1
Tuesday 17 Sep 2019 22:46

سعودی عرب کی جارحانہ حکمت عملی شکست کا شکار

سعودی عرب کی جارحانہ حکمت عملی شکست کا شکار
تحریر: سید احمد نکوئی

سعودی عرب اس وقت انتہائی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کا شکار ہو چکا ہے جس کے باعث وہ بند گلی میں پھنس گیا ہے۔ یمن کے خلاف جنگ کا خاتمہ یا اس کا تسلسل نیز ابوظہبی سے اپنا اتحاد برقرار رکھنا یا اسے ختم کر دینا ایسے راستے ہیں جو سب کے سب سعودی عرب کیلئے نقصان دہ ہیں۔ اس صورتحال کا شکار ہونے کی واحد وجہ سعودی حکام کی جانب سے روایتی خارجہ پالیسیاں ترک کر کے جارحانہ پالیسیاں اپنانا ہے۔ سعودی عرب کی روایتی پالیسیاں بہت حد تک اس کے اقتصادی، جیو پولیٹیکل اور جیو کلچرل حالات سے سازگار تھیں لیکن سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے اپنائی گئی جارحانہ حکمت عملی سعودی عرب کی سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی حیثیت سے بالکل مناسبت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض اب تک بھاری اخراجات کے باوجود یمن کے خلاف جنگ میں کچھ حاصل نہیں کر پایا۔ اسی طرح گذشتہ چند سالوں کے دوران ایران کے خلاف اتحاد تشکیل دینے کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود اپنے اس مقصد میں ناکام رہا ہے۔ آج سعودی عرب اپنے اصلی ترین اتحادی یعنی متحدہ عرب امارات کے ساتھ اختلافات کا شکار ہو چکا ہے۔
 
چند ماہ پہلے سعودی حکام نے یمنیوں کے ہوائی حملوں سے محفوظ رہنے کیلئے مکہ میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔ لیکن بقیق اور خریص میں آرامکو آئل ریفائنریز پر یمنیوں کے حالیہ ڈرون حملوں نے اس اجلاس کے بے نتیجہ ہونے کو ثابت کر دیا ہے۔ مکہ میں منعقد ہونے والے اجلاس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ سعودی عرب کی سکیورٹی درحقیقت حرمین شریفین کی سکیورٹی ہے۔ اس سے پہلے بھی ریاض خود کو سرزمین وحی کے طور پر ہر قسم کے ہوائی حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش انجام دے چکا تھا۔ جبکہ خود دن رات یمن میں عام شہریوں کو ہوائی حملوں اور بمباری کا نشانہ بنا رہا ہے۔ بعض ممالک نے باتوں کی حد تک سعودی عرب کی حمایت کی تھی لیکن عملی میدان میں کوئی خاص نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔ بعض ممالک نے سعودی عرب پر حملے کو تمام اسلامی سرزمینوں پر حملے کے مترادف قرار دیا تھا لیکن اس کے بعد اب تک یمنیوں کی جانب سے بارہا میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بھی ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ لہذا عمل کے میدان میں کسی اسلامی ملک نے سعودی عرب کی سکیورٹی کو حرمین شریفین کی سکیورٹی کے مترادف قرار نہیں دیا۔
 
امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کی جانب سے سعودی تیل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں کا الزام ایران اور عراق پر عائد کرنے سے سعودی عرب کو درپیش صورتحال مزید مشکل ہو گئی ہے کیونکہ انصاراللہ یمن ان حملوں کی ذمہ داری کا اعلان کر چکی ہے۔ سعودی عرب چاہے مائیک پمپئو کا موقف قبول کرے یا انصاراللہ یمن کی تصدیق کرے دونوں صورتوں میں وہ ایک سکیورٹی مخمصے کا شکار ہے۔ اگر سعودی حکام امریکی وزیر خارجہ کا موقف قبول کرتے ہیں تو انہیں ایران کے خلاف جوابی کاروائی کرنی چاہئے جس کی پوزیشن میں وہ نہیں ہیں کیونکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات قریب ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہیں چاہتے امریکہ یا اس کا کوئی اتحادی نئی جنگ شروع کرے۔ اس وقت امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات خطے سے متعلق امریکی پالیسیوں میں بنیادی کردار کے حامل ہیں۔ دوسری طرف اگر سعودی عرب یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ یہ حملے انصاراللہ یمن نے انجام دیے ہیں تو اس کا مطلب یمن کے خلاف جنگ میں شکست اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا اعتراف ہے۔ سعودی عرب کیلئے یمن جنگ سے عزت مندانہ طریقے سے باہر نکلنے کے راستے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
 
سعودی ولیعہد نے گذشتہ برس ڈیٹرنٹ ڈیفنس پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق سعودی عرب کے اندر جنگ کی آگ جلنے سے پہلے اس جنگ کو ایران کی سرحدوں کے اندر لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن اب یہ حکمت عملی ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔ ریاض کو یہ حقیقت جان لینی چاہئے کہ اگر اس نے ایران پر حملہ کیا تو نہ تو اسے امریکہ سے کوئی مدد حاصل ہو گی اور نہ ہی یمن کی جنگ میں کامیابی حاصل کر پائے گا۔ اسی طرح سعودی عرب اسرائیل پر بھی تکیہ نہیں کر سکتا۔ اگرچہ سعودی حکام حالیہ حملوں کا الزام ایران پر عائد کر رہے ہیں لیکن عملی طور پر یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے بقول ایران سے درپیش خطرے کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ عرب حکمران اس بات سے غافل ہیں کہ کسی بھی بحرانی صورتحال میں داخل ہونا اہم نہیں ہوتا بلکہ اس سے نکلنا زیادہ اہم اور مشکل کام ہوتا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب علاقائی سطح پر موجود بحرانوں سے دور رہنے کی پالیسی پر گامزن رہا ہے اور یہی اس کی کامیابی کا راز بھی تھا کیونکہ ایسی صورت میں اسے بحران سے باہر نکلنے کی حکمت عملی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔
 
خبر کا کوڈ : 816756
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے