0
Monday 30 Sep 2019 23:31

اسلام آباد کا سیاسی پارہ ہائی

اسلام آباد کا سیاسی پارہ ہائی
تحریر: نادر بلوچ

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرکے قوم سے داد تو سمیٹ لی ہے، تاہم انہیں اب اپوزیشن کے ایک بڑے احتجاج کا سامنے ہے، مولانا فضل الرحمان ہر صورت حکومت کو چلتا کرنے کے درپے ہیں تو نون لیگ بھی مولانا کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنا حساب چُکتا کرنا چاہتی ہے۔ گذشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ ہر صورت اسلام آباد آئیں گے اور اس حکومت کو ختم کرکے ہی دم لیں گے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی بری طرح ناکامی کے بعد اب اپوزیشن جماعتیں ایک مرتبہ پھر متحرک ہونا چاہتی ہیں، تاہم ان کیلئے اسٹریٹ پاور ایک بڑا چیلنج ہے، اس وقت اپوزیشن کی سب کی سب جماعتیں مولانا کے دھرنے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ اسٹریٹ پاور یقیناً مولانا فضل الرحمان کے پاس ہے اور وہ مدارس کے ہزاروں طلبہ کو ڈی چوک لانے کی مکمل طور پر صلاحیت رکھتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماوں کا اہم اجلاس طلب کیا، جس کے بعد پی ایم ایل این نے ملک میں عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے، مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی اور واضح کیا کہ نون لیگ نئے الیکشن کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مشکل سے نکالنے کے لیے جلد عام انتخابات ضروری ہیں، حکومت سے چھٹکارا پانے کے لئے مہم چلائیں گے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ اکتوبر کے بجائے نومبر تک مؤخر کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ یہ بھی کہا کہ نون لیگ کو پارٹی کارکنان کو متحریک کرنے کیلئے تھوڑا وقت چاہیئے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی حکومت کے خلاف احتجاج کی دھمکی دے دی ہے، نومبر میں وفاقی دارالحکومت میں تو بہت سخت سردی ہوگی، لیکن سیاسی درجہ حرارت بہت گرم ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے کمر بستہ ہو رہی ہیں تو حکمران جماعت بھی اپوزیشن سے نمٹنے کی مکمل تیاری کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن حکومت مخالف تحریک پر ایک پیج پر آگئیں تو تبدیلی سرکار کیلئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس احتجاج کے نتیجے میں ہوگا کیا؟، اگر حکومت غیر آئینی طریقے سے گئی تو یقیناً فوجی حکومت کیلئے راہ ہموار ہو جائیگی، اگر سیاسی جماعتیں ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ بھی نہیں چاہتیں تو پھر سب کو قومی حکومت کے قیام کیلئے ایک پیج پر آنا پڑے گا اور پھر کم و بیش تین سال تک نئے الیکشن نہیں ہوسکیں گے اور قومی حکومت کے سامنے ایک چیلنج ہوگا کہ وہ ملکی معیشت کو پٹری پر ڈالے اور انتخابی اصلاحات کے بعد الیکشن کی طرف جائے۔

ملکی سیاسی حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکہ کے بعد وطن واپسی کے اگلے ہی دن پارٹی کے پارلیمانی اجلاس کی صدارت کی اور کئی وزارتوں میں تبدلی کا اعلان کر دیا ہے، وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو بھی عہدے سے ہٹا کر شفقت محمود کو لایا جا رہا ہے، جس سے واضح ہے کہ اعجاز شاہ سے جتنا کام لینا تھا، وہ لے لیا گیا ہے۔ اب آگے دما دم مست قلندر ہوگا، اعجاز شاہ جن کے اشارے پر آئے تھے، وہ بھی اب پیچھے ہٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 819298
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب