0
Wednesday 11 Sep 2019 07:50

بی ٹیم میں دراڑ اور ایران مخالف حلقوں میں صف ماتم

بی ٹیم میں دراڑ اور ایران مخالف حلقوں میں صف ماتم
اداریہ
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کچھ عرصہ پہلے عالمی سیاست میں ایک نئی اصطلاح "بی ٹیم" متعارف کرائی تھی اور جواد ظریف اس ٹیم کو ایران دشمنی اور مشرق وسطیٰ میں جنگی ماحول کو گرم کرنے کا ذمہ دار گردانتے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے بقول اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، سعودی ولی عہد بن سلمان، اماراتی ولی عہد بن زائد اور امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر بولٹن اس ٹیم میں شامل ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کے بقول "بی ٹیم" خطے میں جنگ کی آگ کو بھڑکا رہی ہے اور اس بی ٹیم کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کی خصوصی حمایت حاصل ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ امریکی صدر نے بن سلمان اور بن زائد کے ساتھ جس طرح قربتیں بڑھائی تھیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

بنیامین نیتن یاہو اسرائیل کے وزیراعظم ہونے کے ناطے امریکی صدور کی مجبوری رہے ہیں، لہذا امریکی حکام اگر نہ بھی چاہیں تو صہیونی لابی کے دبائو کی وجہ سے اسرائیلی انتظامیہ کی بے چوں و چراں حمایت پر مجبور ہوتے ہیں۔ رہ گئے بولٹن تو امریکی صدر ان کو خصوصی طور پر قومی سلامتی کونسل کے مشاور کے منصب پر لائے تھے، کیونکہ بولٹن اسلام دشمنی، جنگ پسندی اور مسائل کو جنگ و جدل سے حل کرنے کے حوالے سے امریکہ بھر میں مقبولیت رکھتے تھے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے گذشتہ روز بڑے توہین آمیز انداز میں بی ٹیم کے اہم رکن جان بولٹن کو یہ کہہ کر امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر کے منصب سے علیحدہ کر دیا کہ اب وائٹ ہائوس کو بولٹن کی مزید خدمات کی ضرورت نہیں۔ بولٹن کے اخراج پر صرف اتنا کہا جاسکتا ہے "بڑے بے آبرو ہر کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔"

جان بولٹن جو ایران کی موجودہ اسلامی حکومت کو ختم کرکے تہران میں اسرائیلی سفارت خانہ کھلونے کی آروزو رکھتا تھا، جو افغانستان میں امریکی افواج کے انخلاء کی بجائے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر یقین رکھتا تھا۔ بولٹن شمالی کوریا سے مذاکرات کی بجائے شمالی کوریا سے جنگ کو کامیاب حکمت عملی قرار دیتا تھا، اسی طرح مشرقٰ وسطی میں امریکہ اور اسرائیل دشمن حکومتوں اور گروہوں کو جدید ہتھیاروں سے ختم کرنے والا جان بولٹن اب امریکہ کی مرکزی ٹیم میں شامل نہین رہا، اس کے اخراج پر جہاں بی ٹیم کے باقی افراد افسردہ و غم زدہ ہیں، وہاں اسرائیل سمیت خطے کے تمام ایران مخالف ممالک کے حکمرانوں کے ہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ امریکی صدر نے ایران اور استقامتی بلاک کو ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کے لیے جان بولٹن کو اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا، لیکن ٹرامپ کا یہ حربہ بھی ناکام ہوگیا اور اب وہ نئے دام کی تلاش میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 815567
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب