1
Saturday 28 Sep 2019 08:53
سفارتکاری، اعلان جنگ اور احتجاج کا انوکھا امتزاج

عمران خان وائس آف کشمیر، ٹاپ ٹرینڈ

عمران خان وائس آف کشمیر، ٹاپ ٹرینڈ
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

کشمیر میں مسلسل لاک ڈاون کے بعد اس تنازعہ نے ایک نیا رخ حاصل کر لیا ہے، کشمیریوں کی مشکلات اپنی جگہ لیکن انکا مطالبہ استصواب رائے کا حق حاصل کرنا ہے، یعنی انڈیا سے آزادی۔ اس سلسلے میں ابھی موجودہ حکومت کوئی ٹھوس پالیسی سامنے نہیں لا سکی، ایک مہم ہے جو جاری ہے، سلامتی کونسل میں عمران خان کا خطاب اسکی ایک کڑی ہے۔ شاید یہی پالیسی ہے کہ جہاد کشمیر کیلئے غیر ریاستی اور ریاستی عساکر کو خفیہ اور اعلانیہ دخل اندازی کیلئے بھیجنے کی بجائے کشمیر کا مقدمہ میڈیا اور رائے عامہ کو فوکس کر کے لڑا جائے۔ جس کے نتیجے میں کشمیریوں کو حوصلہ بھی ملے، عالمی سطح پر بھارت بے بقاب بھی ہو، پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا الزام بھی نہ لگایا جائے، کشمریوں کو استصواب رائے کا حق بھی مل جائے، یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے، لیکن سفارت کاری کے ناکام ہوجانے کی صورت میں جنگ کیلئے بھی تیاری موجود ہے۔ موجودہ دور سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور ہے۔

جدید دنیا کو جب یہ بتایا جا رہا ہے کہ کشمیر میں مواصلات اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی بند ہے تو انہیں پانی کی بندش سے بھی زیادہ احساس ہوتا ہے کہ کشمیری کتی مشکل میں ہیں، یہ اس زمانے کی حقیقت ہے۔ حکومت اور ریاست کی سیاسی اور سفارتی کوششیں اپنی جگہ پہ جاری ہیں، جس سے یہ کہنا مناسب نہیں کہ یہ معاملہ صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان انہیں خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کے حوالے سے ٹوئٹر تعریقی پیغامات سے بھر گیا جبکہ عمران خان وائس آف کشمیر، عالمی پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ سفارت کاری اور تقریروں کے دوران کمال مہارت سے عمران خان نے پاک فوج کے مورال کو بلند کیا ہے، ایک نئی روح بھونکی ہے، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ جب عمران خان سلامتی کونسل میں تقریر کر رہے تھے اسوقت فوجی بیرکوں کو نعرے بلند ہو رہے تھے۔

جیسا کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے وزیراعظم کے خطاب کو اپنے انداز میں سراہا۔ ترجمان پاک فوج نے ٹوئیٹ کیا 27 فروری سے27 ستمبر، ایک اور سرجیکل اسٹرائیک۔ واضح رہے کہ27 فروی 2019ء کو بھارتی فوج کی جارحیت کے جواب میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے بھارت کے 2 طیارے مارے گرائے تھے جب کہ ایک پائلٹ (ابھی نندن) کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ایک اور ٹوئٹ میں ترجمان پاک فوج نے وزیراعظم کے آخری گولی اور آخری سانس تک لڑنے کے بیان اور عزم  کو سراہا۔ عمران خان کے وسیم اکرم پلس وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ چند ماہ کے دوران عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے، ان کی کشمیری عوام کیلئے جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ اب دنیا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو ہر گز نظر انداز نہیں کرسکتی۔

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے ٹوئٹ میں لکھا کہ پہلی بار کشمیریوں کے مصائب دنیا کے سامنے بہترین انداز میں بیان کئے گئے ہیں، وزیراعظم نے اپنے وعدے کو پورا کردکھایا وہ کشمیر کاز کے چیمپیئن ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ نے وزیراعظم کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ زبردست مسٹر خان نے آپ نے کردکھایا۔ پاک سر زمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے ٹوئٹ کیا کہ وزیراعظم نے کشمیر کا مقدمہ بہادری کے ساتھ لڑا اور اسلامو فوبیا پر بھی بات کرنے کی ہمت کی جو کہ اس سے قبل کسی مسلم رہنما نے نہیں کی۔ میزبان اور کمنٹیٹر فخر عالم نے وزیراعظم کی تقریر کو کرکٹ کمنٹری کے انداز میں سراہا،ان کا کہنا تھا کہ پہلا اوور موسمیاتی تبدیلی پر تھا جس پر کیچ کرنے کے ساتھ بولڈ بھی کیا، دوسرا اوور منی لانڈرنگ پر تھا جس میں ایل بی ڈبلیو کیا، تیسرے اوور میں اسلامو فوبیا کو رن آؤٹ کیا اور چوتھے اوور میں مودی اور آرایس ایس کو کلین بولڈ کردیا،،فخر عالم کے مطابق یہ عمران خان کی زندگی کا سب سے اہم ، معنی خیز اور تباہ کن اسپیل تھا۔

سوئیڈن کی یونیورسٹی میں پروفیسر اور انڈیا سے تعلق رکھنےو الے معروف ماہر بین الاقوامی امور اشوک سوین نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ عمران خان نے توقع کے مطابق جنرل اسمبلی میں کشمیر سے متعلق زیادہ باتیں کیں تاہم اس کے ساتھ انہوں نے آر ایس ایس کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردوں کو تربیت فراہم کررہی ہے جو مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں، یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہندو توا دہشت گردی کا ذکر اقوام متحدہ اور کسی بین الاقوامی تنظیم کے سامنے ہوا ہے۔ امریکی صحافی اور سوشل میڈیا پر پاکستان پر رپورٹنگ کے حوالے سے معروف خاتون سنتھیا ڈی رچی نے  وزیراعظم کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی چیز پاکستان کو متحد کرسکتی ہے تو وہ مودی کی جانب سے کشمیر میں کئے گئے اقدامات ہیں، اکثر اوقات بحران ہی انسانوں کو متحد کرتے ہیں۔ دنیا کو مستقل اور واضح پیغام کے ذریعے ہی کشمیریوں کی مدد پر قائل کیا جاسکتا ہے۔

اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج وزیراعظم عمران خان نے ثابت کیا کہ وہ پاکستان اور کشمیر کے ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیڈر ہیں اور دنیا میں انسانیت اور اسلام کی بڑی آوازوں میں سے ایک ہیں۔ سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم محمد حفیظ نے ٹوئیٹ میں کہا کہ عمران خان ایک مضبوط ، خوددار اور بے خوف شخصیت ہیں،مجھے اپنے پاکستانی اور مسلمان ہونے پر فخر ہے کہ میرا آپ جیسا لیڈر ہے۔ معروف وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے ٹوئٹ کیا کہ عمران خان نے کشمیر میں بے جے پی کی زیر قیادت بھارتی ظلم و بربریت کی نہ صرف وجوہات بیان کیں بلکہ ان کے نتائج پر اپنے خدشات کا بھی اظہار کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے ٹوئٹ کیا کہ اگر اقوام متحدہ مقوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت پر کچھ نہیں کرتا تو پھر اس ادارے کی موجودگی کا کیا مقصد بچتا ہے۔

بوم بوم آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ اس تقریر کا بے تابی سے انتظار کررہے تھے،ہمیں اپنے وزیراعظم پر فخر ہے جنہوں نے فرنٹ سے لیڈ کرتے ہوئے ہم سب کے دلوں کی ترجمانی کی۔ راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے آج ثابت کیا کہ وہ پاکستان اور اسلام کے بہترین ترجمان ہیں، وہ برصغیر میں امن کے سفیر ہیں اور عالمی رہنما بن کر ابھر رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے بھی وزیراعظم کی تقریر کی تعریف میں ٹوئٹ کیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی 74 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی نفری تعینات کی اور کرفیو لگاکر 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا۔

ان کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افرادکو جانوروں کی طرح بند کیا ہوا ہے، یہ نہیں سوچا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو کیا ہوگا، دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی منڈی ہے، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھنے پر خونریزی ہوگی، دنیا نے سوچا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا کشمیریوں پر کیا اثر ہوگا۔ آخر میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اقوام متحدہ کیلئے ٹیسٹ کیس ہے، اقوام متحدہ ہی تھا جس نے کشمیریوں کو حق خودارادیت کی ضمانت دی تھی۔ اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات کے بعد عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائے۔ سوشل میڈیا میں عمران خان کی تقریر پر ابتدائی بحث کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن وقت کیساتھ ساتھ یہ تقریر بہت سے موضوعات پر گفتگو کا سبب بنے گی، بالخصوص مغربی دنیا اور جدید ذہن کو جھنجھوڑنے کیلئے اس خطاب میں خطیر مواد موجود ہے۔ پاکستانی رائے عامہ کو الجھانے کی بجائے دیر پا کشمیر پالیسی کے حوالے سے فضاء بنانے کی ضرورت ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 818761
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب