0
Saturday 31 Aug 2019 23:04

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ
رپورٹ: ایس علی حیدر

گذشتہ سال جولائی کے اواخر میں جب ملک بھر میں انتخابات کا عمل مکمل ہوا تو پہلی بار صوبے میں کوئی جماعت مسلسل دوسری مرتبہ حکومت سازی کی پوزیشن میں آگئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے نیا انتخابی اور پارلیمانی ریکارڈ قائم کر دیا، ساتھ ہی دو تہائی اکثریت حاصل کر کے اس نے دوسرا ریکارڈ بھی بنا ڈالا، تاہم یہ حقیقت ہے کہ حکومت سازی کے مرحلے پر پارٹی کو انتہائی اندرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وزارت اعلٰی کے نصف درجن کے لگ بھگ خواہشمند سامنے آگئے تھے۔ پرویز خٹک، اسد قیصر اور عاطف خان کا نام سب سے پہلے سامنے آیا، پرویز خٹک پانچ سالہ وزارت اعلٰی کو انتخابی کامیابی کی بنیاد قرار دے کر اپنے آپ کو حقدار تصور کر رہے تھے، اسد قیصر کا کہنا تھا کہ چونکہ گذشتہ مرتبہ ان کو وزارت اعلٰی کی قربانی دینی پڑی تھی اس لئے اس بار ان کا حق بنتا ہے، عاطف خان نے پہلے سے لابنگ کی ہوئی تھی اسی دوران مشتاق غنی، تیمور سلیم جھگڑا اور اشتیاق ارمڑ کا نام بھی گونجنے لگا۔ میڈیا کی تمام تر توجہ ان ناموں پر مرکوز تھی، تب ہی محمود خان سب سے دھیرے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔ حکومت سازی کے مرحلے پر جب بہت سے امیدواروں نے خود کو وزارت اعلٰی کیلئے سب سے موزوں امیدوار پیش کرنا شروع کیا تو اسوقت سوات کے محمود خان نے مکمل طور پر خاموشی کیساتھ اپنے پتے کھیلنے شروع کئے۔

انہوں نے اس تمام عرصے کے دوران خود کو مکمل طور پر غیر متنازعہ اور سب کیلئے قابل قبول رہنماء کے طور پر پیش کیا جس کے بعد عمران خان نے ہر طرف سے سن گن لینے اور پارٹی ایم پی ایز سے فرداََ فرداََ ملاقاتوں کے دوران اپنا ذہن بناتے ہوئے محمود خان کو وزیراعلٰی نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے پر کہیں سے بھی کوئی ناراضگی ظاہر نہیں کی گئی، ممبران کی بہت بڑی اکثریت نے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ اگر دیکھا جائے تو صوبے کی 70 سالہ سیاسی و پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ملاکنڈ ڈویژن کو صوبے کی وزارت اعلٰی کا منصب سونپا گیا ہے۔ یہ اعزاز ضلع سوات کی تحصیل مٹہ سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی ملاکنڈ کے ریجنل صدر محمود خان کے حصہ میں آیا۔ محمود خان کا شمار باصلاحیت سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے، ان کا تعلق ضلع سوات کی تحصیل مٹہ کے دیرینہ سیاسی گھرانے سے ہے۔
17 اگست 2018ء کو محمود خان نے صوبے کے وزیراعلٰی کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا جس کے ایک ہفتہ بعد ہی صوبائی کابینہ بھی تشکیل دے دی گئی۔ یہاں پر اس دلچسپ حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمیشہ وزیراعلٰی کو اپوزیشن سے خطرات لاحق ہوتے ہیں ہمارے صوبے کی پارلیمانی تاریخ میں 2 وزرائے اعلٰی میں صاحبزادہ عبدالقیوم خان اور پیر صابر شاه عدم اعتماد کا نشانہ بن چکے ہیں، اس لئے عدم اعتماد کا خطرہ ہمیشہ وزیراعلٰی کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔

مگر محمود خان کے ساتھ اس کے بالکل برعکس معاملہ درپیش رہا، ان کو روز اول سے ہی پارٹی کے اندر سے خطرات اور مخالفتوں کا سامنا رہا۔ وزارت اعلٰی کے بعض ناکام امیدواروں نے ان کی حکومت کو دل سے قبول نہیں کیا اور پہلے روز سے نہ صرف اندرونی مخالفتوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا بلکہ سیاسی نجومیوں کی طرف سے بھی بار بار یہی کہا جانے لگا کہ محمود خان چند ہفتوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے، پھر کہا جانے لگا کہ چند ماہ سے زیادہ نہیں نکال سکیں گے۔ یہ بھی کہا جانے لگا کہ حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں، بڑے بڑے مخالفین کو رام کرنا بھی ان کیلئے آسان نہیں۔
حتٰی کہ یہ دعوے بھی کئے گئے کہ مرکزی قیادت جلدی بددل ہو کر وزیراعلٰی سے خود استعفٰی مانگ لے گی، ان کیلئے پہلے دن سے اندرونی سازشیں شروع ہوگئیں۔ محمود خان کو دو مہینے بھی برداشت نہ کیا جاسکا اور اکتوبر میں ان کے خلاف ہلچل شروع کرانے کی کوششیں ہونے لگیں۔ محمود خان بڑے سکون کے ساتھ سب کچھ دیکھ رہے تھے، اکتوبر کے آخری عشرے میں ہی بعض عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا کروا دیا گیا تھا کہ عمران خان جلد ہی وزیراعلٰی کو تبدیل کرنے والے ہیں، یہ افواہیں پھیلانے والے اس کی وجہ بتانے سے قاصر تھے کہ آخر ایسی کونسی قیامت ٹوٹ پڑی کہ پارٹی قیادت کا اعتماد وزیراعلٰی محض دو ماہ کے اندر ہی ختم ہوگیا؟

گویا چائے کی پیالی میں طوفان بپا کر دیا گیا تھا،
جس کے بعد محمود خان خود اسلام آباد جا کر وزیراعظم عمران خان کیساتھ ملے اور ان کو مل کر کہہ دیا کہ اگر ان کا اعتماد باقی نہیں رہا تو پھر وہ اسی وقت استعفٰی دینے کیلئے تیار ہیں، مگر مخالفین کے پُھلائے ہوئے اس سارے غبارے سے ہوا خود پی ٹی آئی کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے نکال دی، جنہوں نے محمودخان کیساتھ ملاقات کے دوران ان پر اپنے بھر پور اعتماد کا اعادہ کرتے ہوئے دوٹوک اعلان کر دیا کہ 5 سال تک محمود خان ہی وزیراعلٰی رہیں گے۔ وزیراعلٰی کیخلاف مہم چلانے والوں کو بہت کچھ سمجھ جانا چاہیئے تھا مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور درپردہ مصروف عمل رہے۔ کوشش کی گئی کہ وزیراعلٰی اور وزیراعظم کے درمیان غلط فہمیاں پھیلا کر اپنا مقصد حاصل کیا جا سکے مگر اس کے بعد عمران خان نے تین مختلف دیگر مواقع پر بھی کھل کر محمود خان کی سپورٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ایسے ہی وزیراعلٰی کی ضرورت تھی۔ اکتوبر کے بعد دسمبر، پھر اپریل میں بھی عمران خان نے اپنے وزیراعلٰی کے ہاتھ مضبوط کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مخالفین کو واضح پیغام دیا کہ محمود خان ہی ان کی صوبائی ٹیم کے کپتان ہیں اور تمام کھلاڑیوں کو ان کی مرضی کے مطابق چلنا ہوگا۔ یوں محمود خان نے ایک سال کے اندر اندر اپنی کارکردگی کی بدولت نہ صرف مخالفین کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے کامیابی کے ساتھ سفر جاری رکھا بلکہ مرکزی قیادت کا اعتماد بھی حاصل کئے رکھا۔

اگر ان کی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نہ صرف پارٹی منشور پر 100 فیصد عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے حکمت عملی وضع کی گئی بلکہ اس پر فوری عمل کا سلسلہ بھی شروع کرایا گیا
جس کے نتیجے میں ایک سالہ دور حکومت میں اہم کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اہم سنگ میل بھی عبور کئے گئے۔ حلف برداری کے ساتھ ہی انہوں نے فاٹا انضمام کے ادھورے ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے تیز رفتار اقدامات شروع کئے اور چند ماہ کے اندر اندر انضمام کی تکمیل کرتے ہوئے تمام صوبائی محکموں کو قبائلی اضلاع تک توسیع دیدی گئی۔ ساتھ ہی قبائلی اضلاع کیلئے 10 سالہ ترقیاتی پلان کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت اگلے 9 سال کے دوران قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی پر 100 ارب روپے سالانہ خرچ کئے جانے ہیں، جبکہ انہی کے دور میں قبائلی اضلاع میں پہلی بار صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ چنانچہ پہلے خیبر اور پھر مہمند میں صوبائی کابینہ کے اجلاس منعقد ہوئے۔ ساتھ ہی قبائلی اضلاع میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کیلئے انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی۔ محمود خان صوبے کے پہلے وزیراعلٰی ہیں جنہوں نے قبائلی علاقوں کے دورے کئے۔ 5 ماہ کی مختصر مدت میں انہوں نے قبائلی اضلاع کے 12 دورے کئے، جبکہ ان کی خصوصی ہدایات پر صوبائی وزراء نے بھی قبائلی اضلاع کے دوروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

اس ایک سال میں قبائلی اضلاع کے 28 ہزار خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کو بیروزگاری سے بچاتے ہوئے ان کو پولیس فورس میں ضم کر دیا گیا، جبکہ قبائلی اضلاع میں عدالتی نظام بھی قائم کیا گیا۔ محمود خان کی خصوصی دلچسپی سے قبائلی اضلاع میں پہلی بار صحت انصاف کارڈز کی تقسیم کا عمل شروع کیا گیا جس کے تحت 5 لاکھ کارڈ تقسیم کئے جائیں گے۔ ساتھ ہی قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کیلئے پہلی بار انصاف روزگار سکیم کے نام سے منصوبہ شروع کیا گیا جس کے ذریعے ایک ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم
کئے جائیں گئے۔ ایک سال میں صوبے کے 5 ہزار اسپیشل پولیس فورس کے اہلکاروں کو بھی مستقل کر کے ان کا مستقبل محفوظ بنا دیا گیا۔ وزیراعلٰی محمود خان کے دور میں پہلی بار جنوبی اضلاع کیلئے بجٹ میں نہ صرف خصوصی پیکج رکھے بلکہ موٹر وے بنانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ ساتھ ہی سوات موٹروے کی توسیع پر بھی کام شروع کیا گیا۔ صوبے نے پہلی بار پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ اور اس کے منافع کے حصول کیلئے سنجیده کوششوں کا آغاز کیا، جس کے بعد ایک معاہدے کے ذریعے نہ صرف صوبے کے وسائل سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کی نیشنل گرڈ میں شامل ہونے کی راہ ہموار ہوئی بلکہ پہلی بار صوبے کو ویلنگ سسٹم کے ذریعے یہی بجلی اپنی صنعتوں کو سستے نرخوں پر فراہمی کا اختیار بھی مل گیا۔

محمود خان کی حکومت نے ایک بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے صوبے کی تمام آبادی کو صحت کارڈز فراہم کرنے کا انقلابی اعلان کیا، جبکہ پشاور کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکج کی منظوری بھی دی گئی۔ محمود خان کی حکومت نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نئے بلدیاتی نظام کیلئے ایکٹ منظور کرایا جبکہ پہلا ٹورازم ایکٹ بھی کابینہ سے منظور ہو چکا ہے۔ صوبے میں 5 سال کے دوران ایک ارب 20 کروڑ پودے لگائے جا چکے ہیں، جبکہ اب مزید ایک ارب پودے لگائے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ہی ملک بھر میں سی پیک
کے تحت پہلے اکنامک زون کی منظوری کے بعد اب رشکئی اکنامک زون پر رواں ماہ کے اواخر میں کام شروع ہونے والا ہے جس سے روزگار کے مواقع ہزاروں کی تعداد میں فراہم ہوسکیں گے۔ ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے کاروباری اور تجارتی مواقع بڑھنے میں مدد مل سکے گی۔
خبر کا کوڈ : 813835
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب