0
Saturday 28 Sep 2019 09:02

عالمی نظام سے نفرت اور بیزاری

عالمی نظام سے نفرت اور بیزاری
اداریہ
گذشتہ چند دنوں سے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بہانے ایک عالمی سیاسی میلہ اپنے عروج پر ہے۔ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق سال میں ایک مرتبہ تمام دنیا کے سربراہان مملکت اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہوتے ہیں اور دس سے پندرہ منٹ کی تقریر میں اپنے موقف کا اظہار کرتے ہیں۔ عینی شاہدوں کے مطابق جنرل اسمبلی کے اس اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے اردگرد اور اس کے مخصوص انکلوژر میں میلے کا سماں ہوتا ہے، اس اجلاس میں بعض ایسے سربراہان مملکت بھی شریک ہوتے ہیں، جو پہلی بار امریکہ کو قریب سے دیکھتے ہیں۔ اس بار کا عالمی سیاسی میلہ بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا، البتہ اس میں چند ممالک کے سربراہوں کے علاوہ کسی اور کی خبریں عالمی میڈیا کی خصوصی توجہ کا باعث نہ بن سکیں۔

ہندوستان، پاکستان، ایران، ترکی اور امریکہ کے سربراہان مملکت میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے اور ان کے جنرل اسمبلی کے خطابات کو بھی خصوصی کوریج ملی۔ ان ممالک کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں نے مرکزی خطاب کے علاوہ جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائن پر بیسیوں ملاقاتیں کیں، بعض ممالک کی میٹنگز کی تعداد سو کے لگ بھگ جا پہنچی ہے۔ امت مسلمہ کے حوالے سے پچاس سے زائد مسلمان ممالک ہونے کے باوجود مسلمانوں کو اقوام متحدہ میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں ہے۔ مسلمان ممالک کے سربراہان مملکت انفرادی حیثیت سے اپنا موقف بیان کرتے ہیں، البتہ اس بار پاکستان، ملائشیا اور ترکی نے مشترکہ اجلاس منعقد کرکے کچھ اچھے اقدامات کا اعلان کیا۔ کاش اس ٹرائیکا میں ایران جیسا آزاد و  خود مختار ملک بھی شریک ہو جاتا تو اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔

جنرل اسمبلی کے خطابات پر نظر رکھنے والے اکثر تجزیہ کاروں نے مسلمان ممالک کے سربراہوں کے خطابات کو الارمنگ اور خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ ترکی، ایران اور پاکستان کے سربراہوں کی تقاریر کا اگر نچوڑ نکالیں تو اس بات کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان ممالک دنیا کے موجودہ نظام، جس میں اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی شامل ہے، سے خوش اور مطمئن نہیں ہیں۔ مسلمان ممالک کے سربراہوں کی تقاریر میں اقوام متحدہ سے مایوسی اور عالمی برادری سے ناامیدی کی واضح جھلکیاں محسوس ہو رہی ہیں۔ چند ممالک کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی موجودہ نظام سے بیزاری کو محسوس کیا جا سکتا ہے، کیا وہ وقت قریب نہیں آرہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط کو ختم کرکے کسی نئے منصفانہ عالمی نظام کی داغ بیل ڈالی جائے۔؟
خبر کا کوڈ : 818764
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب