0
Friday 27 Sep 2019 09:03

امریکہ اور یورپ اسلام دشمنی میں

امریکہ اور یورپ اسلام دشمنی میں
اداریہ
ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو مشرق و مغرب کی سپر طاقتوں نے اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کرنا شروع کر دیا، شروع شروع میں دونون سپر طاقتوں یعنی امریکہ اور سویت یونین نے انقلاب کی لہر کے سامنے آکر ٹکرانے کی بجائے اس پر سوار ہو کر اس پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا ارادہ کیا، لیکن جب اس انقلاب کی قیادت اور عوام نے سامراجی طاقتوں کو اس انقلاب کو اپنی مرضی سے چلانے کا موقع نہ دیا تو پوری دنیا مخالفت پر اتر آئی، کمیونزم اور کیپٹلزم دونوں عالمی نظام خم ٹھونک کر میدان میں آگئے اور ایران کے اسلامی انقلاب کو نابود کرنے پر تل گئے۔ اسی اور نوے کے عشرے میں شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو، جس پر امریکہ اور سویت یونین متفق ہوں، لیکن ایران کے اسلامی انقلاب کو مٹانے میں دونوں ایک ہی صفحے پر تھے، جس کی ایک مثال ایران کے خلاف صدام کی حوصلہ افزائی اور دونوں کا مل کر صدام کو فوجی و اقتصادی لحاظ سے ایران کے خلاف حمایت کرنا ہے۔ اس دوران اپنے آپ کو ایک علیحدہ قوت سمجھنے والی یورپی یونین بھی امریکہ اور سویت یونین سے پیچھے نہ رہی اور 28 کے قریب یورپی ممالک پر مشتمل یورپی یونین ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف امریکہ کا بھرپور ساتھ دیتی رہی۔

اقتصادی پابندیاں ہوں، صدام کی حمایت ہو یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام ہوں، یورپی ممالک امریکہ کے شانہ بشانہ ایران کے خلاف سرگرم عمل رہے۔ امریکہ اور یورپ کے طرز عمل بلکہ حربے اور ٹیکنیک میں ضرور فرق تھا، لیکن دونوں کا ہدف و مقصد ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنا تھا۔ امریکہ صرف چھڑی کی پالیسی پر عمل کرتا، لیکن یورپی کبھی کبھی گاجر کی پالیسی پر عمل کرنے کی کوشش کرتا، لیکن مقصد اور ہدف میں دونون ایک تھے۔ یورپ نے مذاکرات کا ڈول ڈالا اور طویل عرصے تک مذاکرات کرتا رہا، یہاں تک کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران کے صدر سید محمد خاتمی کے زمانے میں ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اضافی پروٹوکول پر دستخط کرانے میں کامیاب ہوگیا، بعد میں یورپ نے امریکہ کو بھی ایٹمی مذاکرات میں شامل کیا اور پانچ جمع ایک کی صورت میں ایک عالمی فورم تشکیل پایا، جس میں تین یورپی ممالک فرانس، برطانیہ، جرمنی اور چین و روس کے ساتھ امریکہ شامل ہوا۔ کئی برس کی سفارتکاری کے بعد ایک عالمی معاہدہ تیار ہوا، لیکن صدر ٹرامپ نے برسراقتدار آتے ہی اس عالمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا۔

یہاں پر یورپ کو امریکہ بہادر کو واپس لانے یا معاہدے کی شقوں پر عمل کرنا چاہیئے تھا، لیکن یورپی ٹرائیکا نے درپردہ امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا اور مختلف حیلے بہانوں سے اس معاہدے پر عمل درآمد کو التوا میں ڈال دیا۔ گیارہ سے زائد وعدے کرکے بھی یورپی ٹرائیکا اس عالمی معاہدے کی شقوں پر عمل نہ کرسکی۔ آخر کار یورپی ممالک کی چھپی نیتیں سامنے آنا شروع ہوگئیں اور انھوں نے ایران کو امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا، جس کی ایک مثال نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فرانس اور برطانیہ کے وزرائے اعظم کا صدر روحانی کو امریکی صدر کے ساتھ ملاقات پر مجبور کرنا تھا۔ ایران کی قیادت یورپی ٹرائیکا "فرانس، برطانیہ، جرمنی" کے ارادوں پر نطر رکھے ہوئی تھی اور اسے مختلف مواقع فراہم کر رہی تھی، لیکن جیسا کہ پیشگوئی کی جا رہی تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ نے امریکی اشاروں کے بغیر عالمی سطح پر کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا تھا۔

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے بھی اس کے تمام عہدوپیمان جھوٹے ثابت ہوئے وہ امریکہ کی گود میں جا بیٹھا۔ یورپی یونین کے لیے اس اہم مسئلہ میں عالمی سفارتکاری میں ایک بڑا مقام پیدا کرنے کا موقع مل گیا تھا، لیکن یورپ نے اپنے کمزور ارادے اور انجانے خوف کے ساتھ ساتھ اسلام سے دشمنی کی وجہ سے اس موقع کو گنوا دیا، اسی لیے تو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ماہرین اور مجتھدین کی کونسل "مجلس خبرگان" سے ملاقات میں یورپ کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا کہ "یورپی ملکوں نے اپنے وعدوں کے برخلاف امریکی پابندیوں کے متعلق کوئی بھی عملی اقدام نہیں کیا اور آئندہ بھی بعید نظر آتا ہے کہ وہ ایران کے فائدے کے لیے کچھ کرین گے، لہذا یورپ والوں سے امید ختم کر لینی چاہیئے۔ اپ کا کہنا تھا ایران سے یورپی ملکوں کی دشمنی کی وجوہات امریکہ سے اصولی طور پر مختلف نہیں، یعنی جن وجوہات کی وجہ سے امریکہ ایران کا دشمن ہے، یورپ بھی انہی وجوہات کی بنا پر ایران کا دشمن ہے اور وہ وجوہات اسلام اور اسلامی نظام کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
خبر کا کوڈ : 818607
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب