1
Saturday 14 Sep 2019 22:57

سعودی تیل کی تنصیبات پر یمنیوں کا بڑا حملہ

سعودی تیل کی تنصیبات پر یمنیوں کا بڑا حملہ
تحریر: رامین حسین آبادیان

یمن آرمی اور رضاکار فورسز نے جارح قوتوں کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یمنی ایک بار پھر سعودی عرب کی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل تیل کی تنصیبات کے خلاف ڈرون حملہ کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ آج ہفتہ 14 ستمبر کی صبح بقیق اور ہجرہ خریص میں واقع سعودی عرب کی آرامکو آئل کمپنی کی دو بڑی ریفائنریز میں بڑے پیمانے پر آگ لگ جانے کی خبریں موصول ہوئیں۔ سعودی میڈیا نے اس واقعہ کے حقیقی اسباب پر پردہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی لیکن آخرکار انہیں اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ یہ آگ یمن کی جانب سے ان تنصیبات پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں لگی ہے۔ لہذا سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ: "ان دو ریفائنریز میں دھماکے اور آگ ان ڈرون حملوں کا نتیجہ ہے جو یمن نے انجام دیے ہیں۔ ہم نے آگ پر قابو پا لیا ہے اور اسے مزید پھیلنے سے روک دیا ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیموں نے بھی اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔"
 
سعودی عرب کے اس اعتراف کے بعد یمن آرمی کے ترجمان یحیی سریع نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان حملوں کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا: "یمن آرمی کے 10 ڈرونز پر مشتمل ایک اسکواڈرن نے بقیق اور خریص میں آرامکو کمپنی سے متعلقہ دو آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تنصیبات سعودی عرب کے مشرقی ترین حصے میں واقع ہیں۔" انہوں نے مزید کہا: "یہ حملہ سعودی عرب کے اندر ہمارا سب سے بڑا حملہ ہے اور اس کا مقصد سعودی عرب کو مزید جارحیت سے باز رکھنا ہے۔ یہ حملہ ہمارے نہتے عوام کے خلاف سعودی عرب کی مجرمانہ جارحیت کے ردعمل میں انجام پایا ہے۔" یمن آرمی کے ترجمان یحیی سریع نے کہا: "روک تھام آپریشن 2 ایک بھرپور انٹیلی جنس آپریشن کے بعد انجام پایا ہے۔ سعودی عرب کے اندر ہماری انٹیلی جنس کے ذرائع روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں اور مستقبل میں ہمارے حملے زیادہ دردناک ہوں گے۔ اگر جارح قوتیں یمن کے خلاف جارحیت جاری رکھتی ہیں تو ہم بھی اس کے بعد زیادہ بڑے اور تباہ کن حملے انجام دیں گے۔"
 
یحیی سریع نے کہا کہ اس حملے سے ثابت ہو گیا ہے کہ یمن نہ صرف میزائل حملوں بلکہ ڈرون حملوں میں بھی بھرپور صلاحیتوں کا مالک ہو چکا ہے۔ تقریباً دو سال پہلے یمن آرمی نے ملک میں تیار کردہ پہلے ڈرون کی پردہ گشائی کی۔ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کے 700 دن بعد یمن آرمی ڈرون تیار کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور اب تک سعودی عرب کے کئی حساس مقامات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ اس وقت یمن آرمی اور رضاکار فورسز کی ڈرون طاقت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ امریکی میڈیا بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اس بارے میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل باخبر ذرائع کے بقول لکھتا ہے: "انصاراللہ یمن کے ڈرون حملے اس کے کہیں زیادہ موثر اور ایکوریٹ ہیں جس کا اعتراف امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادی کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس موجود ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو رہی ہے۔"
 
دوسری طرف متحدہ عرب امارات بھی یمنیوں کے ممکنہ ڈرون حملوں سے شدید پریشان اور خوفزدہ دکھائی دیتا ہے۔ اماراتی حکام یقین کر چکے ہیں کہ یمن ان پر تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ابوظہبی کے حکمران یمن جنگ سے دستبرداری کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سعودی حکمرانوں پر بھی خوف اور وحشت طاری ہو چکی ہے۔ آرامکو آئل کمپنی نے آج کے شدید ڈرون حملوں کے بعد بقیق اور خریص میں اپنے تمام اسٹاف کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے اور انہیں باہر نکلنے سے منع کیا ہے۔ سعودی عرب کے حکومت مخالف رہنما فواد ابراہیم نے کہا ہے: "آرامکو کمپنی نے یمن آرمی کی جانب سے 10 ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کے بعد اپنے ورکرز کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے۔" لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن جنگ میں یمنی مجاہدین کا پلڑا بھاری ہوتا جا رہا ہے اور اس وقت جنگ کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آج کے اس عظیم ڈرون حملے کے بعد جنگ کا رخ بدل جائے گا اور سعودی حکام ہوش کے ناخن لیں گے۔
 
خبر کا کوڈ : 816228
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے