0
Tuesday 17 Sep 2019 19:55

اسرائیلی انتخابات اور نیتن یاہو کی چالیں

اسرائیلی انتخابات اور نیتن یاہو کی چالیں
تحریر: خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ

سال میں دوسری مرتبہ آج اسرائیل میں کینسٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیتن یاہو ان انتخابات میں اکثریت حاصل کرکے ایک مرتبہ پھر صہیونی ریاست کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہو پائیں گے یا نہیں؟ اگر انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی جدوجہد اور انتھک کوششوں کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ان انتخابات میں کامیابی کے لیے ہر طرف ہاتھ پاوں مارے ہیں۔ اس لیے کہ جیسا کہ اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا بھی ہے کہ نیتن یاہو کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں یا انتخابات میں کامیابی یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی۔ اگر نیتن یاہو اس الیکشن میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پاتے تو ان پر سالہا سال سے چل رہے مالی گھوٹالوں کے مقدمے انہیں باآسانی جیل میں دھکیل دیںگے۔ لہذا جیل کی سزا سے بچنے کے لیے انہوں نے گذشتہ عرصے میں انتھک کوشش کی ہے کہ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں، ذیل میں ان سنجیدہ یا غیر سنجیدہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو انہوں نے اس عرصے میں انجام دیئے ہیں۔

عراق، شام اور لبنان پر حملہ:
چند ہفتے پہلے اسرائیل نے عراق میں حشد الشعبی کے ٹھکانوں اور لبنان میں حزب اللہ کے میڈیا سینٹر کو حملوں کا نشانہ بنایا اور پھر شام پر بھی کئی ایک میزائل فائر کئے، جس کی وجہ سے حزب اللہ لبنان کے دو افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ انتخابات کے دنوں میں تین ممالک کو ایک ساتھ حملوں کا نشانہ بنانا صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک ڈرامہ رچانا تھا، اس لیے کہ ان حملوں کے بعد اسرائیل میں جو نیتن یاہو کے خلاف ایک فضا بن چکی تھی کہ وہ ڈرپوک لیڈر ہیں اور حزب اللہ اور حماس سے سخت ڈرتے ہیں، اس مخالف فضا کو کم کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن نیتن یاہو کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ حزب اللہ نے دندان شکن جواب دینے کی دھمکی دے کر ایک ہفتے تک پورے اسرائیل میں تہلکہ مچا دیا اور سب کی نیندیں حرام کر دیں اور آخرکار معمولی جواب دے کر یہ کہہ دیا کہ ہم فی الحال جنگ چھیڑنا نہیں چاہتے۔

مغربی کنارے کا مقبوضہ فلسطین سے الحاق:
نیتن یاہو نے اپنی انتخاباتی مہم چلاتے ہوئے اس بات کا وعدہ بھی دے دیا ہے کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ مغربی کنارے کو مقبوضہ فلسطین سے ملحق کر دیں گے۔ نیتن یاہو کا یہ نعرہ صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے بھی تصور کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ انتہا پسند یہودی مغربی کنارے کو ارض موعود کا حصہ جانتے ہیں اور نیتن یاہو کے اس وعدے کے بعد وہ ان کے قریب آچکے ہیں۔ لیکن کیا وہ اپنے اس وعدے پر پورا اترتے ہیں، یہ وقت کی بتائے گا۔ غزہ میں جنگ کو ہوا دینا چونکہ ملت فلسطین کے خلاف جنگ کا طبل بجانا تمام صہیونی امیدواروں کے نزدیک ووٹ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اس لیے نیتن یاہو نے بھی اس آپشن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور انہوں نے گذشتہ دنوں غزہ کی پٹی پر چند ایک راکٹ فائر کرکے جنگی ماحول بنا کر صہیونیوں کو قانع کرنے کی کوشش کی کہ وہ انتخابات میں اکثریت آراء حاصل کرنے کی صورت میں غزہ کو خاک و خوں میں ملا سکتے ہیں، لیکن صہیونیوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ غزہ میں مزاحمتی تحریکیں دودھ پی کر سو نہیں رہیں بلکہ حماس اور جہاد اسلامی منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

پوٹین کے ساتھ ملاقات:
روسی صدر پوٹین دنیا کے ایک طاقتور سیاستدان سمجھے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ قریبی تعلقات ایک ملک کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی علامت ہے۔ نیتن یاہو نے اس حربے کا استعمال بھی کرتے ہوئے گذشتہ دنوں وہائٹ ہاوس میں ایک کانفرنس کے دوران پوٹین سے ملاقات کی اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کی گہرائی کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے حلیفوں پر یہ جتانے کی کوشش کی کہ وہ امریکہ کے علاوہ دنیا کی دوسری بڑی طاقت روس کے ساتھ بھی گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ نیتن یاہو نے نہ صرف نیویارک میں پوٹین کے ساتھ ملاقات کو کافی نہیں سمجھا بلکہ چند روز قبل ان سے دوبارہ ملنے کے لیے روس بھی پہنچ گئے اور ان کو اسرائیل کا دورہ کرنے پر راضی کرکے اپنی خارجہ پالیسی کی مضبوطی کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

ایران کے جوہری معاہدے کی شکست کا ڈھنڈورا پیٹنا:
نیتن یاہو نے امریکہ کو ایران کے ایٹمی معاہدے سے نکلوا کر بزعم خود بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی کہ گویا وہ ایران کے ایٹمی طاقت بننے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ قرار پائے اور انہوں نے ایران کو ایٹمی اسلحہ بنانے سے روک دیا جبکہ ایٹمی معاہدے کے ناکام ہو جانے سے اگر کوئی نقصان ہوا ہے تو وہ امریکہ و اسرائیل کو ہی ہوا ہے، اس لیے کہ ایران نے جوہری توانائی کے تمام پلانٹس کو دوبارہ تیزی کے ساتھ فعال کر دیا ہے، اپنی جوہری سرگرمیاں تیزی کے ساتھ شروع کر دی ہیں اور نتین یاہو کے منصوبے پر پانی پھیر دیا ہے۔

امریکہ کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ:
نیتن یاہو کو انتخابات میں کامیاب کرانے کی چھٹی کوشش ان کے یار غار ڈونلڈ ٹرمپ نے کی، انتخابات سے ٹھیک دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے خبر دی کہ امریکہ اور صہیونی ریاست کے درمیان ایک نیا فوجی معاہدہ انجام پایا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک دفاعی میدان میں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے۔ نیتن یاہو نے اس حساس موقع پر اپنے رفیق کی طرف سے دیئے گئے اس تحفہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ میں اس سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کو انتخابات کے بعد جاری رکھوں گا۔ خلاصہ یہ کہ نتین یاہو کے سامنے اس بار انتخابات میں کامیابی کے لیے شرائط بالکل فراہم نہیں تھیں، لہذا انہوں نے ووٹ بٹورنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلی ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ ان کی بعض چالیں الٹا ان کے گلے پڑ گئیں اور حتیٰ اس بات کا باعث بنیں کہ مقبوضہ فلسطین میں ان کی گذشتہ مقبولیت بھی خطرے میں پڑ جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی شیطانی چالیں کس قدر موثر واقع ہوتی ہیں اور کیا ایک مرتبہ پھر وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہوتے ہیں یا پھر ان چالوں میں ناکام ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاتے ہیں۔؟
خبر کا کوڈ : 816766
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے