0
Thursday 12 Sep 2019 07:22

نائیجریا پھر لہو لہو

نائیجریا پھر لہو لہو
اداریہ
نائیجریا میں بلال دوراں آیت اللہ زکزکی کی جماعت "اسلامی تحریک" کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ 2015ء میں زاریا کے قتل عام سے لیکر گذشتہ روز تک نائیجریا کے شیعہ مسلمان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ اسلامی تحریک کے بانی رہنما آیت اللہ زکزکی اپنے چار بیٹوں اور ہزاروں کارکنوں کی قربانی کے بعد اب بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ نائیجریا کی حکومت جس کے بظاہر صدر محمد بوہاری ہیں لیکن ان کے اقدامات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے پیچھے یزید، عبیداللہ ابن زیاد، عمر ابن سعد اور شمر جیسے شیطان صفت دماغ مسلسل کام کر رہے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کے چہلم پر عزاداروں کا قتل عام ہو یا یوم القدس کے عالمی دن پر مظاہرین کو گولیوں سے نشانہ بنانا یا گذشتہ روز، روز عاشور کے موقع پر نواسہ رسول (ص) کے عزاداروں پر فائرنگ کرکے بارہ شیعہ مسلمانوں کو شہید کرنا۔

یہ تمام ایسے اقدامات ہیں، جن کو دیکھ کر ہر باشعور انسان کی سوچ 61 ہجری کے ان ظالموں کی طرف مبذول ہو جاتی ہے، جنہوں نے کربلا کے لق و دق صحرا میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے باوفا ساتھیوں کو وحشیانہ انداز سے قتل کیا۔ نائیجریا کے حکمران اور ان کی یزیدی فوج جس انداز سے حسینی عزاداروں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہے، اس کو نائیجریا کی تاریخ ہرگز فراموش نہیں کرے گی۔ شیخ زکزکی اور ان کے ساتھیوں کا قصور کیا ہے کہ انہیں اس طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ شیخ زکزکی کے خلاف امریکہ، اسرائیل اور تکفیری وہابیت کی منحوس مثلت ایک صفحے پر آگئی ہے اور یہ تینوں طاقتیں شیخ زکزکی اور ان کی اسلامی تحریک کو اپنے لیے شدید خطرہ سمجھتی ہیں، وہ شیخ زکزکی کے قتل اور اسلامی تحریک کے کارکنان کو سختی سے کچل کر افریقہ کے مسلمان ملک نائیجریا میں آزادی و خود مختاری کی اسلامی موومنٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں۔

نائیجریا سمیت افریقہ کے دیگر ملکوں میں خالص اسلام یعنی محمدی اسلام کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، لہذا امریکی اسلام اور صیہونی عیسائیت اسلام حقیقی کے پیغام کو افریقی عوام تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ شیخ زکزکی نے امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو اپنا نصب العین قرار دے کر نائیجریا میں اسلامی تحریک کا آغاز کیا ہے اور نائیجریا سمیت افریقہ کے دیگر ممالک کے عوام اس پیغام حسینیت کی طرف جوق در جوق متوجہ ہو رہے ہیں۔ سامراجی طاقتوں کو حقیقی اسلام کا یہ پھیلائو ایک آنکھ نہیں بھاتا، لہذا وہ اس پیغام کے چراغ کو بجھانے کے درپے ہیں، لیکن سامراجی طاقتوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ 61 ہجری میں سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی لازوال قربانی سے جو چراغ ہدایت روشن کیا ہے، اسے کوئی بجھا نہیں سکتا۔ نائیجریا کے مظلوم عوام بھی اسی چراغ سے روشنی لے رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 815697
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب