0
Monday 23 Sep 2019 09:22

اغیار کی موجودگی، مسائل کی جڑ

اغیار کی موجودگی، مسائل کی جڑ
اداریہ
ایران میں گذشتہ روز سے ہفتہ دفاع مقدس کا آغاز ہوگیا ہے۔ 22 ستمبر 1980ء کے دن عراقی ڈکٹیٹر صدام نے سامراجی طاقتوں کے اشارے پر ایران کے نوخیز انقلاب کو ختم کرنے کیلئے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا اور شروع کے چند ماہ میں صدامی فورسز نے کئی ایرانی سرحدی شہروں اور دیہاتوں پر قبضہ کر لیا، جس میں سب سے اہم شہر "خرم شہر" تھا۔ ایران کی قیادت، حکومت اور عوام نے کچھ عرصے بعد اپنی قربانی، جانثاری اور دلیری و بہادری سے مقبوضہ علاقے صدام سے واپس لے کر صدام کے مغربی، مشرقی اور عرب اتحادیوں کو حیران و ششدر کر دیا۔ ایران میں ہر سال جنگ کے آغاز کی مناسبت سے مختلف تقاریب منعقد ہوتی ہیں اور ملک بھر میں ہفتہ دفاع مقدس شایان شان طریقے سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے تہران میں مسلح افواج کی پریڈ ہوتی ہے، جس میں ایران کے صدر خطاب کرتے ہیں۔ اس سال کی پریڈ میں صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے علاقائی اور عالمی حوالے سے بعض اسٹریٹجک نکات کی طرف اشارہ کیا ہے۔

ایرانی صدر نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مختلف ممالک میں بظاہر جمہوریت کی بحالی، دہشتگردی کے خاتمے اور امن و سلامتی کی برقراری کے نام پر داخل ہوا، لیکن امریکہ کی یہ فوجی مداخلت ان ممالک کی تباہی کا باعث بنی، اس کی چند مثالیں افغانستان، شام اور عراق ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران جن ممالک میں بھی گیا، ان ممالک کی درخواست پر گیا اور ایران کی شمولیت ان ممالک میں امن و سلامتی اور سیاسی استحکام کا باعث بنی۔ امریکہ مختلف ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں اپنی مداخلت کو امریکی حق سمجھتا ہے، لیکن ایران کی شمولیت اور موجودگی کو اثر و رسوخ میں اضافہ اور دہشتگردی کی حمایت کا نام دیتا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی کے بقول امریکہ اور اسرائیل کی دلی خواہش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک ہمیشہ آپس میں دست بگریبان رہیں اور ان کی توانائیاں دشمن کی بجائے آُپس میں استعمال ہوں۔

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی سامراجی پالیسیوں کے ذریعے عراق، شام، لبنان وغیرہ کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران کی بروقت شمولیت اور استقامتی بلاک کی مضبوطی امریکی سازش کے راستے میں رکاوٹ بن گئی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنی گفتگو میں خطے کے بعض ممالک کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ اپنے ماضی کی غلطیوں سے تائب ہو کر علاقائی اتحاد میں واپس آجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم علاقے کے بعض ممالک کی ماضی کی غلطیوں کو نظرانداز کرنے کے لئے تیار ہیں، کیونکہ علاقے کے دشمن خاص طور پر امریکی سامراج اور صہیونزم علاقے  کے ممالک کے درمیان باہمی اختلافات اور دوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صدر ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقوام متحدہ میں Hormuz peace Initiativ اور Coalation of hope کا نظریہ نظریہ پیش کریں گے۔ صدر ایران نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ علاقے کی سکیورٹی علاقائی ممالک کے ذریعے ممکن ہے، اغیار کی موجودگی مسائل و مشکلات کی بنیادی و اساسی وجہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 817887
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب