0
Monday 16 Sep 2019 07:49

زیادہ سے زیادہ دباو سے زیادہ سے زیادہ جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی تک

زیادہ سے زیادہ دباو سے زیادہ سے زیادہ جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی تک
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے مختلف پالیسیاں اور حربے استعمال کئے ہیں۔ ان حملوں میں ایک اسٹرٹیجک پالیسی "زیادہ سے زیادہ دباو" یعنی "میکسیمم پریشر" کی پالیسی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کی ٹیم نے ایران پر دباو بڑھانے کے لئے اقتصادی، سیاسی، فوجی، ثقافتی اور تشہیراتی حملوں میں اضافے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ اقتصادی حوالے سے ایران کے خلاف جو اقتصادی پابندیاں اس وقت عائد ہیں، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ برآمدات اور درآمدات پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ بینکنگ کے شعبے میں جو پابندیاں اس وقت عائد ہیں، عراق ایران جنگ کے زمانے میں بھی ایران پر عائد نہیں تھیں۔ ان پابندیوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران میں حالیہ سیلاب کے دوران بیرون ممالک سے سیلاب زدگان کی امداد اس لئے ایران نہیں آسکی، کیونکہ یہ امداد امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کے زمرے میں آتی تھی۔

اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی و سفارتی سطح پر ایران کو تنہا کرنے کے لئے ہر پلیٹ فارم پر ایران کے خلاف منفی ماحول پیدا کیا گیا۔ فوجی حوالے سے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے کے لئے دھمکیاں دی گئیں، سپر ہاک ڈرون طیارے کے ذریعے فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی کی گئی، لیکن ایران نے اس جدید ترین ڈرون کو خلیج فارس کے پانیوں میں غرق کرکے یہ پیغام دیا کہ فوجی دھمکیاں اب کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔ سیاسی حوالے سے ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف پراپیگنڈے کئے گئے کہ امریکی رواں سال کا کرسمس تہران میں منائیں گے اور اس کے لئے جان بولٹن جیسے جنگ پسند شخص کو امریکہ کی قومی سلامتی کا مشیر بنایا گیا، لیکن یہ دھمکیاں بھی کارگر ثابت نہ ہوئیں اور امریکہ کی طرف سے ایٹمی معاہدے سے نکل کر یہ تاثر بھی دیا گیا کہ دنیا میں وہی ہوتا ہے، جو امریکہ چاہتا ہے۔

لیکن دوسری طرف ایران نے استقامتی و مزاحمتی بلاک کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کو ناکامی و نامرادی سے دوچار کر دیا  اور آج وہ یمن جسے سعودی عرب نے چند ہفتوں بلکہ چند دنوں میں فتح کرنے کا اعلان کیا تھا، آج اس کے ڈرون سعودی عرب کی سرحدوں کو عبور کرکے بلکہ ہزار کلومیٹر سے زیادہ اندر گھس کر آرامکو جیسی تیل کی بڑی بڑی کمپنیوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بقیق اور خریص تنصیبات پر یمن کی فورسز کے حملوں نے امریکہ کے تمام خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ ایران پر الزام لگا رہا ہے کہ ان حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے اور ان ڈرونز کے لئے عراقی سرزمین کو استعمال کیا گیا ہے۔ عراق نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ امریکہ اس وقت زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی کی بجائے زیادہ سے زیادہ جھوٹ، فریب اور دھوکہ بازی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 816437
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب