0
Sunday 8 Sep 2019 16:59

لشکر عمر سعد میں اہم یہودی اشخاص کا نفوذ

لشکر عمر سعد میں اہم یہودی اشخاص کا نفوذ
تحریر: حجۃ الاسلام سید محمد مہدی حسین پور

عمر سعد کے لشکر میں کئی ایسے اشخاص موجود تھے جن کا تعلق اہل کتاب سے تھا یعنی یا وہ خود یہودی یا عیسائی تھے یا یہودی اور عیسائی زادے تھے۔ انہوں نے نہ صرف شہادت امام حسین (ع) اور واقعہ کربلا میں اہم کردار ادا کیا، بلکہ تاریخ اسلام میں جہاں جہاں اہل بیت رسول خدا (ع) پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، وہاں ان کے ہاتھ بھی خون سے رنگین نظر آئے۔ اس تحریر میں اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے چار ایسے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہوں نے کربلا کی دردناک تاریخ رقم کرنے میں یزیدوں کے شانہ بشانہ موثر کردار ادا کیا۔

اشعث بن قیس:
اشعث بن قیس کے بیٹے من جملہ ان افراد میں سے ہیں کہ جو ہمیشہ اہل بیت (ع) کے مدمقابل دشمنوں کی صفوں میں شامل رہے۔ ان کا تعلق یمن کے ’’کندہ‘‘ نامی قبیلہ سے تھا، جو اصل میں یہودی تھے۔ بہت سی ایسی قرائن موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خود اشعث ظاہری طور پر مسلمان ہونے سے پہلے یہودیوں کے درمیان ایک مؤثر شخصیت کے عنوان سے جانے جاتے تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ اشعث کے مسلمان ہونے کے باوجود ان کی بہن، پوچھی اور ان کے چچازاد بھائی آخری عمر تک یہودی ہی رہے اور اسلام سے شرفیاب نہیں ہوئے۔ اشعث کے بیٹے بھی خود ان کی طرح یہودی صفت ہی تھے، اور ہمیشہ اہل بیت (ع) کے دشمنوں کا ساتھ دیتے رہے۔ چنانچہ تاریخ نے لکھا ہے کہ اشعث کا بڑا بیٹا محمد امیرالمومنین علی علیہ السلام کے صحابی ’’حجر بن عدی‘‘ کی گرفتاری میں پیش پیش تھا، اور ’’زیاد بن ابی سفیان‘‘ اور ’’ابن زیاد‘‘ کے نزدیک قابل اعتماد شخص تھا اس نے ’’ہانی بن عروہ‘‘ اور ’’مسلم بن عقیل‘‘ کی گرفتار میں بھی مؤثر کردار ادا کیا۔ اشعث کا دوسرا بیٹا قیس ان لوگوں میں سے تھا، جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کو کوفے کی دعوت دی لیکن امام کے حق میں خیانت کر کے لشکر شام سے ملحق ہو گئے، اور آخر کار امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کے جسم مبارک سے لباس اتارنے والا قیس ابن اشعث ہی تھا، اور امام حسن (ع) کو زہر دینے والی ’جعدہ‘ اشعث کی ہی بیٹی تھی۔

شبث بن ربعی
شبث بن ربعی کو تاریخ اسلام کے منافق ترین افراد میں شمار کیا جانا چاہیئے۔ اس لئے کہ ایک طرف سے وہ مرگ عثمان کے قضیے میں پیش پیش تھے، دوسری طرف خون عثمان کے انتقام کے لئے جمل میں ام المومنین عائشہ کے گروہ میں شامل ہو گئے اور جب جنگ صفین کا مسئلہ پیش آیا تو لشکر امیر المومنین (ع) میں داخل ہو گئے، اور آخر کار لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے خوارج کو جنم دیا۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسن (ع) کے ساتھ رہتے تھے لیکن کام معاویہ کے لئے کرتے تھے۔ واقعہ کربلا میں شبث بنی امیہ کے فوج کے سپہ سالار تھے اور واقعہ کربلا کے بعد عبداللہ بن زبیر کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ دوسری طرف ان تمام واقعات میں ہمیشہ ایک یہودی یا عیسائی مشیر شبث بنی ربعی کے ساتھ رہتا تھا جو اس کا خصوصی مشیر ہوا کرتا تھا۔ یعنی شبث اہل کتاب سے مشورہ لیتے تھے اور مسلمانوں کے بیچ اسے عملی جامہ پہناتے تھے۔ کتب رجالی میں صرف محمد بن کعب قرظی نے انہیں راوی کے عنوان سے یاد کیا ہے محمد بن کعب قرظی کا تعلق قبیلہ بنی قریظہ سے تھا اور ان کے مسلمان ہونے کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا اور ہر دور کے شرائط کے ساتھ اپنا چہرہ تبدیل کر لینا ان کے منافق اور یہودی صفت ہونے کی واضح دلیل ہے، خاص طور پر جب ان کے مشیر اور ساتھی یہودی یا اہل کتاب ہوتے تھے جو انہیں اپنے مفاد کے لئے بطور کھلونا استعمال کرتے تھے۔

حجار بن ابجر:
واقعہ کربلا میں ایک اور اہم شخص جس کا نام تاریخ میں نظر آتا ہے ’’حجار بن ابجر‘‘ ہیں۔ حجار کا باپ عیسائی تھا۔ حجار کوفے کے بزرگوں اور سرکردوں میں شمار ہوتے تھے۔ اور ان ستر افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے حجر بن عدی کے خلاف گواہی نامہ پر دستخط کئے۔ جب جناب مسلم بن عقیل نے دار الامارہ کا محاصرہ کیا تو حجار بن ابجر، کثیر بن شہاب، محمد بن اشعث، شبث اور شمر ہی تھے جو کوفیوں کو جناب مسلم کے اطراف سے دور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ واقعہ عاشورا میں بھی ان کا کردار بہت نمایاں تھا، بزرگان کوفہ نے جو امام حسین علیہ السلام کو دعوت کا خط لکھا اس پر حجار کا دستخط بھی موجود تھا لیکن جب روز عاشور امام علیہ السلام نے ان سب کو مخاطب کیا اور فرمایا، اے شبث! اے حجار! اے قیس! اے یزد بن حارث! مگر تم لوگ نہیں تھے جنہوں نے مجھے خط لکھے؟ تو سب نے بیک زبان انکار کر دیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے حجار بن ابجر کو ایک ہزار کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر کربلا بھیجا تھا اور کربلا میں لشکر حجار نے اہل بیت (ع) پر ظلم و ستم ڈھانے میں کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی تھی۔

بنی ابان بن دارم کا قبیلہ:
کربلا میں بہت سارے مظالم تاریخ نے قبیلہ بنی ابان بن دارم کے نام ثبت کئے ہیں؛
۱۔ وہ شخص جس نے جناب عباس (ع) کا سر قلم کر کے اپنے پاس رکھا وہ بنی ابان بن دارم کا آدمی تھا۔
۲۔ جب عثمان بن علی علیہ السلام کو خولی نے تیر کا نشانہ بنایا تو بنی ابان بن دارم کے ایک شخص نے انہیں شہید کیا اور ان کا سر قلم کیا۔
۳۔ محمد بن علی علیہ السلام کو بنی ابان بن دارم کے ایک شخص نے تیر کا نشانہ بنا کر شہید کیا اور ان کا سر تن سے جدا کیا۔
۴۔ جب امام حسین علیہ السلام نہر علقمہ کے پاس پہنچے تو بنی ابان بن دارم کے ایک شخص نے شور مچایا: وائے ہو تم پر اگر حسین (ع) کا ہاتھ پانی تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد اس نے امام علیہ السلام کی طرف ایک تیر پھینکا جو آپ کی تھوڑی مبارک پر جا لگا۔
۵۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد قبیلہ بنی دارم کے ایک شخص نے آپ کی تلوار چرا لی۔
مذکورہ تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ بنی ابان بن دارم کربلا میں عمر سعد کے لشکر میں بنیادی کردار رکھتا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ قبیلہ تھا کون؟ ابن حزم اپنی کتاب میں اس قبیلہ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ابان بن دارم در حقیقت قبیلہ طیّ کی نسل سنبس میں سے تھا۔ سنبس عربی زبان کا لفظ نہیں بلکہ رومی زبان کا لفظ ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبیلہ عیسائی تھا۔ لیکن کوفہ میں مسلمانوں کے درمیان رہنے کے لئے انہوں نے ایک مسجد بنائی، جو بظاہر مسجد تھی لیکن اصل میں چرچ تھا۔ لہٰذا یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کربلا میں اس قیبلے کے جو افراد لشکر عمر سعد میں پیش پیش تھے وہ عیسائی تھے۔ سنبس نامی قبیلہ کے دو افراد حکیم بن طفیل اور زید بن حصن کا ذکر بھی کربلا میں ملتا ہے جو جناب عباس علیہ السلام کے قاتلوں میں شمار ہوتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 815214
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب