0
Thursday 26 Sep 2019 09:24

بیرونی سفارتکاری سے اندرونی جمہوریت تک

بیرونی سفارتکاری سے اندرونی جمہوریت تک
اداریہ
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے گذشتہ روز جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کے موقف کو بڑے جامع انداز میں پیش کیا۔ مختصر وقت میں صدر ایران نے امریکی چہرے کو بے نقاب کیا اور اپنی حقانیت کو بھی دلائل کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیا۔ صدر ایران نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کو امریکہ کی ہٹ دھرمی اور سفارتی اقدار سے فرار قرار دیا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے بڑی وضاحت کے ساتھ کہا کہ مذاکرات لین دین کا معاملہ ہوتا ہے, امریکہ نے اگر کم سے کم لیا ہے تو کم سے کم دیا بھی ہے, بلکہ اب تو اس سے بھی انکاری ہے. اگر امریکہ زیادہ لینا چاہتا ہے تو اسے زیادہ دینا بھی پڑے گا۔ صدر ایران نے امریکہ کی طرف سے مختلف ممالک کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کو امریکی حکام کا نشہ قرار دیا اور کہا امریکہ کو پابندیاں لگانے کی لت پڑ گئی ہے۔ نشے کے عادی افراد کو اگر بروقت نشہ نہ ملے تو وہ ہر کام کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ صدر ایران نے امریکی پالیسی سازوں کو نشئی قرار دے کر ان کی حقیقی ماہیت اور مائنڈ سیٹ کی صحیح عکاسی کی ہے۔

صدر ایران کے خطاب سے پہلے بلکہ نیویارک جانے سے پہلے ہی عالمی میڈیا میں یہ ماحول پیدا کیا گیا تھا کہ اجلاس کے موقع پر صدر روحانی اور ڈونالڈ ٹرامپ کی ملاقات ہوگی۔ اس پراپیگنڈے کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ اگر ایرانی صدر ٹرامپ سے ملاقات پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو نہ صرف ایرانی موقف کمزور ہو جائے گا بلکہ استقامتی و مزاحمتی بلاک میں بھی دراڑ پڑنے کا امکان تھا۔ دوسری صورت میں اگر حسن روحانی نے ملاقات سے انکار کر دیا تو یہ پراپیگنڈا کرنے میں آسانی ہو جائے گی کہ ایران مذاکرات اور بات چیت نیز سفارتکاری پر یقین نہیں رکھتا۔ صدر روحانی نے اپنے خطاب میں اس منفی پراپیگنڈے کو بڑی خوبصورتی سے روکنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ فوٹو سیشن کسی کامیاب مذاکرات کے بعد ہوتے ہیں نہ پہلے۔

صدر روحانی نے جہاں خلیج فارس اور ہرمز و بحیرہ عمان کی سلامتی کے بارے میں نئے فارمولے پیش کیے ہیں، وہاں عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو دو نکاتی اینجنڈے کی طرف متوجہ کیا ہے اور وہ دو نکات بیرونی سفارتکاری اور اندرونی جمہوریت ہے۔ صدر روحانی کے بقول عالمی مسائل جنگ و جدل، دھونس، دھمکی اور دھاندلی سے نہیں بلکہ سفارتکاری سے حل کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح ملکوں کے اندر جمہوری اقدار اور جمہوری رویوں، عوام کی آواز اور مظلوموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی کے اس دو نکاتی فارمولے کے تحت امریکہ نہ صرف عالمی سطح پر سفارتی اصولوں پر کاربند نہیں ہے بلکہ وہ امریکی عوام کے جمہوری مطالبات پر توجہ بھی نہیں دے رہا ہے۔ امریکی صدر دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کی تک و دو میں مصروف ہیں، جبکہ داخلی طور پر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے جا رہی ہے۔ امریکہ نہ بیرونی ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے، نہ اندرونی ڈیموکریسی کو قبول کرتا ہے اور کسی بھی سامراجی طاقت کی یہ ہم ترین نشانی ہوتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 818436
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب