0
Saturday 14 Sep 2019 08:21

صہیونی وزیراعظم کی ساکھ اور دھاک تباہی کے دہانے پر

صہیونی وزیراعظم کی ساکھ اور دھاک تباہی کے دہانے پر
اداریہ
غاصب صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو مشکل انتخابات کا سامنا ہے اور وہ دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے، وہ داخلی حوالے سے اسرائیلی عوام کی ہمدردیاں لینے کے لیے عجیب و غریب بیان دے رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی ووٹروں کی ہمدردیاں لینے اور انہیں یہ بتانے کے لیے کہ نتین یاہو عالمی سربراہوں میں بھی مقبول ہے، بیرونی ممالک کے دورے کر رہا ہے۔ نیتن یاہو نے اسرائیل کے انتہاء پسند شہریوں کے ووٹ لینے کے لیے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوگیا تو وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کر دے گا۔ نیتن یاہو کے اس بیان پر اس کے بعض قریبی عرب اتحادی بھی شیخ پا نظر آرہے ہیں، جبکہ فلسطینی کاز کے حامی تمام حلقوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے اس اعلان کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور انتخابی سیاست کا گھٹیا ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔

اسرائیل میں انتخابات کو چار دن باقی ہیں، لیکن نیتن یاہو روس کے دورے میں روسی صدر پوٹین سے ملاقاتیں کرتے نظر آرہے ہیں، وہ روس سے ایسا پیغام دلوانا چاہتا ہے، جس سے اسرائیلی عوام کو یقین ہو جائے کہ نیتن یاہو امریکہ اور یورپی ممالک کی آنکھوں کو تارا تو ہے ہی، روس بھی اس کو پسند کرتا ہے۔ نیتن یاہو نے روسی حکام سے ملاقات میں حسب معمول ایران کے خلاف ماحول بنانے کی بھی کوشش کی ہے، لیکن ابھی تک سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق اسے خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے حزب اللہ کے ہاتھوں جو حالیہ شکست کھائی ہے، اسے اس کی ہرگز توقع نہ تھی۔ وہ یہ سجھ رہا تھا کہ حزب اللہ کے خلاف کامیاب ڈروں حملوں سے وہ اسرائیلیوں کا ہیرو بن جائے گا اور حزب اللہ بھی جوابی کارروائی نہیں پائے گی اور اس کی دھاک پورے مشرق وسطیٰ پر بیٹھ جائے گی۔

تاہم سید حسن نصراللہ کے اعلان اور بروقت جوابی حملے نے اسرائیلی وزیراعظم کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیا اور اب وہ دھاک بٹھانے کی بجائے ساکھ بچانے میں کوشاں ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کی یہ نپی تلی رائے ہے کہ مقاومت اور استقامت کے بلاک نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے اور اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ غاصب اسرائیل میں انتخابی تبدیلیاں بھی استقامتی بلاک کی سرگرمیوں سے بالواسطہ یا بلاواسط جڑی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ البتہ حیران کن بات یہ ہے کہ بعض اسلامی ممالک کے ناعاقبت اندیش حکمران اب بھی زوال پذیر غاصب صہیونی حکومت کو اپنے اقتدار کے تحفظ کی ضمانت سمجھتے ہوئے اس ظالم و غاصب اور غیر قانونی اسلام دشمن حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے ناپاک ارادے کا اظہار کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 816069
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب