0
Sunday 8 Sep 2019 15:03

ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔۔؟

ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔۔؟
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

فضائے عالم میں سوز حسین ہے، کائنات احساس میں شور حسین ہے، ہر طرف سے حسین حسین کی دلنواز صدائیں ہمیں متوجہ کر رہی ہیں کہ ہم اٹھیں اور حرکت کریں، آگے بڑھیں اور بڑھ کر  ایک متحرک  کردار ادا کرتے ہوئے عزاداری کے پلیٹ فارم سے قوم و سماج  کی بہبودی کے لئے کچھ کریں، کچھ لوگ ان ایام میں غریبوں تک کھانا پہنچاتے ہیں، ہم انکے ساتھ کیا کر سکتے ہیں خود سے پوچھیں اور ضمیر کا جو بھی جواب آئے اسے سنتے ہوئے  پہنچ جائیں، وہاں جہاں کچھ غریب کھانے کا انتظار کر رہے ہیں، اگر کچھ لوگوں نے ایام عزا میں میڈیکل کیمپ لگائے ہوئے ہوئے اور وہ ضرورت مندوں کا مفت علاج کر رہے ہیں تو ہم سوچیں ہم وہاں کیا کردار نبھا سکتے ہیں۔ اگر کہیں بلڈ بینک قائم ہے اور لوگ سید الشہداء کے نام پر خون ہدیہ کر رہے ہیں، تو بھی ہم سوچیں کہ ہم وہاں کس خانے میں فٹ ہو کر خدمت کر سکتے ہیں، اسی طرح اگر جلوس عزا گزرنے والی سڑکوں سے کوڑا کرکٹ صاف کرنے کی بات ہو تو وہاں بھی ہم خود سے سوال کریں کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں یا نہیں، اگر کچھ نہیں کر سکتے اور اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ صفائی ستھرائی کرنے والے والنٹیرئیر کو نشاندہی کریں کہ فلاں جگہ انکی نظروں میں نہیں آ سکی اور وہاں کچرا پڑا ہے تو یہ بھی ایک قسم کا تعاون ہے۔

غرض امام حسین علیہ السلام نے ان ایام عزا میں ہر ایک کے لئے ایک کام رکھا ہے، ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے ہم کیا کر سکتے ہیں، علاوہ از ایں یہ ایام عزا ہم سب کے لئے ایک غنیمت موقع ہیں، کہ ہم ان میں اپنی علمی و فکری اور روحانی و معنوی پیاس بجھا سکیں، اور کربلا کی آفاقی تعلیمات کی روشنی میں مستقبل کے خطوط ترسیم کر سکیں۔ آج معاشرہ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو تو گناہوں سے محفوظ رکھ  لیتے ہیں، تقٰوی و نیکی کی طرف آنے میں دوسروں کی جس طرح مدد کرنا چاہیئے نہیں کر پاتے، یا پھر کچھ عبادتوں کو انجام دیکر ہم سمجھتے ہیں ہم نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیا ہے، اب ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اجتماعی و معاشرتی یا سیاسی مسائل میں سوجھ بوجھ اور گہری نظر کے فقدان کی بنیاد پر بسا اوقات اچھے کاموں کی انجام دہی کے بعد بھی اپنی خاموشی کی وجہ سے یا غلط موقف اختیار کرنے کی بنیاد پر دشمنان دین و خدا کی حمایت کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کے خیمہ کی مضبوطی کا سبب بن جاتے ہیں، جو ظالم و گناہ گار ہیں جبکہ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر تم حسینی ہو تو جس طرح  انفرادی طور پر تم اپنی عبادتوں میں خدا کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسکے علاوہ کسی کے سامنے جھکنے کو  تیار نہیں ہو، ویسے ہی سماجی اور معاشرتی مسائل میں بھی تمہارے لئے ضروری ہے کہ دشمنان خدا اور گناہ گاروں کا تعاون نہ ہو چاہے وہ کسی سیاسی جماعت سے منسلک ہونے کی مجبوری کے تحت ہو، یا  پھر کسی دباؤ اور پریشر کی بنیاد پر ہو۔

تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم تقٰوی الٰہی اور نیکیوں کی طرف دعوت دینے والے بنو  ہرگز ہرگز گناہ و دشمنی کے سلسلہ سے کسی کا تعاون نہ کرو۔ (1) جب ہم امام حسین علیہ السلام کی تحریک پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے، اس پوری تحریک میں ۲ بنیادی عنصر پائے جاتے ہیں۔
۱۔ اثم و عدوان پر تعاون کا نہ ہونا۔
۲۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔

اگر تاریخی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اثم و عدوان پر تعاون کا نہ ہونا اور امر بالمعروف کے فریضہ پر عمل یہ دونوں ہی وہ چیزیں ہیں، جن پر توجہ کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام نے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر ایک بہتر و سالم معاشرہ چاہتے ہو تو ان دونوں عناصر کا خیال رکھنا ہوگا، چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ امیر شام نے جب امام حسین علیہ السلام کے سامنے یزید کی تعریف و تمجید کی ہے، تو امام علیہ السلام نے سرے سے اسکی باتوں کو رد کرتے ہوئے فرمایا ہے، یہ جو تو یزید کی تعریف کر رہا ہے سب کے سب جھوٹ ہے، فریب ہے اگر تجھے سچ ہی کہنا ہے تو اسکی شراب نوشی کی بات کر، اسکے کھیل کود میں مشغول ہونے اور فرمان الٰہی سے سرپیچی کرنے والے کاموں  کے سلسلہ میں بات کر اور یہ کہہ کے میں درحقیقت ایسے فاسد و فاسق انسان کی تم سے بیعت لینا چاہتا ہوں۔ (2)

یہ ایک  نمونہ ہے جو امیر شام سے ملاقات کے وقت امام حسین علیہ السلام کے ردعمل کے طور پر ہمیں متوجہ کر رہا ہے کہ اگر کوئی جھوٹی تعریفیں کرتا ہوا ہمارے سامنے آئے اور کسی نابکار کو کارآمد شخصیت کے طور پر پیش کرے، تو اسکی حقیقت کو برملا کرنا حسینی کردار ہے۔ ایک اور مقام جہاں امام حسین علیہ السلام نے اثم و عدوان کے تحت تعاون نہ کرتے ہوئے گناہگار و دشمن خدا کی حقیقت کو واضح کیا ہے وہ جگہ ہے جہاں مروان نے آپکو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے، اس مقام پر بھی آپ نے واضح الفاظ میں فرمایا، میں وہ نہیں جو یزید کی بیعت کر لوں۔ (3) اسی طرح عبد الرحمٰن بن ابی بکر و عبد اللہ بن زبیر، و عبداللہ ابن عمر سے جب ملاقات ہوئی ہے اور ان لوگوں نے یزید کی بیعت کے سلسلہ سے استفسار کیا ہے تو آپ نے واضح الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے اس بات کو واضح کر دیا کہ یزید کی بیعت ظلم و جور میں معاونت کا سبب ہوگی، جبکہ آپ نے بر و تقوی کی طرف دعوت دیتے ہوئے  لوگوں کو اپنی طرف اس لئے بلایا ہے کہ میں تمہیں  بھلائی و خیر کی طرف دعوت دے رہا ہوں، چنانچہ اہل بصرہ کو لکھے جانے والے خط میں آپ فرماتے ہیں، بیشک سنت مردہ کر دی گئی ہے اگر تم میری دعوت پر لبیک کہو اور میری اطاعت کرو تو میں راہ رشد و کمال کی طرف تمہاری رہنمائی کرونگا۔ (4) جناب محمد حنفیہ کو کی جانے والی وصیت میں بھی یہی بات نظر آتی ہے۔ جس میں آپ فرماتے ہیں کہ میں اپنے  جد کی امت کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں، اپنے جد اور اپنے بابا کی سیرت کو قائم کرنا چاہتا ہوں۔ (5)

علاوہ از ایں جناب مسلم کو کوفے بھیجنے کا مقصد ہی تھا کہ امام حسین علیہ السلام بر و تقوی کی طرف لوگوں کو بلا رہے تھے اور تعاونوا علی الاثم والعدوان سے لوگوں کو روک رہے تھے، لیکن یہ کوفیوں کا طرز عمل تھا کہ جنہوں نے جناب مسلم کو تنہا چھوڑ دیا اور بر و تقوی کی طرف دعوت کو ترک کر کے اثم و عدوان کے تعاون میں شامل ہو گئے، در نتیجہ آیات قرآنی کی پامالی کا سبب بنے، وہ آیات جو اثم و عدوان  پر تعاون کو روک کر بر و تقوی کی طرف دعوت دے رہی تھیں، جہاں کوفے کے لوگ بر و تقوی کو چھوڑ کر اثم و عدوان پر تعاون کر رہے تھے، وہیں اسی کوفے میں ایک عورت تھی جو مرد بن کر اثم و عدوان پر تعاون کو ٹھکرا کر بر و تقوی کی طرف دعوت دے رہی تھی اور جناب مسلم کو پناہ دیکر بتا رہی تھی کہ میں ہرگز ہرگز دشمنان دین کی مدد نہیں کر سکتی، چاہے اسکے لئے میرے گھر کا محاصرہ ہی کیوں نہ کر لیا جائے لیکن سفیر حسینی کو پناہ ضرور دونگی، یہ میرا ایمانی فریضہ ہے، میں ایسے سماج کا حصہ نہیں بن سکتی جو اثم و عدان کی طرف جا رہا ہے۔ میرا راستہ الگ ہے انکا راستہ الک ہے۔ میری نظر میں دنیا کی چند روزہ زندگی نہیں بلکہ آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی ہے اور میں اثم و عدوان پر تعاون کر کے اپنی دائمی زندگی کا سودا نہیں کر سکتی ہوں۔ طوعہ کا یہ عمل ہمیں بتا رہا ہے کہ  اگر ایک عورت پورے کوفہ کے پلٹ جانے کے بعد بھی اپنے موقف پر ڈٹی رہتی ہے، اور سفیر حسینی کا ساتھ نہیں چھوڑتی ہے کہ اثم و عدوان پر تعاون  اسے برداشت نہیں کہ یہ بات روح حسینی کے خلاف ہے، تو یقینا آج کی موجودہ صورت حال میں ہم  اتنا تو کر سکتے ہیں کہ بھلے ہی اللہ والوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی طاقت پیدا نہ کر سکیں، کم از کم انکی مخالفت تو نہ کریں، جو دین کو صحیح انداز میں پیش کرنا چاہتے ہیں اور حقیقی دین کو ہم تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

ذرا اپنے معاشرہ کا ہم جائزہ لیں ہم کہاں جا رہے ہیں؟ اقتدار پرستی نے ہمیں کہاں لے جا کر کھڑا کر دیا ہے کہ ایک طرف تو ہم امام حسین علیہ السلام کا ماتم کرتے ہیں دوسری طرح ایسے لوگوں کی حمایت بھی ہم  میں سے بعض لوگ کرتے ہیں جنکے بارے میں بالکل واضح اور روشن ہے کہ انکا طرز فکر وہی ہے جو یزید کا تھا، انکی سوچ وہی ہے جو فرعون و نمرود کی تھی، آخر سب کچھ سمجھ لینے کے باوجو د بھی ہم کیوں دشمنان دین کے ہاتھوں مہرہ بنے ہوئے ہیں۔ کتنے تعجب کی بات ہے شہر علم و ادب لکھنو میں محرم کے تشہیراتی بینرز و پوسٹرز کو  انتظامیہ کی طرف سے اتار دیا جاتا ہے اور اسکے باوجود  بعض لوگ ایک خاص پارٹی کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، جبکہ عام دنوں میں ہورڈنگ و پوسٹر ہمیشہ لگے رہتے ہیں اور ایام عزا میں انہیں اتار کر واضح انداز میں انتظامیہ یہ بتا رہی ہے کہ ہم کسی بھی طرح سے کربلا کی یاد یا اسکی تشہیری علامتوں کو پھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسے میں ان لوگوں کا خاموش رہنا تعاون علی الاثم والعدوان نہیں ہے، جو دن میں دس مرتبہ انتظامیہ سے متعلقہ دفاتر کے چکر لگاتے ہیں، اور اپنے ذاتی مفاد کے حصول میں کوشاں رہتے ہیں۔؟
کیا کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خاموشی حسینی طرز عمل ہے یا پھر وہاں کے مظلوموں کے بارے میں بولنا ہمارے لئے ضروری ہے؟ کیا ہم سب محرم الحرام کے ان ایام میں حسینی طرزعمل اختیار کرتے ہوئے جمہوری اصولوں کے سایہ میں ملک میں ہونے والی ناانصافی پر اپنا احتجاج تک درج نہیں کرا سکتے؟ کیا ہم سب کی خاموشی تعاون علی الاثم و العدوان کے زمرہ میں نہیں ہے؟

کیا یمن پر ہونے والی یلغار دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم صرف اخبارات کی سرخیوں کے لئے ہیں، یا ان سرخیوں کا ہم سے بھی کوئی مطالبہ ہے؟  اگر ہم سے کوئی مطالبہ ہے تو ہم کیا کر رہے ہیں؟ کتنا ہم بر و تقوی کے سلسلہ سے کوشش کر رہے ہیں اور کس قدر ہم ظلم و عدوان کے خلاف کھڑے رہنے کی طاقت اپنے وجود کے اندر جمع کر پا رہے ہیں، ملک و قوم کی بات تو چھوڑیں اپنے ہی معاشرہ میں اپنے ہی حسینہ و امام بارگاہ میں اپنی ہی مساجد میں کیا، ہم ان انصافیوں کے سامنے کھڑے ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں جنکے تحت کچھ خاص افراد دینی مراکز میں اپنی انا کا بت سجا کر لوگوں سے ان پر مالائیں چڑھوا رہے ہیں اور اپنے نام و نمود کی خاطر دین کے اصولوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، کیا ہم ایسے بدمعاشوں کے سامنے زبان کھول سکنے کی طاقت رکھتے ہیں جو  ایام عزا میں لوگوں کو من و تو کے جھگڑوں میں الجھا کر قوم کو تباہی کی طرف  لے کر جا رہے ہیں؟ کیا  ہم نے اپنے ماتمی دستوں، انجمنوں اور تنظیموں میں اس بات کو ترویج دینے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا ماتمی  جہاں اپنے سینہ پر ماتم کر کے عشق حسینی سے محبت کا ثبوت دیتا ہے، وہیں دنیا والوں کو یہ بھی بتاتا ہے کہ ہمارے سینے پر پڑنے والے ہاتھ رخ ظالم پر بھرپور طمانچوں کی صورت بھی پڑ سکتے ہیں ۔ اگر ہم امام حسین علیہ السلام کی تحریک کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ امر  بالمروف و نہی عن المنکر و بر و تقٰوی کی طرف دعوت نیز اثم و عدوان کے سلسسلہ سے تعاون سے پرہیز  تحریک حسینی کی بنیاد ہے، ہمارا اب یہ خود سے سوال ہے کہ ہم اس بنیاد پر کہاں تک عمل کر رہے ہیں؟  اور آج کی موجودہ کربلا میں کہاں کھڑے ہیں؟
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
1۔ وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ... مائدہ ۲۔
2۔ سلوک عاشورائی، آیت اللہ مجتبی تہرانی، ص ۱۱
"مِثْلِی لَا یُبَایِعُ مِثْلَهُ" اللهوف، ص 22
إِنِّي أَدْعُوكُمْ إِلَى اَللَّهِ وَ إِلَى نَبِيِّهِ فَإِنَّ اَلسُّنَّةَ قَدْ أُمِيتَتْ فَإِنْ تُجِيبُوا دَعْوَتِي وَ تُطِيعُوا أَمْرِي، مثیر الأحزان، جلد 2، صفحه 27، بحار الانوار، جلد ۴۴، ص۳۳۹
5۔  و أني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما و إنما خرجت لطلب الاصلاح في أمة جدي صلى الله عليه وآله أريد أن آمر بالمعروف وأنهى عن المنكر، و أسير بسيرة جدي و أبي علي۔ بحار الأنوار، العلامة المجلسي، ج ٤٤، الصفحة ٣٢٩
خبر کا کوڈ : 815199
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب