1
Sunday 29 Sep 2019 22:31

انصاراللہ یمن کی فتح الفتوح

انصاراللہ یمن کی فتح الفتوح
تحریر: علی احمدی

انصاراللہ یمن نے سعودی فورسز کے خلاف نجران میں ایک گرینڈ آپریشن کیا ہے جس کے نتیجے میں سعودی مسلح افواج کے تین بریگیڈ مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور 2 ہزار سعودی فوجی قیدی بنا لئے گئے ہیں۔ یمن آرمی کے ترجمان یحیی سریع نے اس آپریشن کا نام "نصر من اللہ" بتایا اور کہا کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کے آغاز سے اب تک یہ سب سے بڑی فوجی کاروائی تھی۔ ابھی دو ہفتے پہلے ہی یمن نے ڈرون طیاروں سے بقیق میں واقع سعودی عرب کی آرامکو کمپنی کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار 50 فیصد کم ہو گئی تھی۔ یحیی سریع نے بتایا کہ نصر من اللہ گرینڈ آپریشن سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں انجام پایا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت بڑا رقبہ بھی سعودی قبضے سے چھڑوا لیا گیا ہے۔ یاد رہے نجران کا علاقہ ایک متنازعہ علاقہ تھا جس کی تقدیر کا فیصلہ وہاں ریفرنڈم کے انعقاد سے مشروط کیا گیا تھا لیکن 2000ء میں سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے ایک معاہدے کے تحت اسے مستقل طور پر سعودی عرب کے حوالے کر دیا تھا۔
 
سعودی عرب نے اب تک سرکاری سطح پر اس آپریشن کی تصدیق نہیں کی لیکن یمن آرمی کے ترجمان یحیی سریع کے بقول یہ آپریشن گذشتہ کئی ماہ سے شروع ہو چکا تھا۔ یمن آرمی نے اس موقع پر بیانیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: "یمن کی مسلح افواج یمن کی عظیم قوم کو اطلاع دیتی ہے کہ "نصر من اللہ" آپریشن کامیابی سے انجام پایا جو جنگ کے آغاز سے اب تک سب سے بڑا آپریشن ہے۔ یہ آپریشن کئی مراحلوں میں انجام پایا ہے جس میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس آپریشن کے نتائج درج ذیل ہیں:
1)۔ دشمن کی تین بریگیڈ فوج اپنے تمام تر فوجی سازوسامان اور فوجیوں اور کمانڈرز کے ساتھ نابود ہو گئی،
2)۔ سینکڑوں بکتر بند گاڑیوں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوا،
3)۔ دشمن کے سینکڑوں فوجی مارے گئے جبکہ ہزاروں فوجی قیدی بنا لئے گئے ہیں،
4)۔ قیدی بنائے گئے افراد میں بہت بڑی تعداد سعودی فوجی افسران اور کمانڈرز کی ہے۔"
 
انصاراللہ یمن کے ایک باخبر ذریعے نے اسپوتنیک نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کی مسلح افواج اور انصاراللہ یمن کی رضاکار فورس نے یہ آپریشن سعودی عرب کی سرزمین کے 500 کلومیٹر اندر نجران میں انجام دیا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں نہ صرف 350 مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کروا لیا گیا بلکہ بڑی مقدار میں دشمن کے فوجی بھی گرفتار کر لئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام قیدیوں سے اسلامی تعلیمات کے مطابق سلوک کیا ہے۔ انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام نے صحافیوں کو بتایا کہ نصر من اللہ آپریشن پوری جنگ کا کامیاب ترین آپریشن قرار پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو اس عبرتناک شکست سے سبق سیکھنا چاہئے اور فورا یمن کے خلاف جارحیت ختم کر دینی چاہئے۔ انہوں نے سعودی حکام کو خبردار کیا کہ اگر وہ یمن کے خلاف جارحیت نہیں روکیں گے تو مستقبل قریب میں ان پر اس سے بھی زیادہ کاری ضربیں لگائی جائیں گی۔
 
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ درحقیقت سعودی افواج ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی میں مصروف تھیں اور ان کا مقصد انصاراللہ یمن کی رضاکار فورسز کا محاصرہ کر کے بڑے پیمانے پر ان کے افراد کو قیدی بنانا تھا لیکن وہ اچانک انصاراللہ یمن کے گھیرے میں آ گئیں اور ذلت آمیز شکست کا شکار ہونا پڑا۔ محمد بن عبدالسلام نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ سعودی حکام نے یمن جنگ میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلئے ایسا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن انصاراللہ یمن کی کامیاب حکمت عملی کے باعث انہیں برعکس نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس گرینڈ آپریشن کو سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کیلئے ایک عظیم اور عبرتناک شکست قرار دیا اور کہا کہ سعودی اتحاد جلد از جلد یمن کے خلاف جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس فوجی کاروائی کا جلدی اعلان اس لئے نہیں کیا کہ سعودی جنگی قیدیوں کی جان بچ سکے کیونکہ جیسے ہی دشمن اپنی شکست کا احساس کرتا ہے فورا ہوائی حملے شروع کر دیتا ہے۔ بعض سیاسی اور فوجی ماہرین نے طنزیہ انداز میں سعودی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا آپ اس بار بھی اپنی اس شکست کی ذمہ داری ایران پر ڈالیں گے؟
 
خبر کا کوڈ : 819079
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب