1
0
Thursday 19 Sep 2019 09:33

امریکہ نے سعودی عرب کو تنہا کر دیا ہے؟

امریکہ نے سعودی عرب کو تنہا کر دیا ہے؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

سعودی آئل تنصیبات پر یمنی فوج کے حملے کے بعد امریکہ صرف اس بات پر زور لگا رہا ہے کہ کسی طرح ایران اور سعوری عرب کو لڑوا ہی دے۔ امریکہ بار بار اس الزام کو دہرا رہا ہے کہ حملہ ایران نے کیا ہے، جبکہ یمنی فوج تسلیم کر رہی ہے کہ یہ حملہ یمن سے کیا گیا ہے۔ ایران نے بھی امریکی الزام کی مذمت اور اس حملے کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ حملہ ایران نے نہیں کیا۔ اس کے باوجود امریکہ مُصر ہے کہ سعودی عرب اس کی جھوٹی بات کو ہی سچ تسلیم کرتے ہوئے مان لے کہ حملہ ایران نے کیا ہے۔ امریکہ کبھی کسی کا دوست نہیں بنا۔ امریکہ وہ ساہوکار ہے، جسے صرف اس کے اپنے کاروبار سے مطلب ہے۔ امریکہ دوستی بھی اپنے مفاد کیلئے کرتا ہے اور پھر دشمنی بھی اپنے فائدے کیلئے ہی کرتا ہے۔ یہ اس کا پرانا اصول ہے۔ امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی اس کے اپنے مفاد کیلئے ہے۔ یہاں قیام سے عام لوگ سمجھتے ہیں امریکہ کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ میں موجود رہ کر اپنی معیشت کو سہارا دیئے ہوئے ہے۔ عربوں کا تیل وہ اونے پونے داموں خریدتا ہے۔ عربوں کو ایران سے ڈرا کر اپنا اسلحہ بیچتا ہے اور تو اور جنگیں بھی خود ہی ’’ارینج‘‘ کرتا ہے اور پھر ثالث بن کر ان کا خاتمہ بھی خود ہی کرواتا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کا ’’بہترین‘‘ دوست امریکہ ہے۔ سعودی عرب کے حکمران خاندان کو اتنا یقین اللہ پر نہیں، جتنا امریکہ پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی خاطر اپنے ہمسایوں کیساتھ بھی تعلقات بگاڑ رکھے ہیں۔ امریکہ کی اس دوستی میں سعودی عرب تنہائی کا شکار ہوچکا ہے۔ سعودی عرب کا واحد اتحادی متحدہ عرب امارات ہے، لیکن وہ بھی اپنے مفاد کیلئے سعودی عرب سے جڑا ہوا ہے۔ امارات نے جنوبی یمن کا بہت سارا علاقہ سعودی اتحادی افواج سے لے لیا ہے۔ اس کا مقصد بھی یہی علاقہ تھا۔ اب سعودی عرب والے جیئیں یا مریں انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں۔ مصر نے بھی سعودی عرب کیساتھ ’’ہاتھ‘‘ کر دیا۔ مصر نے سعودی عرب سے اربوں ڈالر تو لے لئے، مگر سعودی عرب کے دفاع کیلئے اپنا ایک بھی فوجی نہیں بھیجا، البتہ ان کے فوجی یمن میں لڑنے میں مصروف ہیں، جو وہاں کے ماحول میں لڑنا ہی نہیں جانتے، یوں وہ لڑتے کم اور ہارتے زیادہ ہیں۔
 
سعودی عرب نے قطر اور ترکی کو بھی اپنا مخالف بنا لیا ہے۔ یہ دونوں ملک بھی سعودی عرب کے دکھ میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو ریاض اور اسلام آباد میں زبانی کلامی کی دوستی ہی دکھائی دے رہی ہے۔ مثال کے طور پر محمد بن سلمان نے دورہ پاکستان کے موقع پر کہا وہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر ہیں اور سعودی عرب کی جیلوں میں قید تمام پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان کرتے ہیں۔ مگر محمد بن سلمان واپس جاتے ہی اپنے یہ بیانات یہیں پاکستان میں ہی چھوڑ گئے۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستان کیلئے سفارتکاری کی اور نہ ہی وہاں قید پاکستانیوں میں سے ایک بھی بندہ رہا کیا۔ اسی طرح پاکستان کو بھی مالی مشکل دُور کرنے کیلئے سعودی تیل اور ریالوں کی ضرورت تھی، سو عمران خان نے بھی محمد بن سلمان کو ویسا ہی جواب دیا۔ عمران خان نے بھی بیان دے دیا کہ وہ بھی سعودی عرب کیساتھ کھڑے ہیں، لیکن یہ سب اسلام آباد میں کھڑے ہو کر ہی کہا۔ پاکستان نے بھی سعودی عرب کی عملی طور پر مدد نہیں کی۔ (جیسے کو تیسا)۔ جیسی محبت سعودی عرب پاکستان سے کرتا ہے، ویسی ہی پاکستان سعودی عرب سے کرتا ہے۔ بچپن میں ایک شعر سنا تھا کہ ۔۔
وفا  کرو  گے،  وفا  کریں  گے، جفا  کرو  گے جفا  کریں  گے
ہم آدمی ہیں تمھارے جیسے، جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے


پاکستان نے تو سعودی عرب کو ایسا ہی کچھ جواب دیا ہے۔ اب رہ گیا سعودی عرب کا دوست اسرائیل، تو اسرائیل سعودی عرب کا خفیہ اتحادی ضرور ہے لیکن مشکل میں مدد وہ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ یمن کے نہتے عوام پر آگ برسانے کے عمل نے سعودی عرب کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ سعودی عرب نے یمن کو نہیں بلکہ یمن نے سعودی عرب کی معیشت کو برباد کرکے رکھ دیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یمنی فوج نے جنوبی سعودی عرب میں زندگی مفلوج کرکے رکھ دی ہے۔ سعودی عرب کا جنوبی علاقہ عضو معطل بن چکا ہے۔  سعودی عرب گذشتہ 2 برسوں میں یمن کے حوالے سے زیرو پوائنٹ پر کھڑا ہے۔ اربوں ڈالر لگا کر سعودی عرب نے ’’اسلامی فوج‘‘ کی بنیاد رکھی، مگر وہ فوج ایک ٹکے کی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ وہ فوج تو سعودی عرب میں بس ’’شہد‘‘ پینے میں ہی مصرف رہتی ہے۔ اس کے سوا اسے کوئی کام نہیں۔ کھاو پیو، جان بناو، کے مصداق ہمارے جنرل راحیل بھی مزے میں ہیں۔

اب آخر میں رہ گیا سعودی عرب کا آخری ’’سچا دوست‘‘ بھارت، تو بھارت جتنا دوست سعودی عرب کا ہے، اتنی ہی اس کی قربت ایران کیساتھ بھی ہے۔ یوں یہ دوست بھی مائنس ہوگیا۔ پیچھے اس گوشوارے میں سعودی عرب تنہا ہے اور اس کی گردن پر امریکا گدھ کی شکل میں اس انتظار میں بیٹھا ہے کہ یہ مَرے اور گدھ اِس کا مُردار کھائے اور پھر اَگلے مُردار کی تلاش میں نکل کھڑا ہو۔ سعودی عرب اس وقت تنہا ہوچکا ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کے خون سے سعودی عرب کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یمن کے اخوان بھی سعودی عرب کے مخالف بن چکے ہیں۔ اس سارے منظر نامے میں سعودی عرب تنہا کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا کا یہ اصول ہے کہ جب بھی کوئی ملک تنہائی کا شکار ہوتا ہے، تنہائی اُسے مار دیتی ہے۔ دنیا بڑی ظالم ہے، جسے مارنا ہو، تو اُسے تنہا کر دیتی ہے، اس تنہائی میں وہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔

محمد بن سلمان ابھی بچہ ہے۔ وہ دنیا کے شاطرانہ داؤ پیچوں سے واقف نہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے شاہ سلمان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے کہ اس نے محمد بن سلمان کو ’’اختیار کُل‘‘ دے کر بہت اچھا فیصلہ کیا۔ اس پر شاہ سلمان تو خوش ہوگیا، مگر اب اس تنہائی میں اسے بھی احساس ہو رہا ہے کہ اس نے محمد بن سلمان کو زمام اقتدار دے کر غلطی کی ہے۔ سعودی عرب میں حالیہ ثقافتی تبدیلی نے اُمت مسلمہ کے دل میں احترام کی رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ فحش گلوکارراؤں کے مجرے، سینما، کیسینو، یہ سب وہ اقدامات ہیں، جن سے پوری دنیا کے مسلمان شرمندہ اور پریشان ہیں کہ ہماری عقیدتوں کا مرکز کس سمت چل پڑا ہے۔ محمد بن سلمان کی ’’روشن خیالی‘‘ نے جہاں دنیا بھر کے عام مسلمانوں کو مایوس کیا ہے، وہیں سعودی عرب کی خارجہ پالیسیوں سے مسلم دنیا کے حکمران بھی ناراض ہیں۔

اب امریکہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ سعودی عرب کو ایران پر حملے کیلئے آمادہ کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کو سعودی عرب کے دورے پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے سعودیوں کو قائل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ یہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے۔ مائیک پومپیو اپنے ساتھ کچھ تصاویر بھی بنا کر لائے تھے، جن کو سعودی حکام کو دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایران کا سعودی عرب کیخلاف ’’جنگی اقدام‘‘ تھا۔ دوسری جانب سعودی عرب ابھی تک مخمصے میں ہے کہ یہ حملہ ہوا کدھر سے ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے میڈیا کو بریفنگ دی، جس میں انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ حملہ ہوا کہاں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حملہ شمال سے کیا گیا ہے اور ہوسکتا ہے، اس میں ایران ہی ملوث ہو، مگر ہم حقائق دیکھ رہے ہیں۔

سعودی عرب اپنی تنہائی سے پریشان ہے۔ اسے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایران پر چڑھ دوڑنے کے بار بار کے اصرار سے سعودی عرب کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ اس میں امریکہ کی کوئی چال ہوسکتی ہے جبکہ نام نہاد ’’اسلامی فوج‘‘ کی قیادت نے بھی سعودی عرب کے محمد بن سلمان کو ایک بریفنگ میں واضح کر دیا ہے کہ ایران پر حملہ سعودی عرب کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ سعودی قیادت کیلئے حالیہ حملہ بیداری کی ایک گھنٹی ہے۔ سعودی قیادت کیلئے اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی تنہائی سے نکلنے کیلئے امریکہ کے جال سے باہر نکل آئے اور ایران کیساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ  کر معاملات حل کر لے۔ امت مسلمہ متحد ہوگی تو اسلام دشمن قوتیں خود بخود بے نقاب ہو جائیں گی۔ سعودی قیادت کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ امتِ واحدہ کیلئے میدان میں نکلے۔ تقدیر ایک بار ہی دستک دیتی ہے، جو اس دستک کو سُن لیتا ہے، اس کا مقدر بدل جاتا ہے اور جو اس پر کان نہیں دھرتا، اُسے پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
خبر کا کوڈ : 817016
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

samareen
Pakistan
saudi arab iraan pr hamla matt kry.boht nuqsaan ho ga muslim camunity ka.
منتخب