0
Thursday 12 Sep 2019 12:30

امریکہ طالبان مذاکرات کا خاتمہ، افغان امن عمل کو شدید دھچکا

امریکہ طالبان مذاکرات کا خاتمہ، افغان امن عمل کو شدید دھچکا
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
افغانستان میں لگ بھگ 18 سال سے جاری جنگ میں اب تک لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اس جنگ نے صرف افغانستان کو ہی نہیں بلکہ پورے خطہ کو شدید متاثر کیا، جن میں پڑوسی ملک پاکستان سرفہرست ہے، طالبان رہنماء ملا عمر اور القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی مبینہ ہلاکت کے بعد افغان جنگ کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے کی کوششیں شروع کی گئیں، اوائل میں امریکہ نے اس مسئلہ کے حل میں اسلام آباد کو سائڈ لائن کرنے کی کوشش کی، تاہم بعدازاں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان سے براہ راست مدد طلب کی گئی اور
یوں یہ سلسلہ بعض دیگر ممالک کی کوششوں سے آگے بڑھا۔ بالآخر حالیہ دور میں
صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ اس جنگ کے دو اہم فریقین یعنی امریکہ اور طالبان آمنے سامنے مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے، مذاکرات کا یہ سلسلہ بڑی کامیابی سے آگے بڑھ رہا تھا، امریکہ اور طالبان رہنماوں دونوں کی جانب سے بیانات سامنے آئے کہ
افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے معاہدہ تشکیل کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے، اور 97 فیصد معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ ایک جانب بات چیت کا عمل کامیابی سے آگے بڑھ رہا تھا تو دوسری جانب حیرت انگیز طور پر طالبان کی جانب سے افغانستان میں امریکی افواج کیخلاف جنگجو کارروائیاں بھی زور پکڑ رہی تھیں، گذشتہ ماہ طالبان کی جانب سے دو بڑے حملوں سمیت کئی حملے کئے گئے، جس میں متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔
 
امریکی صدر اور طالبان رہنماوں کے مابین کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات پر بھی اتفاق ہوچکا تھا، تاہم اس ملاقات سے محض ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے طالبان کیساتھ جاری مذاکراتی عمل ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے اہم مرحلے پر کابل پر حملہ کیا گیا، اگر طالبان فائر بندی پر متفق نہیں ہوسکتے تو انہیں مذاکرات کا حق بھی نہیں۔ امریکی صدر نے کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان سے ہونے والی ملاقات کو بھی منسوخ کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ افغان حملے میں 11 افراد کے ساتھ ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا، افغان طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ افغان طالبان کتنی دہائیوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہیں، اگر طالبان فائر بندی پر متفق نہیں ہوسکتے تو انہیں مذاکرات کا حق بھی نہیں، یہ کیسے لوگ ہیں، جو اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ دوسری جانب فوری طور پر افغان طالبان کا ردعمل بھی سامنے آگیا، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات معطلی کے ردعمل میں کہا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو ہوگا، ہفتے تک طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات صحیح سمت میں جا رہے تھے اور فریقین افغانوں کے درمیان مذاکرات پر متفق تھے۔ ذبیح اللہ
مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات معطلی سے مزید امریکی ہلاک ہوں گے۔
 
فریقین کے مابین مذاکرات کی منسوخی سے قبل کئی معاملات پر اتفاق رائے پایا گیا تھا، افغان امور کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے مذاکرات منسوخی سے قبل بات چیت کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ امریکہ 135 دن کے اندر افغانستان میں پانچ فوجی اڈے بند کرکے پانچ ہزار فوجیوں کو افغانستان سے نکال لے گا۔ فریقین کے درمیان مذاکرات کے 9 ادوار کے بعد طے پانے والے معاہدے کے تحت طالبان کسی عسکریت پسند گروپ کو افغان سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ زلمے خلیل زاد نے ٹی چینل کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ معاہدے کی حتمی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیں گے، جس کے بعد اس معاہدے کی دستاویز پر دستخط کئے جائیں گے، اصولی طور پر معاہدہ طے پا گیا ہے اور معاہدے کی دستاویز مکمل کر لی گئی ہے۔ معاہدے کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے اور اس کے نتیجہ میں افغانستان میں جاری تشدد میں کمی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ
جنگ بندی کا کوئی رسمی معاہدہ نہیں ہوا اور اس کا دارومدار افغٖانوں کے درمیان
مذاکرات پر ہوگا، ابتدائی طور پر پانچ ہزار امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد باقی
14 ہزار امریکی فوجی کب افغانستان سے واپس بلائے جائیںگے۔
 
اس مذاکراتی عمل کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں افغان حکومت کو براہ راست تو شریک نہیں رکھا گیا، تاہم اعتماد میں ضرور لیا جاتا رہا تھا، باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ
افغان مفاہمتی عمل میں اگلہ مرحلہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت
اور دوسرا مرحلہ افغانستان میں موجود تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات تھا۔ مذاکراتی
امور سے منسلک حلقوں کی کوشش تھی کہ امریکہ اور افغان طالبان میں امن معاہدے کے بعد فوری طورپر اشرف غنی حکومت اور طالبان کے مابین بات چیت کا آغاز ہوجائے، اس حوالے سے مختلف ذرائع سے کوشش بھی کی جا رہی تھیں، جنہیں مذاکرات کی منسوخی کے بعد دھچکا لگا ہے۔ مذاکراتی عمل سے مربوط ممالک کی کوشش تھی کہ امریکی افواج کے انخلا کے علاوہ افغانستان میں امن و امان کے مکمل قیام کے ساتھ ایک مضبوط حکومتی نظام کی تشکیل ہوسکے۔ دوسری جانب پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے مابین ہونے والی ملاقاتوں کے درمیان افغان مفاہمتی عمل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور افغان طالبان کے مابین جاری مذاکراتی عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تینوں ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن کے لئے تمام فریقوں میں مذاکرات فوری شروع ہونے چاہئیں۔
 
امریکہ طالبان مذاکرات کی منسوخی پر پاکستان کو بھی تشویش ہے، کیونکہ افغانستان میں امن خطہ کے دیگر ممالک کیساتھ ساتھ اسلام آباد کیلئے بھی بہت ضروری ہے، افغانستان میں جنگ کے خاتمہ کیلئے پاکستان کا کردار پہلے بھی بہت اہم تھا اور اب موجودہ صورتحال میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت اسلام آباد اور کابل ملکر ہی مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کروانے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں، جس کیلئے سب سے پہلے فریقین کے درمیان سیز فائز کو ممکن بنانا انتہائی ضروری ہے۔ اشرف غنی حکومت بھی تمام فریقوں کے درمیان
مذاکرات کا آغاز چاہتی ہے، جبکہ اس حوالے سے پاکستان سے مزید تعاون کے لیے رابطے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے افغان مفاہمتی عمل کی کامیابی کیلیے اپنی قومی سلامتی کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید تعاون کیلئے گرین سگنل بھی دیا ہے۔ اس حوالے سے چین کا کردار بھی مثبت نظر آرہا ہے۔ اس وقت امریکہ پہلی بار افغان مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ اور نیک نیت نظر آیا ہے، اگر اب مذاکراتی عمل کامیاب نہیں ہوتا تو یہ جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے اور واشنگٹن کو پہلے کی طرح فرار کا موقع نہیں دینا چاہیئے، افغانستان میں امن جہاں کابل کیلئے ضروری ہے، وہیں اس خطہ کے ممالک کی بھی یہی خواہش ہے کہ یہاں امریکی اثر و رسوخ کو کسی طرح کم کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 815780
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے