0
Saturday 14 Sep 2019 23:20

بلدیو کمار کیجانب سے انڈیا میں سیاسی پناه دینے کی درخواست قابل مذمت ہے!!

بلدیو کمار کیجانب سے انڈیا میں سیاسی پناه دینے کی درخواست قابل مذمت ہے!!
رپورٹ: ایس علی حیدر

پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن خیبر پختونخوا اسمبلی بلدیو کمار نے انڈیا میں سیاسی پناه لینے کیلئے درخواست دیدی ہے، جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادری محفوظ نہیں، ان کی زندگی کو خطرہ ہے، اس لئے انہیں پناہ دی جائے۔ بلدیو کمار کے بھائی تلک کمار نے اپنے بھائی سے متعلق بتایا کہ بلدیو کمار کی ایک بیٹی تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہے، اس لئے بلدیو کمار اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ انڈیا چلے گئے ہیں، تاہم انہیں ان کی سیاسی پناہ کی درخواست سے متعلق سن کر افسوس ہوا۔ بلدیو کمار کی جانب سے انڈیا کو سیاسی پناه کیلئے درخواست دینے پر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ بلدیو کمار نے اپنے ذاتی فائدے کیلئے ملک کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، بلدیو کمار کو پاکستان میں جو عزت ملی تھی، وہ انہیں کہیں نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو جو آزادی حاصل ہے، دنیا میں کہیں اقلیتوں کو حاصل نہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بلدیو کمار پاکستان تحریک انصاف کا حصہ ہیں، بلدیو کمار کا تعلق بریکوٹ سوات سے ہے، وہ ایم پی اے بننے سے قبل ڈسٹرکٹ کونسلر تھے، جب خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن بنے تو ان کی جگہ ان کے بھائی تلک کمار ڈسٹرکٹ کونسلر بنے۔ واضح رہے کہ سردار سورن سنگھ 2013ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اقلیتوں کی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بنے، بعدازاں انہیں پرویز خٹک کی کابینہ میں معاون خصوصی برائے اقلیتی امور شامل کیا گیا۔ سردار سورن سنگھ کو آبائی علاقے پیر بابا بونیر میں 22 اپریل 2016ء کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کیا، جس کے قتل کے الزام میں بلدیو کمار کو بحیثیت ملزم نامزد کیا گیا، جس پر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

وہ جیل میں تھے کہ ان کا ٹرائل ڈگر بونیر کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا تھا، فاضل عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر انہیں بری کر دیا۔ سردار سورن سنگھ کے قتل کے بعد ترجیحی لسٹ میں بلدیو کمار کا نام شامل تھا، پارٹی قیادت کی مخالفت کے باوجود الیکشن کمیشن نے بلدیو کمار کو صوبائی اسمبلی کا رکن قرار دے کر نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ ان کی بریت کا فیصلہ 26 اپریل 2018ء کو ہوا۔ رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد بلدیو کمار کو اسمبلی کے اجلاسوں میں ارکان کے مسلسل احتجاج پر بیٹھے نہیں دیا گیا۔ بلدیو کمار کی جانب سے انڈیا میں سیاسی پناه دینے کی درخواست قابل مذمت ہے، پاکستان میں انہیں جو عزت ملی تھی، وہ شاید انہیں کہیں ملے۔ درخواست میں جو موقف اپنایا گیا ہے، وہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، پوری دنیا پر یہ حقیقت عیاں ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مثالی آزادی حاصل ہے اور انہیں جو عزت مل رہی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انڈیا میں مسلم اقلیت سمیت دوسری اقلیتی برادری کی جو تضحیک کی جا رہی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، انڈیا میں مسلمان اقلیت میں ہیں، ان پر ہندوستان کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے۔

سیاسی پناہ لینے کیلئے بلدیو کمار نے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی ہے، ان کے اس عمل سے ان کے بھائی تلک کمار کو بھی اختلاف ہے۔ بلدیو کمار پر یہ الزام لگا تھا کہ وہ سردار سورن سنگھ کے قتل میں کسی نہ کسی طرح ملوث رہے ہیں، وہ اس لئے درست ہے کہ سردار سورن سنگھ کے بعد ترجیحی لسٹ میں بلدیو کمار کا نام شامل تھا۔ عدالت نے انہیں بری کیا، اس لئے عدالتی فیصلے پر انگشت نمائی نہیں کی جاسکتی۔ بلدیو کمار کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ہے، انہوں نے یہاں شادی کی ہے، یہاں ان کے بچے پیدا ہوئے، پاکستان کو عزت دینے کی بجائے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انڈیا پاکستان کا ازلی دشمن ہے، آجکل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ایسی صورتحال میں بلدیو کمار کی جانب سے ہندوستان میں سیاسی پناہ لینے کیلئے درخواست دینا سمجھ سے بالاتر ہے، یہ جان بوجھ کر پاکستان کو اقلیتوں کے حوالے سے بدنام کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ انڈین میڈیا نے بلدیو کمار کے انٹرویو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ بلدیو کمار کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، ان سے لاتعلقی کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے، اگر انڈیا نے بلدیو کمار کو سیاسی پناہ دینے سے انکار کیا تو ان کا مستقبل سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 816199
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب