0
Tuesday 10 Sep 2019 02:51

عاشورا، تاریخ کا ایک اہم موڑ

عاشورا، تاریخ کا ایک اہم موڑ
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

امام حسین علیہ السلام یکم محرم الحرام 61 ہجری کے دن "قصر بنی مقاتل" نامی منزل پر تھے۔ اس جگہ عراق، حجاز اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد مقیم تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے مقامی افراد کی ہدایت اور حق کی طرف دعوت دینے کیلئے اپنے کچھ اصحاب کو ان کی طرف بھیجا۔ ان افراد نے امام حسین علیہ السلام کی آواز پر لبیک نہ کہی اور یہ بہانہ بنایا کہ بنی امیہ کے خلاف قیام بے نتیجہ ہے۔ ان مقامی افراد میں سے ایک شخص جس کا نام عبیداللہ ابن حر جعفی تھا امام حسین علیہ السلام کے پاس آیا اور ایسے ہی بہانے پیش کرنے کے بعد کہنے لگا: "میں آپ کو اپنا یہ گھوڑا پیش کرنا چاہتا ہوں، یہ بہت تیز رفتار ہے اور میدان جنگ میں اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔" امام حسین علیہ السلام نے اس کی پیشکش ٹھکراتے ہوئے کہا: "اگر ہمارا ساتھ نہیں دے رہے تو خدا را ہمارے ساتھ جنگ کرنے والے افراد میں بھی شامل نہ ہونا۔ خدا کی قسم جس تک ہماری آواز پہنچے اور وہ ہماری مدد نہ کرے خدا اسے منہ کے بل جہنم کی آگ میں پھینکے گا۔"
 
امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے 8 ذوالحجہ 60 ہجری کے دن مکہ سے کوفہ کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ یکم محرم تک حالات میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوئیں لیکن امام حسین علیہ السلام کا قافلہ بدستور اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔ مکہ سے نکلنے کے ایک دن بعد یعنی 9 ذوالحجہ کو امام حسین علیہ السلام کی ملاقات معروف عرب شاعر فرزدق سے ہوئی جو کوفہ سے آ رہا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اس سے کوفہ کے حالات پوچھے تو اس نے بتایا کہ اہل کوفہ کے دل آپ کے ساتھ لیکن ان کی تلواریں ابن زیاد کے ساتھ ہیں۔ لہذا امام حسین علیہ السلام کوفہ سے مسلم ابن عقیل کا خط ملنے کے فوراً بعد ہی اصل حالات سے آگاہ ہو گئے تھے لیکن انہوں نے نہ تو واپس مکہ جانے کا فیصلہ کیا اور نہ ہی مدینہ کا رخ کیا بلکہ کوفہ کی جانب اپنا سفر جاری رکھا۔ اب تقریباً امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تمام افراد اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ بنی امیہ کے خلاف قیام میں کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے اس دن کے بعد اور حتی بہت پہلے سے اپنی دعوت کی بنیاد بنی امیہ کے ظلم و ستم کے خاتمے پر استوار نہیں کی تھی بلکہ اس نکتے کو اپنی دعوت کی بنیاد بنایا تھا کہ ان کا مقصد اپنی شرعی ذمہ داری کی ادائیگی اور بنی امیہ کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنا ہے۔
 
امام حسین علیہ السلام جب مکہ میں تھے اور انہیں مسلم ابن عقیل کا وہ خط موصول ہوا جس میں انہیں پرامید خبریں دی گئی تھیں کہ اہل کوفہ کی بڑی تعداد نے بیعت کر لی ہے اور بنی امیہ کے خلاف کامیابی کے آثار دکھائی دے رہے تھے تب بھی انہوں نے جہاد اور شہادت کی بات کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "ہم اہلبیت خدا کی رضا پر راضی اور خوش ہیں۔ جو ہمارے راستے میں جہاد اور خدا سے ملاقات کیلئے اپنی جان قربان کرنے کیلئے حاضر ہے ہمارے ساتھ چلا آئے۔" امام حسین علیہ السلام نے اس کے بعد بھی بارہا شہادت کی بات کی ہے۔ 15 ذوالحجہ 60 ہجری کے دن امام حسین علیہ السلام اپنے قافلے کے ہمراہ حاجر نامی منزل پر تھے۔ انہوں نے وہاں سے قیس ابن مسہر صیداوی کو اپنا ایلچی بنا کر کوفہ بھیجا تاکہ وہ اہل کوفہ کو یہ خبر پہنچا دیں کہ امام حسین علیہ السلام ان کی طرف آ رہے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اس پیغام میں لکھا: "اپنے مقصد کی خاطر جدوجہد میں استقامت کا مظاہرہ کریں۔ میں انشاءاللہ بہت جلد آپ سے ملاقات کروں گا۔" اسی منزل پر امام حسین علیہ السلام نے اپنے ہمراہ افراد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "فانی لااری الموت الا السعاده و لاالحیاه مع الظالمین الا بر ما" (بالتحقیق میری نظر میں موت سعادت اور خوشبختی ہے جبکہ ظالم افراد کے سائے تلے زندہ رہنا ذلت اور خواری ہے)۔ یہاں دوبارہ امام حسین علیہ السلام نے موت کی بات کی۔
 
امام حسین علیہ السلام نے ثعلبیہ (22 ذوالحجہ)، زبالہ (23 ذوالحجہ) اور بطن العقبہ (25 ذوالحجہ) کی منازل پر بھی اپنی اور اپنے ساتھیوں کی شہادت کے بارے میں بات کی۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ امام حسین علیہ السلام بنی امیہ کے خلاف جنگ میں ظاہری کامیابی کی امید پر کوفہ کی جانب گامزن نہیں تھے بلکہ وہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی شہادت کے ذریعے زیادہ عظیم کامیابی کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ انتہائی اہم اور کٹھن ذمہ داری ادا کرتے ہوئے عظیم کامیابی جو حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی اس کامیابی سے ملتی جلتی تھی جو انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دے کر حاصل کی تھی۔ یہ ایسی کامیابی تھی جس نے تاریخ پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ انسانی تاریخ کا موثر ترین واقعہ قرار پایا۔ امام حسین علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ پر مبنی حج کو عمرہ میں تبدیل کیا تاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے اسماعیلوں کو قربان گاہ بھیج سکیں۔ امام حسین علیہ السلام کا مشن یہ تھا کہ وہ انبیاء الہی علیہم السلام کی جانب سے شروع کئے گئے انسانیت کے حقیقی راستے کو ہمیشہ کیلئے واضح اور روشن کر دیں۔
 
امام حسین علیہ السلام 21 ذولحجہ 60 ہجری کے دن ثعلبیہ کی منزل پر تھے جب ایک شخص ان کے پاس آیا اور انہیں بنی امیہ سے سازباز کا مشورہ دینے لگا۔ امام حسین علیہ السلام نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "خدا کی قسم اگر ہم مدینہ ہوتے تو تمہیں اپنے گھر میں جبرئیل امین، اور اپنے نانا رسول اللہ ص کو پیغام وحی پہنچانے کیلئے اس کے نازل ہونے کی نشانیاں دکھاتا۔ برادر، عام لوگوں نے علم ہم سے حاصل کیا ہے۔" امام حسین علیہ السلام اس انداز بیاں سے یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ حق اس قدر ڈھکا چھپا بھی نہیں ہے جیسے بعض افراد ظاہر کر رہے ہیں اور اگر کوئی شخص تھوڑا سا غور و فکر کرے وہ حق پا سکتا ہے۔ لہذا رسول خدا ص کی رحلت کے پچاس سال بعد کربلا میں اہلبیت اطہار علیہم السلام پر جو مصیبت گزری اس کی اصل وجہ عوام کا رسول خدا ص اور ان کے اہلبیت اطہار علیہم السلام کی شان و منزلت سے عدم آگاہی نہیں تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے 3 محرم 61 ہجری کے دن اپنے ہم عصر معاشرے میں دین اور دینی اقدار کے فقدان کی بات کی۔ امام حسین علیہ السلام نے اس وقت کے مسلمانوں کو "عبید الدنیا" یعنی دنیا کے غلام قرار دیا جن کا دین صرف ان کی زبان کی حد تک ہے اور کہا کہ حقیقی متدین افراد کی تعداد بہت کم ہے۔
 
امام حسین علیہ السلام 9 محرم کے دن اپنے ساتھ جنگ کیلئے آئے لشکر کو وعظ اور نصیحت کرنا چاہتے تھے لیکن افراد کے ایک گروہ نے غل غپاڑہ شروع کر دیا تاکہ امام حسین علیہ السلام کی آواز دوسروں تک نہ پہنچے۔ آپ نے ان افراد کی دین سے دوری اور دنیا پرستی کا راز فاش کرتے ہوئے فرمایا: "وائے ہو تم پر، میں تم لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور تم لوگ اس سے دور بھاگ رہے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے پیٹ حرام مال سے بھرے ہوئے ہیں اور تم لوگ شقی القلب ہو چکے ہو۔۔۔" واقعہ کربلا درحقیقت ظاہری طور پر دنیا پرستی کی دین پرستی پر فتح تھی۔ آخرکار ابن زیاد کے سرخ سکے ان کوفیوں کو فریب دے کر امام حسین علیہ السلام کے خلاف میدان جنگ بھیجنے میں کامیاب ہو گئے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی تھی۔ معتبر تاریخی روایات کے مطابق شمر ابن ذی الجوشن ہفتہ 4 محرم 61 ہجری کے دن 4 ہزار کوفیوں کے ہمراہ، حصین بن نمیر 4 ہزار کوفیوں کے ہمراہ، مضائر بن رہیہ 3 ہزار کوفیوں کے ہمراہ، یزید بن رکاب 2 ہزار کوفیوں کے ہمراہ اور نصر بن حرسہ بھی 2 ہزار کوفیوں کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام سے جنگ کیلئے کربلا پہنچے۔ جبکہ کچھ ہی ہفتے پہلے کوفہ کے لوگوں نے مکہ میں امام حسین علیہ السلام کو 12 ہزار خط بھیجے تھے۔
 
واقعہ کربلا نے ثابت کر دیا کہ معاشرے کی اقتصادی مدیریت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مسلمانوں کے بازار میں غیر شرعی سرگرمیوں نے حالات یہاں پہنچا دیے کہ ایک سیاسی، اعتقادی اور سکیورٹی بحران پیدا ہو گیا۔ اسی طرح لوگوں کا دین بھی تباہ ہو گیا۔ یہاں ایک دلچسپ نکتہ موجود ہے۔ وہ افراد جو ایران اور روم کی فتح کے نتیجے میں "خاص طور پر" جنگی غنائم سے برخوردار ہوئے تھے معاشرے کا ایک محدود حصہ تھے۔ مغیرہ ابن شعبہ اور سعد بن ابی وقاص کے ساتھ ساتھ ایسے ہزاروں افراد بھی موجود تھے جن کے ہاتھ کچھ نہیں آتا تھا اور ان کی مالی حالت بھی خراب تھی۔ لیکن واقعہ کربلا میں یہ افراد بھی نہیں آئے تھے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ان سے بھی مال حرام کے نتیجے میں توفیق سلب ہو گئی تھی؟ یقیناً ایسا نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان افراد کو دیانت دار لیڈروں کی ضرورت تھی جو ان کی رہنمائی کرتے اور انہیں منظم کرتے۔ گذشتہ بیس برس کے دوران بنی امیہ حکومت نے بڑی بڑی عرب شخصیات کو خرید رکھا تھا۔ اور حجر ابن عدی کی طرح کے افراد جنہیں خریدنے میں کامیاب نہیں ہوئے انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ جو بچ گئے تھے اس قدر مرعوب اور خوفزدہ ہو چکے تھے کہ حکومت کے خلاف اقدام کرنے کا سوچتے بھی نہیں تھے۔
 
ایک تاریخی روایت کے مطابق پیر 6 محرم 61 ہجری کے دن حبیب ابن مظاہر امام حسین علیہ السلام سے اجازت لے کر بنی اسد قبیلے کے پاس گئے۔ حبیب ابن مظاہر کی تقریر کے بعد اس قبیلے سے 90 افراد تیار ہو کر امام حسین علیہ السلام کے خیمے کی طرف چل پڑے۔ لیکن جیسے ہی وہ عمر ابن سعد کے لشکر سے روبرو ہوئے بھاگ نکلے اور ان میں سے ایک شخص بھی امام حسین علیہ السلام تک نہ پہنچا۔ جب حبیب ابن مظاہر نے ماجرا امام حسین علیہ السلام کو بتایا تو آپ نے کہا: "انا لله و اناالیه راجعون" امام حسین علیہ السلام بنی امیہ کی طرف سے اس آمرانہ اور گھٹی ہوئی فضا کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے تاکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سامنے آ سکیں۔ اگرچہ امام حسین علیہ السلام واقعہ کربلا میں ظاہری طور پر یزید اور لالچی کوفیوں پر غلبہ نہیں پا سکے لیکن تاریخ میں ایسی سرخ لکیر لگانے میں کامیاب ہو گئے جو ہمیشہ امت کی ہدایت کا باعث بنتی رہی۔ امام حسین علیہ السلام کا مشن اپنے بعد آنے والے ائمہ معصومین علیہم السلام سے مختلف نوعیت کا تھا۔
 
امام حسین علیہ السلام کے بعد تمام ائمہ معصومین علیہم السلام کی بنیادی ذمہ داری استقامت اور مزاحمت تھی۔ لہذا آپ کے بعد سب ائمہ کو بھرپور مزاحمت اور استقامت کے بعد شہید کر دیا گیا۔ آخرکار امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا دور شروع ہوا۔ تمام ائمہ نے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور واقعہ کربلا کی یاد کو زندہ رکھنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ تمام ائمہ مومنین کو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مزار کی زیارت اور ان کے غم میں رونے کی ترغیب دلاتے رہے۔ امام حسین علیہ السلام کا پرچم بعد میں آنے والے معصوم اماموں کے ہاتھوں سربلند رہا اور اس کے ذریعے ہر دور میں شرک، منافقت اور انحراف کے مقابلے میں مزاحمت اور جدوجہد کی ترویج ہوتی رہی۔ یہ پرچم آج بھی سربلند ہے تاکہ اگر کسی دور میں شیعہ طاقتور ہو جائیں تو وہ امام حسین علیہ السلام کا مشن جاری رکھیں اور ان کی پیروی کرتے ہوئے امت مسلمہ کی کامیابی اور فتح کا راستہ تلاش کرتے رہیں۔ یہ سلسلہ یوں ہی آگے بڑھتا رہے گا۔
 
خبر کا کوڈ : 815422
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب