0
Thursday 5 Sep 2019 10:55

غلبے کی جنگ اور کشمیر کا مستقبل

غلبے کی جنگ اور کشمیر کا مستقبل
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

آج دنیا میں غلبے کی جنگ جاری ہے، اس جنگ میں جہان سامراجی طاقتیں پورے زور و شور سے مصروف ہیں، وہاں اسلامی قوتیں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اسلامی بلاک کی شناخت کے حوالے سے اس وقت تین بڑے بلاک عالمی منظرنامے میں موجود ہیں۔ پہلا منظر نامہ سعودی عرب کی صورت میں ہے، جو پورے عالم اسلام پر اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے۔ آل سعود کا نطام بنیادی طور پر تکفیریت اور ابن تیمیہ کے افکار سے متاثر ہے اور اس کا نتیجہ طالبان، القاعدہ، الشباب، بوکوحرام، داعش اور جھبۃ النصرہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ افغانستان میں طالبان کی خلافت اور عرب دنیا میں داعش کی خلافت اس کے چند مظاہر ہیں۔ دوسری لابی ترکی کی ہے۔ ترکی بھی عالم اسلام کی قیادت کا خواب دیکھتا ہے اور خلافت عثمانیہ کے دور کو احیاء کرنے کا خواہشمند ہے۔ یہ اسلامی نظام بظاہر جدید و قدیم کی آمیزش ہے، لیکن اس اسلام میں سیکولر نظریات غالب ہیں، البتہ اس کو اخوانی اسلام کی جدید شکل بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس نظام اسلام میں امریکہ سے بھی تعلقات عین اسلام ہیں اور مسلمانوں کے قبلہ اول پر قابض اسرائیل سے بھی ہر طرح کے تعلقات جائز ہیں۔ اس کو سعودی اسلام کی طرح امریکائی اسلام کہا جا سکتا ہے۔

تیسری لابی یا برانڈ ایران کے اسلامی انقلاب کی بعد سامنے آئی، جو امام خمینی کے بقول اسلام ناب محمدی ہے، اس کی بنیاد خدا پر ایمان اور طاغوت سے نفرت پر استوار ہے۔ اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی جا سکتی ہے، لیکن ہم اپنے اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔ یعنی آل سعود کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی بالخصوص پاکستان میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اسلامی غلبہ کی تحریک میں آل سعود اور سعودی عرب کا بنیادی کردار ہے، وہ اپنے تکفیری نظریات کے ذریعے ابن تیمیہ کے اسلام کو دنیا بھر میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے حوالے سے پاکستان ہمیشہ ایک زرخیز ملک رہا ہے، پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے، جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کے مسلمانوں میں اسلام سے بہت زیادہ لگائو ہے اور پاکستانی عوام کی اس صلاحیت سے مختلف طاقتیں سوئے استفادہ کرتی آرہی ہیں۔افغانستان کی جنگ ہو یا سعودی عرب کا دفاع، پاکستان اس میں آگے آگے رہا۔ سعودی عرب کے پاکستان میں نفوذ کی ایک بڑی وجہ اس ملک کے عوام کی اسلام پسندی اور حرمین شریفین سے جذباتی عشق ہے۔ آل سعود نے اس کمزوری سے ہمیشہ فائدہ اٹھایا اور پاکستانی عوام کا مختلف مواقع پر استحصال کیا ہے۔

پاکستان میں مذہبی دہشت گردی اور مذہبی حقوق کی پامالی کے پیچھے ایک بڑی وجہ پاکستان میں آل سعود کا اثر و نفوذ ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1۔ مذہبی حقوق کی پامالی
2۔ شہری حقوق کی پامالی
3۔ سیاسی حقوق کی پامالی
4۔ سماجی حقوق کی پامالی
مذہبی حقوق کی پامالی میں آل سعود کا اثر و نفوذ نمایاں ہے۔ پاکستان اپنی اقتصادی کمزوری اور دو ملین سے زیادہ افراد کے روزگار کی وجہ سے خلیج فارس کے ممالک میں موجودگی اس بات کا باعث بنتی ہے کہ وہ حکومت پاکستان کی بعض پالیسیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ مذہبی مسائل میں آل سعود کا اثر و نفوذ دو عنوان سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، ایک تو پاکستان مختلف اقتصادی مسائل بالخصوص توانائی کے بحران کی وجہ سے سعودی عرب پر انحصار کرتا ہے، دوسری وجہ سعودی حکومت کی مدد سے پاکستان میں موجود وہابی و اہل حدیث نظریات کے مدارس کی بڑی تعداد۔

پاکستان میں سعودی مدارس میں پڑھنے والے دینی طلباء کی تعداد ملینوں میں ہے، جن کو پاکستان کی سیاسی مذہبی جماعتوں کی بھی حمایت ہے۔ یہ مدارس، طلباء اور مذہبی جماعتیں سعودی عرب کی لابی تصور کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا حکومت پر ہمیشہ ایک دبائو رہتا ہے۔ سعودی عرب اپنی اس لابی کے ذریعے حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشرے میں بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان کے حکومتی تعلیمی اداروں میں وہابی افکار کے حامل اساتذہ، طلباء اور طلبہ تنظمیں بھی سعودی لابی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آل سعود کی حمایت یافتہ پارلیمانی سیاسی جماعتیں بھی سعودی عرب کی ایک مضبوط لابی شمار ہوتی ہیں۔ آل سعود کا یہ اثر و نفوذ جہاں دیگر شعبہ جات حتیٰ خارجہ سیاست میں اثرانداز ہوتا ہے، وہاں اس کا اہل سنت بریلوی اور تشیع کے داخلی مسائل پر بھی براہ راست اثر مرتب ہوتا ہے۔ پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے میں تکفیری گروہوں کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان میں موجود اس کی لابی، جو اس وقت فوج، بیوروکریسی، پارلیمنٹ، تجارت، یونیورسٹی اور دینی مدارس وغیرہ میں موجود ہے، جب کوئی سعودی مخالف مسئلہ سامنے آتا ہے تو یہ لابی پوری طرح سرگرم عمل ہو جاتی ہے اور آل سعود مخالف تحریک یا مسئلے کو فوراً دبا دیا جاتا ہے۔

اس کی چند مثالیں پاکستان میں بحرینی اور یمنی انقلابیوں کی حمایت اور ایران کی امریکہ مخالف پالیسیوں کی حمایت ہے۔ پاکستان میں اہل تشیع کے انسانی و مذہبی حقوق کی پامالی میں آل سعود اور امریکہ کا نمایاں کردار ہے۔ ماضی اور حال میں تشیع کے اہم اور کلیدی افراد جن میں بیوروکریٹ، تاجر، ڈاکٹرز، وکلا اور مختلف شعبوں کے اہم افراد شامل تھے، ان کے قتل میں تکفیری تنظیموں کا کردار تھا، وہ بالواسط یا بلاواسط سعودی عرب سے مربوط تھیں۔ شیعہ پڑھے لکھے طبقے کو پاکستان میں اہم عہدون سے محروم کرنا یا انہیں علمی و عملی صلاحیت ہونے کے باوجود فیصلہ ساز سطح تک پہنچنے میں بھی سعودی لابی رکاوٹ بنتی ہے، جو تشیع کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی و پامالی ہے۔ پاکستان میں تشیع کی اہم سیاسی شخصیات کو فرقہ وارانہ قرار دیکر ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ عوام کی اکثریت ان سے بدظن ہو جاتی ہے اور وہ پارلیمنٹ میں پہنچنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں شیعہ باصلاحیت افراد کو سعودی عرب اور سعودی لابی کے پروپیگنڈے کے خوف سے اعلیٰ عہدوں سے محروم رکھتی ہیں، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس اور تعلیم دونوں شعبوں میں سعودی لابی کے اثر و نفوذ کی وجہ سے باصلاحیت شیعہ افراد اور طلبہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس اور تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ فوج اور بیوروکریسی میں بھی شیعہ بنیادوں پر باصلاحیت افراد کو مسترد کیا جاتا ہے اور شیعہ مسلمان فیصلہ ساز اجرائی اداروں میں نہیں پہنچ پاتے۔ تمام شعبوں میں انسانی حقوق کی پامالی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں بھی تکفیری دہشت گردوں کے جرائم کے ساتھ بیلنس توازن قائم کرنے لیے شیعہ نوجوانوں کو بغیر کسی جرم کے جیلوں اور زندانوں میں قید کیا جاتا ہے اور بعض اوقات پولیس اور خفیہ ایجنسیاں بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرکے ان کو بڑی بڑی سزائیں بھِی دلوانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

پاکستان میں شیعہ حقوق کی پامالی کی تازہ ترین مثال سینکڑوں شیعہ نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں ہیں۔ کئی شیعہ نوجوان گذشتہ چار سے پانچ سال سے حکومتی ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں، لیکن ان کا کوئی اتا پتہ نہیں۔ خفیہ ادارے گھروں سے نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، نہ انہیں عدالت میں پیش کرتے ہیں اور نہ ہی والدین کو ان کے جرائم یا الزامات کے بارے میں کچھ بتایا جاتا ہے۔ بازیاب ہونے والے بعض افراد کے بیان کردہ احوال کے مطابق جبری اغوا کیے جانے والے افراد کو ایسی جگہوں پر رکھا جاتا ہے، جن کی صورتحال گوانتاناموبے، ابو غریب اور بگرام سے بھی بدتر ہے۔ وہاں مخصوص تکفیری مذہب کی تبلیغ کی جاتی ہے اور گرفتار شدہ افراد کو دین تشیع کو گالیاں دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حال میں رہا ہونے والے ایک بے گناہ قیدی کے بقول "ہمیں شیعہ افراد کے سامنے لا کر مذہب تشیع اور تشیع کی اہم شخصیات کو گالیاں دینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ہماری شکلوں اور داڑھیوں کو مخصوص تکفیریوں کی طرح بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں تکفیری علاقوں میں بسوں سے اتار کر شیعہ شناخت کے بعد شہید کیا جاتا ہے۔ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہیئے، لیکن شیعہ مسلمانوں کے ساتھ حکومت کا رویہ آئینی اصولوں سے تضاد رکھتا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق بھی پامال کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی نہیں۔ اب جبکہ پاکستان میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں اور اس میں شیعہ مسلمان بھی محب وطن شہری اور مظلوم کی حمایت کا عملی اظہار کر رہے ہیں، ریاستی اداروں کو اس مسئلے پر نظرثانی کی ضرورت ہے کہ شیعہ مسنگ پرسنز کے حوالے سے پاکستان کی غیر مرئی طاقتوں کا عملی کردار تبدیل ہونا چاہیئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کشمیریوں پر ظلم کرنے والے ہندو انتہا پسند پاکستان کے کسی ادارے کو یہ طعنہ نہ دے دیں کہ ہندوستانی ریاست کشمیریوں کو پکڑتی ہے، زندانوں میں ڈالتی ہے، قتل بھی کرتی ہے لیکن کشمیری خاندان کو اس بات کا ضرور علم ہوتا ہے کہ اس کے بیٹے، بھائی، باپ کو ہندوستاتی پولیس یا فوج کے پاس ہے، لیکن پاکستان میں تو جسے جبری اغوا کیا جاتا ہے، اس کے والدین اور عزیز و اقارب کو بھی اس کی خبر نہیں دی جاتی کہ وہ کہاں ہے اور کس جرم میں کس کی تحویل میں ہے۔

پاکستان میں تشیع کے خلاف ہر اقدام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ سعودی عرب یا سعودی لابی کا ضرور ہاتھ ہوتا ہے، اب جبکہ پاکستان میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے تمام پاکستانی قوم ایک صفحے پر نظر آرہی ہے، وہ مذہبی طبقے جو براہ راست سعودی اثر و رسوخ کے زیرسایہ اپنی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے ہیں، ابھی تک مخمصے کا شکار ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دینے اور پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی بجائے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے گجرات کے قصائی اور کشمیریوں کے قاتل مودی کو اپنے ملک کا اعلیٰ ترین ایوارڈ دینا ایسا بنیادی نکتہ ہے، جس نے پاکستانی عوام پر سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی ماہیت کو آشکار کر دیا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی، عرب حکمرانوں اور امریکی تعلقات کے تناظر میں تشکیل پاتی ہے، لیکن کشمیر کی موجودہ صورتحال نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کئی سوال پیدا کر دیئے ہیں۔

دوسری طرف ایران کے رہبر اور سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت کرکے ان آوازوں کو خاموش کر دیا ہے، جو عرصے سے چیخ چیخ کر یہ دعوے کر رہے تھے کہ ایران کے ہندوستان سے تجارتی تعلقات بہت قریبی ہیں، لہذا وہ پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔ ایران نے اس کے باوجود کہ سخت ترین اقتصادی پابندیوں میں ہندوستان نے اس کا ساتھ دیا تھا، لیکن مسلمان اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں صدائے احتجاج بلند کی۔ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے بعض اندرونی حلقے پی ٹی آئی حکومت پر شک و شبے کا اظہار کر رہے ہیں، البتہ اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ آج کی تاریخوں میں پی ٹی آئی اور پاکستانی اسٹبلشمنٹ ایک ہی صفحے پر ہے۔ آج اگر کشمیر پر کوئی سودی بازی ہو رہی ہے تو اس میں حکومت اور فوج برابر کے شریک ہیں، ایسی صورتحال میں ایران سمیت کسی دوسرے ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ سے بڑھ کر ہندوستان کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے تو یہ نہ صرف غیر پیشہ وارانہ اور غیر منطقی ہے بلکہ ناقابل عمل بھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 814604
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے