0
Sunday 8 Sep 2019 14:08

سعادت الکونین فی مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(2)

سعادت الکونین فی مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(2)
تحریر: ثاقب اکبر
 
’’سعادت الکونین فی مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ‘‘ پیر محمد خالد سلطان القادری سروری کی تصنیف ہے۔ پیر محمد خالد سلطان قادری عصر حاضر کی معروف اور بلند مرتبہ مذہبی شخصیات میں سے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے رکن رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ جماعت اہل سنت کے ناظم اعلیٰ بھی ہیں۔ ان کی کتاب کے حوالے سے کچھ مطالب ہم پہلی قسط میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرچکے ہیں، پیش نظر سطور میں چند مزید مطالب کا انتخاب پیش کرتے ہیں، یقیناً ان کا مطالعہ اس امر کے اظہار کا ذریعہ بنے گا کہ امام حسین علیہ السلام تمام مسلمانوں کے مابین محبوب ہستی ہیں اور اس محبت کی بنیاد خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن حکیم نے رکھی ہے۔
 
پیر صاحب نے جہاں یہ حدیث نقل کی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں، وہاں انھوں نے ’’حجۃ الوداع سے واپسی کے وقت محبت اہل بیت پر خطبہ‘‘ کے زیر عنوان صحیح مسلم کی ایک حدیث نقل کی ہے، جس کا ترجمہ وہ یوں لکھتے ہیں: "حضرت سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز مقام غدیر خم میں خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے جلوہ گر ہوئے، جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے، پس آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لایا، تعریف بیان کی اور وعظ فرمایا، نصیحتیں فرمائیں اور آخرت کی یاد دلائی، پھر ارشاد فرمایا: امابعد: اے لوگو! بیشک میں جامۂ بشری میں جلوہ گر ہوا ہوں، عنقریب میرے رب کا قاصد میرے پاس آئے گا اور میں اس کی دعوت کو قبول کروں گا اور میں تم میں دو عظیم ترین نعمتیں چھوڑے جا رہا ہوں ان میں سے ایک کتاب اللہ ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے۔ تو تم اللہ کی کتاب کو تھام لو اور مضبوطی سے پکڑے رہو، اس کے بعد آپ  نے قرآن کریم کے بارے میں تلقین فرمائی اور اس کی طرف ترغیب دلائی پھرارشاد فرمایا: (دوسری نعمت) اہل بیت کرام ہے، میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میرے اہل بیت کے بارے میں، میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میرے اہل بیت کے بارے میں۔"(مسلم شریف ج:2، ص279،حدیث:2408 مشکوۃ المصابیح: ص 68، زجاجۃ المصابیح ج:5،ص317تا319)(ص55)
 
امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے حوالے سے متعدد روایات موجود ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپؑ نے گریہ فرمایا۔ ایسی ہی ایک روایت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چچی جان حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، جسے زیر نظر کتاب میں نقل کیا گیا ہے، ہم اس کے آخری حصے کا ترجمہ نقل کرتے ہیں، جس کے مطابق حضرت ام الفضلؓ کہتی ہیں: "پھر ایک روز میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں پیش کیا، پھر اس کے بعد کیا دیکھتی ہوں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چشمان اقدس اشک بار ہیں، یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان! اشکباری کا سبب کیا ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے میری خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: عنقریب میری امت کے کچھ لوگ میرے اس بیٹے کو شہید کریں گے۔ میں نے عرض کیا، سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ اس شہزادے کو شہید کریں گے؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں! اور جبرئیل امین علیہ السلام نے اس مقام کی سرخ مٹی میری خدمت میں پیش کی۔"(دلائل النبوۃ للبہیقی، حدیث نمبر:2805۔ مشکوۃ المصابیح، ج1، ص572، زجاجۃ المصابیح، ج5، ص: 227و 228، باب مناقب اہل بیت)(ص59)
 
کتاب میں متعدد ایسی روایات درج کی گئی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریمؐ حسنین کریمین علیہما السلام کو اپنا بیٹا کہتے تھے۔ ان میں سے ایک روایت ملاحظہ کیجیے: "سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میرے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: علی رضی اللہ عنہ ان کو ساتھ لے گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تلاش میں متوجہ ہوئے تو انھیں پانی پینے کی جگہ پر کھیلتے ہوئے پایا اور ان کے سامنے کچھ کھجوریں بچی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! خیال رکھنا میرے بیٹوں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے واپس لے آنا۔" (حاکم، المستدرک: 180:3:رقم4774)(ص62) امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی تفصیلی پیشگوئیاں معتبر احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے آئی ہیں۔ ایسی روایات بھی موجود ہیں، جن میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت سے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہے۔ ایک روایت جو زیر نظر کتاب میں نقل کی گئی ہے اس کا ترجمہ ہم اسی کتاب سے نقل کرتے ہیں: "یقیناً میرا یہ بیٹا یعنی حسین رضی اللہ عنہ عراق کے ایک علاقہ میں شہید کیا جائے گا، جسے کربلا کہا جائے گا، تو افراد امت میں سے جو اس وقت موجود ہو، اسے چاہیے کہ ان کی نصرت و حمایت میں کھڑا ہو جائے۔"(کنزالعمال، حدیث نمبر، 34314)(ص83)
 
کتاب میں امام حسین علیہ السلام کی عظمت، ان کا مقام علمی و اخلاقی نیز ان کی بہت سی کرامات کا بھی ذکر موجود ہے۔ ایک باب ’’واقعہ کربلا و شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ‘‘ کے عنوان سے بھی باندھا گیا ہے، جس میں یزید کی ولی عہدی سے لے کر آپ کے سفر کربلا اور پھر میدان کربلا میں شہادت کے واقعات، نیز آپ کے اہل بیت اور مخدرات عصمت کی اسیری کی طرف بھی کچھ اشارہ موجود ہے۔ ایک اور باب ’’حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ غیروں کی نظر میں‘‘ بھی قابل مطالعہ ہے، جس میں مختلف غیر مسلم شخصیات کا امام حسین علیہ السلام کے لیے اظہار محبت و مودت موجود ہے، بڑے بڑے مفکرین اور دانشوروں نے آپ کی عظمت کے گیت گائے ہیں اور آپ کی عظیم الشان قربانی کی تاثیر کو بیان کیا ہے۔ ان میں سے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی عبارت ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں، وہ اپنی کتاب ’’سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
 
راہ حق پر چلنے والے جانتے ہیں کہ صلٰوۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے اور سب سے سچی گواہی خون کی گواہی ہے، تاریخ کے حافظے سے بڑے سے بڑے شہنشاہوں کا جاہ و جلال، شکوہ و جبروت، شوکت و حشمت سب کچھ مٹ جاتا ہے، لیکن شہید کے خون کی تابندگی کبھی مانند نہیں پڑتی۔ اسلام کی تاریخ میں کوئی قربانی اتنی عظیم، اتنی ارفع اور اتنی مکمل نہیں ہے، جتنی حسین ابن علی کی شہادت، کربلا کی سرزمین ان کے خون سے لہو لہان ہوئی تو درحقیقت وہ خون ریت پر نہیں گرا بلکہ سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین ابراہیمی کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے سینچ گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایک ایسے نور میں تبدیل ہوگیا، جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے، نہ نیزہ چھید سکتا ہے اور نہ زمانہ مٹا سکتا ہے، اس نے اسلام کو جس کی حیثیت اس وقت ایک نوخیز پودے کی سی تھی، استحکام بخشا اور وقت کی آندھیوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔(ص145)
 
پیر محمد خالد سلطان قادری نے کتاب کے آخر میں ضروری سمجھا کہ یزید کے مدافعین کو بھی مخاطب قرار دیں، جو امام حسین علیہ السلام کی ظاہر و باہر عظمت کے باوجود یزید جیسے ننگِ انسانیت کے لیے اپنے دل میں کسک محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے باب کا عنوان ہی یہ رکھا ہے ’’یزید پلید کو رضی اللہ عنہ کہنا کیسا۔‘‘ کتاب کے باقی تمام صفحات پر انھوں نے یزید ہی کی خبر لی ہے۔ کتاب کے آخری حصے میں انھوں نے یہ سرخی جمائی ہے ’’یزید کو نادم اور بے قصور کہنے والوں سے ہمارے سوالات۔‘‘ ہم یہی سوالات نقل کرکے ان مطالب کو سمیٹتے ہیں:
سوال: یزید اگر ظالم نہ تھا تو اس نے صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے ابن زیاد کو کوفے کا گورنر کیوں بنایا۔؟
سوال: اگر اس کے کہنے پر سب کچھ نہیں ہوا تو اس نے معرکہ کربلا کے بعد ابن زیاد، ابن سعد اور شمر کو سزائے موت کیوں نہیں دی۔؟
 
سوال: معرکہ کربلا کے بعد اہل بیت کی خواتین کو قیدیوں کی طرح کیوں رکھا گیا۔؟
سوال: حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے سامنے اپنی فتح کا خطبہ کیوں پڑھا۔؟
سوال: جب اس کے دربار میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر انور لایا گیا تو اس پر اس نے چھڑی کیوں ماری۔؟
سوال: اگر یزید بے قصور تھا تو اس نے گھرانہ اہلبیت سے معافی کیوں نہیں مانگی۔؟
سوال: معرکہ کربلا کے بعد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حرمتی کیوں کی گئی؟ اور امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے تاریخ الخلفاء میں لکھا کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گھوڑے باندھے گئے۔
سوال: بیت اللہ پر یزید نے سنگ باری کیوں کروائی؟ امام سیوطی علیہ الرحمہ کے مطابق بیت اللہ میں آگ لگی اور غلاف کعبہ جل گیا۔(ص 169)
۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔
نوٹ: ہم نے کتاب سے منقول تمام عبارات اور ان کے ساتھ القاب وغیرہ نیز ترجمہ و حوالہ جات اسی کتاب کے مطابق نقل کیے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 815201
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب