروں کی ذمہ داری

دین کی تکمیل اور دینداروں کی ذمہ داری
اداریہ
عید غدیر کو اسلام کی بڑی عیدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور کیوں نہ شمار کیا جائے، کیونکہ آج کے دن غدیر خم کے مقام پر قرآنی آیات کی روشنی میں دین کے کامل ہونے کی بشارت دی گئی۔ اسلام دین فطرت اور دین اجتماع ہے اور اس کی تعلیمات صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور معاشرہ سازی بلکہ معاشرے کو کمال تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول خدا نے اپنے جانشین کے طور پر امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا اعلان کیا تو حقیقت میں یہ ثابت کیا کہ میں نے جو دین متعارف کرایا ہے، وہ انسانیت کی فلاح کے لیے ہے اور جب تک انسانیت اس کائنات میں رہے گی، یہ نظام بھی قائم و دائم رہے گا۔ امیر االمومنین علی ابن ابی طالب کو امیر و مولا بنا کر یہ پیغام بھی دے دیا کہ اس نظام کو چلانے کے لیے وہی شخص مناسب ہوگا، جس میں میرے جیسی صلاحیتیں اور صفات ہوں گی۔ آپ نے بہترین اور اہم کام کے لیے بہترین اور سب سے اہم شخص کا انتخاب کرکے الہیٰ انتظام کے بنیادی اصول کو بھی بیان کر دیا۔

اسلام کے اسلامی نظام حکومت یا اسلامی معاشرے کو اس وقت سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جب اس کی امامت اور قیادت ان فراد کے پاس چلی گئی، جن میں اس نظام کے بانی جیسی صفات موجود نہیں تھیں۔ حقیقی اقتدار اعلیٰ کا حق خداوند عالم کی ذات اقدس کو ہے اور دنیا میں انسانی معاشروں پر وہی حکمرانی اور صاحب اقتدار ہوسکتا ہے، جس میں خلیفۃ اللہ کی صفات ہوں۔ عید غدیر کا دن حقیقت میں اس دن اور عید کی یاد دلاتا ہے، جس دن خدا اور خدا کے نبی کے ساتھ کچھ عہدوپیمان کیے گئے تھے۔ غدیر کے موقع پر امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی بعیت لینے کا مقصد الہیٰ نظام کی بقا و ارتقاء تھا۔ پس جس نے اس بعیت کو ماضی و حال یا مستقبل میں توڑا، انہوں نے دین الہیٰ کی بقا اور ارتقاء کے راستے میں کانٹے بوئے ہیں۔ عید غدیر کے متعدد پیغامات و ذمہ داریاں ہیں، جن میں ہر ایک دین کی اجتماعیت کی طرف متوجہ کرنا نظر آتا ہے۔ نظام اور حقیقی سربراہ کے بغیر دین کی بقا و ارتقاء ممکن نہیں، لیکن اس حقیقت کے پیچھے چھپے پیغامات کو درک کرنے کی ضرورت ہے۔

دین کی تکمیل کا اعلان کرکے گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ نظام تا قیامت رہے گا اور اس نظام کی رہنمائی کا بھی اہتمام کر دیا گیا ہے۔ تاقیامت رہنے کی جب بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نظام کو چلانے والے معصوم افراد میں سے جب تک آخری ظہور نہیں کرے گا تو قیامت نہیں آئے گی، تو یہ وہ امید کا چراغ ہے جو کبھی مایوس نہں ہونے دیتا۔ عید غدیر کا دن اس امید کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ راہ طولانی اور دشوار گزار ضرور ہے، لیکن منزل کا وجود یقینی ہے۔ غدیر کا چراغ جب تک جلتا رہے گا، یہ راستہ روشن و تابندہ رہے گا اور اس راہ کے راہی اپنے خون سے اس چراغ کو روشن رکھیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آسمان ولایت پر جگمگانے والے تابندہ چودہ ستاروں کو آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے، جب تک یہ درخشندہ ستارے ہدایت و چراغ منزل رہیں گے، گمراہی کا کوئی امکان نہیں، لیکن جس وقت بھی نور کے یہ مینار آنکھوں سے اوجھل ہوگئے تو یہی قافلے مدینے کی بجائے سقیفے پہنچ سکتے ہیں۔
الحمد ا... الذی جعلنا من المتمسکین بولایه مولانا امیرالمومنین علی بن ابیطالب (ع)
خبر کا کوڈ : 811588
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب