2
Wednesday 25 Sep 2019 07:17

ایران نے افغانستان میں بھی امریکہ کی ناک رگڑ دی

ایران نے افغانستان میں بھی امریکہ کی ناک رگڑ دی
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

نائن الیون کے واقعہ کو بنیاد بنا کر امریکہ نے عراق اور افغانستان پر جارحیت کرکے پنجے جمائے تھے، اسوقت عراق میں ایران کی حامی اور ایران کی حمایت یافتہ عوامی فورسز کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر ہونیوالے حملوں سمیت حزب اللہ لبنان کی طرح طاقتور جماعت علاقے کی جارح طاقتوں کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان جنگجووں کو روس اور چین میں زبردست پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ عین وقت پہ عرب دوستوں کے ذریعے افغان طالبان کیساتھ جاری مذاکرات کے خاتمے کے اعلان میں امریکہ کی ایک اور شکست پنہاں ہے، ان مذاکرات کے دوران ہی افغان طالبان نے ہمسایہ اسلامی ملک ایران کو اعتماد میں لینے اور تہران سے مشاورت کا عندیہ دیا تھا۔ یہاں محوری نکتہ یہ ہے کہ عراق اور افغانستان میں آنیوالی امریکی افواج کا ایک مقصد ایران کو محصور کرکے اسرائیل کی سکیورٹی کو یقینی بنانا تھا، یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

امریکہ کو ہزیمت کا سامنا بھی ہے، علاقائی طاقتوں کے ایران کیساتھ تعلقات بہتر ہوچکے ہیں، کسی کندھے پہ بندوق رکھ کر ایران کو نشانہ بنانے کی امریکی ترکیبیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔ آل یہود اور آل سعود خوف میں مبتلا ہیں، ان سے کچھ بن نہیں پا رہا۔ چین ایران میں چار کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، گوادر میں ایرانی بجلی استعمال ہو رہی ہے، ترکی اور روس ایران کیساتھ مل کر سعودیہ کو دیئے گئے میزائل ڈیفنس سسٹم کا مذاق اڑا رہے ہیں، نظام ولایت کے زیر سایہ ظہور امام مہدی علیہ السلام کے لیے ہونیوالی تیاریوں کو ریاض میں تسلیم کیا جا رہا ہے، حرمین شریفین پر قابض رجیم کا اسلام کے لبادے میں منافقانہ کردار اور مکروہ چہرہ مسلمانوں کے سامنے مسلسل بے نقاب ہو رہا ہے، ٹرمپ کی زیرصدارت ریاض میں ہونیوالی سعودی مسلکی عسکری اتحاد کے مرکز کے افتتاح کی تقریب کے بعد مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیراعطم مودی کو دیئے گئے میڈلز نے یہود و ہنود اور سعود کی منحوس مثلث کے مشترکہ مذموم مقاصد کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

بطور پاکستانی ہمارا سب سے زیادہ کنسرن افغانستان تھا، جن ادوار میں امریکی اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا، آج اسے غلطی تسلیم کیا جا رہا ہے، پاکستانی حکمرانوں نے امریکی اور سعودی ایماء پر ایران کے خلاف براہ راست اپنی سرزمین کو استعمال نہ کرنے دینے کی جو پالیسی اختیار کیے رکھی، اس کی تعریف کی جا رہی ہے، اقوام عالم کے اجتماع میں کشمیریوں کے قاتل بھارتی وزیراعظم اور افغانوں کے لیے جلاد امریکی صدر نے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے پاک، ایران، چین اور روسی بلاک کے مضبوط ہو کر ابھرنے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان طالبان کے وفد نے چین کا باضابطہ دورہ کیا ہے، چین کئی سالوں سے افغان طالبان کے رابطے میں ہے، کشمیر پر چین کا اپنا کنسرن ہے، پاکستان اور چین کا موقف ایک ہے، افغان طالبان سے مذاکرات روکنے یا ختم کرنے کے امریکی اعلان سے علاقائی طاقتوں کیلئے میدان بالکل صاف ہوگیا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ایران، روس اور چین کو اعتماد میں لیکر افغان طالبان افغانستان میں حکومت کا اعلان کرینگے، جو موجودہ صورتحال کے تقاضوں کے مدنظر گذشتہ طالبان حکومت سے یکسر مختلف ہوگی، امریکہ کو ذلت آمیز انخلاء بھی نصیب نہیں ہوگا۔ اسی بابت پوری دنیا میں یہ ایشو زیربحث ہے، بی بی سی نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان دوحہ میں بات چیت کے بعد ایک معاہدے پر رضا مندی ہوتی نظر آرہی تھی، لیکن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کر دیا۔ اس کی وجہ کابل میں ہونے والا وہ دھماکہ بتائی گئی، جس میں امریکی فوجیوں سمیت 12 افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ مذاکرات کے دوران بھی طالبان حملے کر رہے تھے؟ گذشتہ ایک سال میں افغانستان میں ديگر حملوں میں اور بھی کئی امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ تو کیا پھر امریکہ کی امن مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کی وجہ کیا واقعی وہ حملہ تھا، جس کی بات ٹرمپ کر رہے ہیں۔؟

اس کی وجہ یہ تھی کہ 15 مہینے جاری رہنے والے ان مذاکرات میں امریکہ وہ حاصل نہیں کرسکا، جس کی اسے امید تھی۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کا جو وقت تھا، وہ سیاسی اعتبار سے ٹرمپ انتظامیہ کو مشکل میں ڈال سکتا تھا، دستخط کی تاریخ اس وقت پڑتی، جب امریکہ پر ستمبر دو ہزار گیارہ میں ہونے والے حملے کی برسی تھی۔ ایسے میں اسی موقع پر طالبان کو امریکی سرزمین پر لانا ایک پبلیسٹی ڈزازسٹر ہوسکتا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کو دیر سے اس بات کا احساس ہوا اور اسی لیے اس نے مذاکرات کو ختم کر دیا، کیونکہ امریکہ افغانستان میں داخل ہی تب ہوا تھا، جب طالبان نے 9/11 کے حملوں کے بعد القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کو سونپنے سے بظاہر انکار کر دیا تھا۔ افغان امور کے پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے فوجی کمانڈر مکمل طور سے افغانستان سے انخلا نہیں کریں گے۔

پہلی دفعہ واضح طور پر مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور ایرانی اثرورسوخ کیوجہ ان مفادات کو لاحق خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حال ہی میں سعودی عرب کی تیل کی کمپنی آرامکو پر ہوئے ڈرون حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کا موجود رہنا اور اس کے فوجی اڈوں کی اسٹریٹیجک طور پر موجودگی اہم ہے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جنگ کی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، اگر ایسا ہوا تو امریکہ اپنے اتحادی سعودی عرب کی حمایت کے لیے آئے گا، تب افغانستان میں اس کی افواج کی موجودگی اس کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، ایران اور افغانستان کی سرحدیں آپس میں متصل ہیں۔ ایسے میں جنگ کی صورتحال میں امریکہ اپنے فوجیوں کو افغانستان میں اتار کر ایران پر زمینی کارروائی کرسکتا ہے، امریکہ میں جو ایران پر نظر رکھنے والے اہلکار ہیں، وہ نہیں چاہیں گے کہ امریکی فوجی افغانستان سے انخلا کریں، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ کی صورتحال میں افغانستان وہی کردار ادا کرسکتا ہے، جو عراق کی جنگ کے دوران قطر نے کیا تھا، جنگ کے دوران زمینی حملہ کرنے کا ہمیشہ اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستانی تجزیہ کاروں کے یہ تبصرے حقیقی ہیں، جو کئی سالوں تک زبانوں پر نہیں آئے کہ خطے میں ایران کی اصولی سیاست اور ظالم و جارح امریکی استعمار کیخلاف مزاحمت کے نتیجے میں مغربی طاقتوں اور عرب و غیر عرب اتحادیوں کو شکست کا سامنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 818202
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب