0
Monday 9 Sep 2019 21:16

ماء عذب، ٹھنڈا پانی یا آب گوارا

ماء عذب، ٹھنڈا پانی یا آب گوارا
تحریر: عظمت علی
 
اپنے معروضات پیش کرنے سے قبل میں اپنی بے مائیگی اور کم علمی کا معترف ہوں۔ میں ایک ادنٰی سا طالبعلم ہوں، علمائے کرام بہرحال ہمارے پیشوا اور رہبر ہیں لیکن ایک طالبعلم ہونے کی حیثیت سے ذہن میں آئے سوالات پیش کرنے کا تو مستحق ہوں ہی۔ اکثر لوگوں کے مشاہدہ میں آیا ہوگا کہ موسم گرما کے موقع پر بہت سے فریزر پر عربی زبان کے قصیدہ کا ایک مصرع چسباں ہوتا ہے۔"شیعتی مھما شربتم ماء عذب فاذکرونی" اے میرے شیعو! جب کبھی ٹھنڈا پانی پینا تو مجھے (امام حسین علیہ السلام کو) یاد کرلینا۔ مذکورہ ترجمہ بظاہر درست نہیں لگتا، اس لئے کہ عبارت میں موجود "ماء عذب"  کا ترجمہ عام طور پر 'ٹھنڈا پانی' کیا جاتا ہے جو کہ صحیح نہیں۔ لغت اور اہل لغت دونوں ہی اس سے متفق نہیں۔ لغت میں 'الماء' کے معنی: "سائلٌ عليه عِماد الحياة في الأَرض يتركب من اتّحاد الإدرُجين والأُكسجين، بنسبة حجمين من الأول إلى حجمٍ من الثاني، و هو في نقائه شفافٌ لا لون له ولاطعمَ ولا رائحة"۔(المَاءُ: (معجم الوسيط) المعني)۔ روئے زمین پر موجود ایسا سیال جس پر زندگی کی عمارت قائم ہے، ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب، ہائیڈروجن آکسیجن کی بنسبت دو برابر (H2+O)، شفاف، بے رنگ (colorless)اور بنا بو و ذائقہ ہوتا ہے)۔ ہماری آسان زبان میں اسی کو پانی کو کہا جاتا ہے۔

 لفظ عذب کا دوسرا معنی ملاحظہ ہو:
 العَذْبُ: "السَّائغُ من الطعام والشراب و غيرهما" (العَذْبُ: (معجم الوسيط) المعني)
خوشگوار کھانے پینے یا اس کے علاوہ کی اشیاء۔ اب اگر ہم ماء عذب کا صحیح ترجمہ کریں تو آب گوارا سب سے مناسب ہوگا۔ فارسی زبان میں جسے آب شیرین کہتے ہیں اور ہماری بول چال میں پینے کا پانی۔ ٹھنڈے پانی سے ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ سرد علاقے والے حضرات تو ٹھنڈے پانی سے پرہیز کرتے ہیں تو پھر کیا وہ امام حسین علیہ السلام کو یاد نہ کریں کیا یا پھر موسم سرما کی بابت کیا کہا جائے گا، کیا اس دوران امام حسین علیہ السلام کو یاد ہی نہ کیا جائے...!؟ چونکہ ان دونوں صورتوں میں ٹھنڈے پانی کا استعمال نہیں ہوتا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر اور ماہرین صحت بھی عام طور سے سادہ پانی کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور یہ ٹھندے پانی کے مقابل بہرکیف فائدہ مند ہے۔ اگر فریزر کے پانی کی بات کی جائے تو اس کے نقصانات کسی سے مخفی نہیں جبکہ نارمل پانی کو مفید صحت مانا جاتا ہے۔ المختصر...!آب گوارا یا سادہ اور خوشگوار پانی جو بآسانی حلق سے اتر جائے اسے ہی ماء عذب کہنا بجا ہے۔
خبر کا کوڈ : 815412
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب