8
Thursday 12 Sep 2019 21:56

امریکا کی قومی سلامتی کو چوتھے مشیر کی تلاش

امریکا کی قومی سلامتی کو چوتھے مشیر کی تلاش
تحریر: محمد سلمان مہدی

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا ابھی تیسرا سال بھی مکمل نہیں ہوا کہ قومی سلامتی کے امور پر امریکی صدر کا تیسرا مشیر تبدیل ہوچکا ہے اور چوتھے کی تلاش جاری ہے۔ 18 نومبر 2016ء کو مائیکل فلائن کو ٹرمپ نے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ 13 فروری2017ء کو وہ مستعفی ہوگئے اور درمیانی عرصے میں انہوں نے اہم ایشوز پر جھوٹ بولنے کا اعتراف بھی کیا۔ 20 فروری 2017ء کو سابق فوجی جنرل ایچ آر میک ماسٹر کو اسی عہدے کے لئے منتخب کیا گیا اور 22 مارچ 2018ء کو ایک ٹویٹ کے ذریعے صدر ٹرمپ نے ان کی برطرفی کی اطلاع دی۔ یوم عاشورا دس ستمبر 2019ء بروز منگل امریکی صدر نے اپنے مشیر برائے امور قومی سلامتی جون بولٹن کی برطرفی کی خبر دنیا کو دی۔

بولٹن نے از خود استعفیٰ دے دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں فارغ کر دیا، بولٹن اس عہدے پر ہیں یا کوئی اور، ہمارے لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں، مگر دنیا بھر میں جو خبر گرم ہے، وہ ہے بولٹن کے ممکنہ جانشینوں کی۔ کون بنے گا کروڑ پتی کی طرح اب یہ پوچھا جا رہا ہے کون بنے گا امریکا کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر! البتہ پل پل بدلتی صورتحال کے پیش نظر ان کے ممکنہ جانشین کے حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک درجن نام سامنے آگئے تھے۔ حیرت انگیز خبر یہ بھی تھی کہ ٹرمپ نے بولٹن کے پیش رو سابق جنرل میک ماسٹر کو فون کرکے کہا کہ وہ انہیں بہت یاد کر رہے ہیں، حالانکہ میک ماسٹر کو برطرف کرکے ہی جون بولٹن کو ان کا جانشین مقرر کیا تھا۔ اس فون کال کی وجہ سے سمجھا جا رہا ہے کہ شاید میک ماسٹر کو ایک اور مرتبہ یہ عہدہ مل سکتا ہے۔

لیکن جمعرات کو اس کہانی میں ایک اور چونکا دینے والا موڑ آگیا کہ موجودہ امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو کو قومی سلامتی امور کے مشیر کا اضافی منصب بھی عطا کر دیا جائے۔ امریکی یاد دلا رہے ہیں کہ ہنری کسنجر بھی بیک وقت ان دو عہدوں پر دو سال کے لئے فائز رہ چکے ہیں تو پومپیو کیوں نہیں! البتہ بدھ تک جو دیگر ممکنہ افراد تھے، ان میں سر فہرست رچرڈ گرینیل کا نام تھا۔ موصوف آج کل جرمنی میں امریکا کے سفیر ہیں۔ البتہ یہ بولٹن کے ماتحت کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں امریکی سفارتی مشن میں کام کرچکے ہیں اور یہی ان کا منفی پہلو ہے۔ ان کے علاوہ سابق لیفٹینٹ جنرل کیتھ کیلاگ اور سابق ڈپٹی ایڈوائزر میجر جنرل رکی وڈیل کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔

اس فہرست میں ایک اور اہم نام برائن ہک کا بھی ہے۔ یہ آج کل وزیر خارجہ مائیکل پومپیو کے مشیر بھی ہیں اور امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے ایران بھی اور پومپیو سے قربت ان کا مثبت پہلو ہے۔ مگر رچرڈ گرینیل کی وجہ شہرت بھی ایران کی مخالفت میں یورپی ممالک میں لابنگ کرنا اور خاص طور پر اینجلا مریکل کی مغربی بلاک کی قد آور شخصیت کو زمین بوس کرنا بھی ہے۔ لہٰذا وہ بھی بہرحال میدان میں موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے شمالی کوریا اسٹیفن بائیگن کا نام بھی بولٹن کے ممکنہ جانشینوں میں شامل ہے۔ دیگر ناموں میں قائم مقام نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر چارلس کوپرمین، رابرٹ بلیئر، نیدر لینڈ میں امریکی سفیر پیٹ ہوئیکسٹرا بھی شامل۔ سابق آرمی کرنل ڈوگلس میک گریگر کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ ریٹائرڈ فور اسٹار جنرل جیک کیئن اور فریڈ فلیٹز کے نام بھی گردش میں ہیں۔
 
اگلے چند روز میں ٹرمپ خود ہی اس راز سے نقاب الٹ دیں گے کہ بولٹن کے ممکنہ جانشینوں میں یہی ایک درجن افراد ہی کی فہرست تھی یا میڈیا بھی لاعلم رہا۔ جون بولٹن جنگ پسند ایڈوائزر تھے اور انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تجویز دی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔ امریکی مسلح افواج کے سربراہ ڈنفورڈ نے ان کی مخالفت کی تھی اور انہی کی بات مان لی گئی تھی۔ اگر ایران کے ساتھ باقاعدہ فوجی جنگ ایک ایسا معاملہ تھا کہ جس نے بولٹن کے نٹ بولٹ کس کر رکھ دیئے، میری نظر میں ایسا سمجھنا بے وقوفی ہوگی۔ کیونکہ ٹرمپ خود اور ان کی پوری حکومت میں زایونسٹ اسرائیلی لابی مکمل طور پر چھائی ہوئی ہے۔ ان کا داماد جیرڈ کشنر خود زایونسٹ یہودی ہے اور امریکا کی دختر اول نے شوہر کی محبت میں شادی سے قبل ہی مسیحی مذہب ترک کرکے یہودیت کو اختیار کر لیا تھا۔ پومپیو خود ایران اور ایران کے اتحادیوں کے دشمن نمبر ایک بن کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے معاون وزیر برائے مشرق قریب ڈیوڈ شینکر کی تو شہرت ہی اسرائیل کے کٹر اتحادی کی ہے۔ اس لئے جون بولٹن کا عہدے سے فارغ کیا جانا تاحال معمہ ہی ہے۔

امریکا کی قومی سلامتی کو تو کوئی خطرہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی بولٹن کا ہونا یا نہ ہونا امریکا کی قومی سلامتی کے لئے اچھا یا برا ہوسکتا تھا۔ یہ تو مغربی ذرائع ابلاغ کے جہاں دیدہ جغادری خود ہی سمجھ چکے ہیں کہ اصل مسئلہ بولٹن نہیں بلکہ ان کے باس صدر ٹرمپ خود ہی ہیں۔ صاٖ ظاہر ہے کہ قومی سلامتی کے تین مشیر گھر جاچکے ہیں، مگر ٹرمپ کی قومی سلامتی پالیسی اس شعبے کے اصل آدمی کو ہی سمجھ نہیں آرہی اور اب چوتھے مشیر کی تلاش چل رہی ہے۔

ماننا پڑے گا کہ دنیا میں پاگل اور احمق سمجھا جانے والا ٹرمپ انتہائی چالاک اور مکار صدر ہے۔ وہ جو انگریزی کہاوت ہے کہ ناکامی یتیم ہوتی ہے، ٹرمپ نے دنیا پر یہ ظاہر کیا ہے کہ بظاہر جس معاملے میں بھی اس کی صدارت ناکام رہی ہے، اس ناکامی کے اجداد اور اولادیں بھی ہیں اور بولٹن جیسے افراد اس بڑے امریکی زایونسٹ کھیل کے وقتی کردار ہوتے ہیں، جو ماضی میں بھی اسی طرح عزت مآب بناکر لائے جاتے رہے اور اسی طرح ذلیل کرکے نکالے جاتے رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ پومپیو کو پارٹ ٹائم جاب پر رکھا جاتا ہے یا باقاعدہ کوئی اور پارٹ ٹائم نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ڈھونڈ نکالا جاتا ہے۔ البتہ گیم سارا زایونسٹ اسرائیل کی سلامتی کا ہے، امریکا کی قومی سلامتی کا نہیں ہے!
خبر کا کوڈ : 815885
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب