1
Sunday 22 Sep 2019 09:07

ڈرائیور بننے سے لفٹ لینے تک

ڈرائیور بننے سے لفٹ لینے تک
اداریہ
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ ہی مثالی رہے اور پاکستانی حکمران ہمیشہ آل سعود کے منظور نظر رہے ہیں۔ پاکستان میں جو بھی حکمران برسراقتدار آتا ہے، عام طور پر اس کا پہلا بیرونی دورہ سعودی عرب کا ہی ہوتا ہے، اس دورے کے عام طور پر دو ہی مقصد بتائے جاتے ہیں، پہلا مقصد تو حرمین کی زیارت ہوتا ہے اور دوسرا سعودی حکمرانوں سے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ادھار تیل یا زرمبادلہ بڑھانے کے لیے ڈالر کی اپیل۔ سعودی عرب ان فرمائشوں کے جواب میں پاکستان کو کن اقدامات کی انجام دہی کا حکم صادر کرتا ہے، اس کی تفصیل کبھی سامنے نہیں آئی، تاہم پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف کا تمام تر قانونی پابندیوں کو پھلانگتے ہوئے سعودی عرب کی بنائی گئی اکتالیس ممالک کی ملازمت قبول کرنا اس کی ایک مثال ہے۔ پاکستان کا جو حکمران بھی اسلام آباد نشین ہوتا ہے، آل سعود اس کے ساتھ اس طرح پیش آتے ہیں، جیسے وہ انکا ذاتی دوست ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکمران اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ آل سعود سے ان کی ذاتی دوستیاں ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک سب کو یہی گمان رہا، البتہ نواز شریف بھی اس عشق میں کافی عرصہ تک مبتلا رہے، لیکن جونہی پاکستانی فوج نے نواز شریف کو کنارے لگایا، آل سعود نے بھی شریف فیملی کو گھاس ڈالنا ختم کر دیا۔

سعودی عرب کے عالم اسلام بالخصوص مسلمانوں کے دو بڑے مسائل فلسطین اور کشمیر کے بارے میں جو تصورات و تاثرات ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ فلسطین کے حوالے سے آل سعود اور اسرائیل ایک صفحے پر ہیں۔ دوسری طرف کشمیر کو وہ عالم اسلام کا مسئلہ بنانے کے سخت مخالف ہیں اور پاکستان کو بھی اس بات کی تلقین کرتے رہتے ہیں کہ ہندوستان کی اجارہ داری کو قبول کر لے۔ آج جب کشمیر میں مظلوم کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنے عروج پر ہے اور گذشتہ 5 اگست سے آج تک کشمیری سخت ترین کرفیو میں ظلم و ستم، قتل و غارت اور عزت و ناموس کو پامال کرنے والی ہندوستانی فوج کے رحم و کرم پر ہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور وہاں سے بن سلمان کے کہنے پر ان کے نجی طیارے پر نیویارک گئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت اور عمران خان کے متوالوں کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا کہ وہ پہلے ڈالر لینے کے لیے بن سلمان کے ڈرائیور بنے اور اب بن سلمان کے طیارے میں بیٹھ کر امریکہ پہنچے ہیں۔ بن سلمان کے احسانات تلے دبا عمران خان کشمیریوں کے حقوق کے لیے تو کچھ نہ کرسکا، البتہ امریکہ تک کا اپنا اور اپنے وفد کا کرایہ بچانے میں کامیاب رہا۔ پاکستانی قوم اس بچت پر اپنے وزیراعظم کو یقیناً سلام پیش کرے گی۔

عمران خان نے اس مفت سفر سے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو ایک اور بڑے دھچکے سے بچالیا ہے، اس سے پہلے وہ اسلام آباد میں بن سلمان کی گاڑی خود ڈرائیو کرکے ڈرائیور کا خرچہ بچا کر پاکستانی اقتصاد کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا چکے ہیں۔ رہ گیا کشمیر کا مسئلہ تو اس کے بارے میں اتنی جلدی ہی کیا ہے، ابھی تو وادی کشمیر میں کرفیو کو دو ماہ مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ بن سلمان کے خصوصی طیارے میں کشمیر کے بارے میں خصوصی گفتگو یقیناً ممنوع ہوگی، البتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیراعظم خوب چہکیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت سعودی عرب کا وفد گجرات کے قصائی اور کشمیریوں کے قاتل نریندر مودی کے ساتھ اپنے وعدوں کو دہرا رہا ہوگا۔ علامہ اقبال کے بقول
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں محبوس 
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیاد
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت کردار ہے نے جدت گفتار

کشمیریوں کو اپنی تحریک اپنے بل بوتے پر چلانا ہوگی، اگر انہوں نے کسی اور سے امیدیں وابستہ رکھیں تو کس بھی وقت کوئی بھی ان کے خون کا سودا کرسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 817598
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب