8
Tuesday 10 Sep 2019 10:45

لاہور، چوہنگ میں جلوس عزاء پر حملہ کیوں ہوا۔۔۔؟؟؟

لاہور، چوہنگ میں جلوس عزاء پر حملہ کیوں ہوا۔۔۔؟؟؟
لاہور سے ابوفجر کی رپورٹ

لاہور کے علاقے چوہنگ میں 9ویں محرم الحرام کی مناسبت سے برآمد ہونیوالے ماتمی جلوس پر فائرنگ اور پتھراو سے درجنوں عزادار زخمی ہوگئے۔ افسوسناک واقعہ ملتان روڈ پر دربار بھولے شاہ امام بارگاہ حیدر کالونی چوہنگ میں پیش آیا۔ گذشتہ روز شام پونے 6 بجے جلوس نے گزرنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کی مقامی قیادت اور مسجد بلال کے خطیب نے مطالبہ کیا کہ شبیہ ذوالجناح کو خالی گزارا جائے، اس کو سجا کر نہ گزارا جائے۔ جس پر جلوس کے بانیان کا کہنا تھا کہ خالی ذوالجناح محض گھوڑا ہے، جس کی کوئی حیثیت نہیں جبکہ ہم نے اس کو ذوالجناح کی شبیہ بنایا ہوا ہے اور یہ شبیہ کی صورت میں ہی گزرے گا۔ جلوس کے بانیان کے مطابق جلوس قدیمی ہے، اسے روکا نہیں جا سکتا۔

جلوس مسجد بلال کے قریب پہنچا تو مسجد سے ’’لبیک یارسول اللہ، لبیک یارسول اللہ‘‘ کے نعرے بلند ہونا شروع ہوگئے اور مسجد سے اعلان کر دیا گیا کہ اہل تشیع نے مسجد پر پتھراو شروع کر دیا ہے، تمام اہل محلہ (اہلسنت) فوری مسجد میں پہنچیں۔ مسجد سے اعلان ہونے کے فوری بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور مسجد کے نواحی اہلسنت کے گھروں سے جلوس پر پتھراو اور فائرنگ شروع کر دی گئی۔ جس سے متعدد عزادار زخمی ہوگئے۔ مسجد بلال میں واقعہ کے وقت خطیب سمیت 40 سے 50 افراد جمع تھے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شرپسندی پھیلانے کا منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ مسجد سے پتھراو شروع ہوا تو جلوس کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے راہ فرار اختیار کی اور ملتان روڈ کی طرف بھاگ نکلے۔

عزاداروں کے زخمی ہونے پر جلوس عزاء کے شرکاء نے مقامی رہنما صابر شاہ کی قیادت میں دھرنا دے کر ملتان روڈ بلاک کر دی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی رینجرز کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو کیا۔ تاہم رات گئے تک عزاداروں کی جانب سے ملتان روڈ پر دھرنا جاری تھا۔ مظاہرین کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ مسجد بلال کے خطیب اور دیگر شرپسندوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ مقامی لوگوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سپاہ صحابہ کے خاتمے کے بعد تحریک لبیک ایک شرپسند جماعت کے طور پر سامنے آرہی ہے، جس کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی سے ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ چوہنگ میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد دلیل کی جدوجہد ہے، ہم شرپسندی پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی ایسا کوئی اقدام نہیں کیا، جس سے بدامنی پھیلنے کا خدشہ ہو۔
خبر کا کوڈ : 815436
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب