0
Sunday 29 Sep 2019 08:37

اسرائیلی اور سعودی حکومتیں ایک صفحے پر

اسرائیلی اور سعودی حکومتیں ایک صفحے پر
اداریہ
اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تین حکومتوں کے نمائندوں نے ایران کے خلاف ایک جیسے الزامات لگائے ہیں۔ سعودی اور صہیونی نمائندوں کی تقاریر کا اگر سرسری انداز میں بھی جائزہ لیا جائے تو ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ دونوں تقاریر ڈونالڈ ٹرامپ کے دفتر یا پنٹاگون آفس میں تیار کی گئی ہیں۔ سعودی اور صہیونی حکومت میں ان الزامات کے علاوہ بھی کئی چیزیں مشترک ہیں، مثلاً سعودی عرب نے پوری دنیا میں انتہاء پسندی اور تکفیری دہشتگردی پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صہیونی حکومت نے بھی سعودی حکومت کے تیار کردہ دہشتگردوں اور انتہاء پسندوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ شام اور عراق میں داعش سمیت دیگر دہشتگردوں کے پیچھے سعودی سرمایہ تھا جبکہ میدان میں فنی امداد اور زخمی ہونے کی صورت میں سہولیات کی فراہمی صہیونی حکومت کے ذمہ تھی۔

صہیونی حکومت نے اگر غزہ کا کئی برسوں سے محاصرہ کرکے اسے ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے تو سعودی عرب نے یمن پر فضائی، سمندری اور زمینی محاصرہ تنگ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی حکومت اگر فلسطینیوں کے بچوں کا قتل عام کرکے "بچوں کی قاتل" حکومت کے طور پر معروف ہے تو سعودی عرب نے بھی یمن کے بچوں کے قتل عام میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ سعودی عرب نے اسلام میں صہیونزم کو رواج دینے کے لئے ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کے داماد کوشنر سے جو عہدوپیمان کر رکھے ہیں، وہ ایک ایک کرکے سامنے آرہے ہیں۔ فلسطین جو کبھی عرب دنیا کا اہم ترین مسئلہ سمجھا جاتا تھا، آج سعودی حکمرانوں کی وجہ سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی خلیج فارس تعاون کونسل، عرب لیگ اور او آئی سی میں اجارہ داری نے عالم اسلام کے اس اہم مسئلہ اور قبلہ اول کی آزادی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

سعودی عرب میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے تخت نشین ہونے اور محمد بن سلمان کے ولی عہد و وزیر دفاع بننے کے بعد تو کایا ہی پلٹ چکی ہے، صہیونی اور سعودی حکومتیں ایک صفحے پر آچکی ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں سامنے آیا۔ دونوں نے بیک زبان ہو کر یہ کہا ہے کہ ایران آرامکو حملے کا ذمہ دار ہے، لہذا ایران کے خلاف امریکہ کی ظالمانہ پابندیاں اور زیادہ سے زیادہ دباو کی امریکی مہم کا حصہ بنا جائے۔ سعودی اور صہیونی وزرائے خارجہ نے ایران کے خلاف یہ مطالبہ ایسے عالم میں کیا ہے کہ اس خطے میں تماتر بدامنی اور وحشیانہ جرائم کی اصلی ذمہ دار یہ دونوں حکومتیں ہیں۔ عالمی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں یعنی سعودی اور صہیونی حکومتوں نے امریکہ کی حمایت سے اس خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے لئے ہمیشہ خطرات پیدا کئے ہیں اور ان دونوں حکومتوں نے توانائی کے ذخائر اور عالمی معیشت کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔
خبر کا کوڈ : 819011
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب